پشاور: بہنوں نے 'پسند کی شادی' کی اجازت نہ دینے پر والد کو گولی مار دی

لاش تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں دو بہنوں نے مبینہ طور پر 'پسند کی شادی' کی اجازت نہ ملنے پر اپنے والد کو گولی مار کر قتل کر دیا۔

پولیس نے دونوں بہنوں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ابتدائی بیان میں ملزمان خواتین کی جانب سے اپنے والد کو قتل کرنے کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ چھ دن قبل پشاور کے مضافاتی علاقے لڑمہ میں خزانہ پولیس سٹیشن کی حدود میں پیش آیا۔

خزانہ اور چمکنی پولیس سٹیشنوں کے اے ایس پی خان زیب نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ جمعہ کو مقتول مشتاق احمد کے صاحبزادے عبد اللہ نے پولیس سٹیشن میں رپورٹ درج کروائی تھی کہ ان کے والد نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر خودکشی کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

یہ بھی پڑھیے

مہمند: سکیورٹی اہلکار کے قتل کا معمہ

’ایچ آئی وی پازیٹیو‘ ہونے پر خاتون کا مبینہ قتل

جہلم میں پاکستانی نژاد جرمن خاتون کا قتل، شوہر گرفتار

انھوں نے کہا کہ جب پولیس نے ابتدائی تفتیش کی تو پتہ چلا کہ شاید یہ خود کشی نہیں ہے بلکہ قتل کا مقدمہ ہے۔ پولیس کی جانب سے جب مزید تفتیش کی گئی اور مقتول کی دو بیٹیوں خاتمن اور صابیہ کے بیانات قلمبند کیے گئے تو اس سے یہ بات سامنے آئی کہ مشتاق احمد نے خودکشی نہیں کی بلکہ انھیں قتل کیا گیا اور بعد میں ان کی دونوں بیٹیوں نے اس قتل کا اعتراف بھی کر لیا۔

مقتول مشتاق کی عمر 55 سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے اور وہ آٹو رکشہ چلا کر اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتے رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق مقتول کی 22 سالہ بیٹی اور ملزمہ صابیہ پہلے سے شادی شدہ ایک شخص سے شادی کی خواہش مند تھی، لیکن ان کے والد نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا۔

ملزمہ کی دوسری بہن 18 سالہ خاتمن جس نے پولیس کے مطابق اپنے والد پر گولی چلائی اور وہ اس کیس میں گرفتار بھی ہیں، اپنی بہن کی حمایتی تھی اور اکثر اوقات اس شخص سے فون پر باتیں بھی کر لیا کرتی تھیں۔

ملزمان کے بھائی عبد اللہ نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ جس دن ان کے والد قتل ہوئے وہ اس وقت گھر میں موجود نہیں تھے تاہم گھر پہنچنے پر بہنوں نے انھیں بتایا کہ ان کے والد نے خود کو گولی مار کر خود کشی کرلی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی طرف سے پہلے بہنوں کے کہنے پر خودکشی کی رپورٹ درج کروائی گئی تاہم جب تحقیقات ہوئی تو معاملہ کچھ اور نکلا۔

عبد اللہ نے مزید بتایا کہ ان کے والد اکثر اوقات اپنے بیٹیوں کو اس شخص سے فون پر بات کرنے سے منع کرتے تھے اور کبھی کبھار ان کو اس وجہ سے مارتے پیٹتے بھی تھے۔

ان کے مطابق جس دن یہ واقعہ ہوا اس دن بھی والد کی طرف سے صابیہ کو معمولی پیٹا گیا تھا تاہم جب چھوٹی بہن خاتمن کو اس کا علم ہوا تو اس نے جاکر گھر میں پڑا ہوا پستول اٹھا لیا اور والد پر تان لیا۔

عبد اللہ نے کہا کہ ان کے والد کے وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ ان کی بیٹی ان پر کبھی گولی چل سکتی ہے۔ وہ اپنی بیٹی کو بار بار کہتے بھی رہے کہ پستول نیچے کردو اور ان کے حوالے کر دو مگر دوسری جانب ملزمہ کہتی رہی کہ آگے مت آنا اور اس بحث کے دوران اچانک دو گولیاں چل گئیں جس سے ان کے والد موقع ہی پر ہلاک ہو گئے۔

عبد اللہ کے مطابق انھیں بھی اس بات کا اندازہ نہیں ہو سکا ہے کہ آخر ان کی بہن نے کیسے اپنے والد پر گولی چلائی اور ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔

پولیس کے مطابق انھیں قتل کا شبہ اس وقت ہوا جب مقتول کی عمر معلوم کی گئی اور وقوعہ کی تمام تر معلومات لی گئی۔

پولیس کے مطابق عام طور پر 50 سال یا اس عمر کے لگ بھگ افراد میں خودکشی کرنے کا رجحان کم ہی ہوتا ہے کیونکہ اس عمر میں انسان کو زندگی کا کافی تجربہ ہوتا ہے۔

پولیس کے مطابق خودکشیوں کے زیادہ تر واقعات میں ایک گولی کا استعمال ہوتا ہے لیکن چونکہ اس واقعے میں دو گولیاں ماری گئیں لہذا یہاں سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے اور بعد میں اصل حقائق سامنے آئے۔

واضح رہے کہ مقتول مشتاق احمد کی چھ بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں جبکہ ان کی دو بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں