پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے او لیول کی اسلامیات کی کتاب پر پابندی کیوں لگائی؟

کتاب تصویر کے کاپی رائٹ PCTB

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے صوبے بھر کے نجی و سرکاری سکولوں میں کمیرج نظام تعلیم کے گریڈ او لیول میں پڑھائی جانے والی اسلامیات کی کتاب پر حال ہی میں پابندی عائد کی ہے۔

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مصنفہ یاسمین ملک اور سٹیفونا پبلشرز کی شائع کردہ اسلامیات کی کتاب ’اسلام: بلیفس اینڈ پریکٹسز‘ میں قابل اعتراض مواد پائے جانے کے بعد اسے صوبے بھر کے تمام سکولوں میں پڑھائے جانے پر فوری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ یہ کتاب ملک میں کیمرج نظام تعلیم کی نصاب میں تجویز کردہ کتب میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر: فوجی سکولوں میں کتاب پر پابندی

ملائیشیا: ازدواجی تعلقات کی کتاب پر پابندی

دنیا بھر کی چھ متنازع کتابیں

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا کیا کہنا ہے؟

ترجمان پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ سید کاظم مقدس شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کو اس کتاب کے صفحہ نمبر 210 سے 220 میں 'قابل اعتراض مواد' کی شکایات موصول ہوئی تھیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ یہ کتاب پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جاری کردہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جیسا کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق اس کتاب میں چند ایسی باتیں ہیں جو قابل اعتراض ہیں اور ان سے ملک میں مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا اس لیے اس کتاب پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PCTB

انھوں نے بتایا کہ قانون کے مطابق پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے سیکشن 10 کے تحت کوئی بھی ایسی کتاب جو صوبے کے سکولوں میں پڑھائی جا رہی ہو اور اس میں ملک کے خلاف، مذہبی منافرت، ریاستی اداروں اور عدلیہ کے خلاف کوئی بھی ایسا قابل اعتراض مواد ہو اس پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

ترجمان پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا کہنا تھا کہ یہ او لیول میں پڑھائی جانے والی بنیادی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ پرائیویٹ پبلشر کی ریفرنس کتاب ہے جس سے طلبا سالانہ امتحانات کے لیے مدد حاصل کرتے ہیں۔

ترجمان پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے مطابق اس کتاب کے متعلق شکایت وزیر اعظم کی سٹیزن پورٹل پر کی گئی تھی۔ جس کے بعد یہ معاملہ پنجاب اسمبلی میں اٹھایا گیا اور ایوان کی جانب سے اس پر کارروائی کی ہدایت کی گئی تھی۔

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے اس کتاب کا جائزہ لینے اور اس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے فوری اس پر پابندی عائد کی ہے۔ اس پابندی پر مکمل عملدرآمد ہوا یا نہیں اس کے لیے صوبے کے تمام اضلاع کے محکمہ تعلیم کے چیف ایگزیکیٹو آفسروں، اداروں کے سربراہوں اور سکولوں کو اس کتاب کو اس وقت تک نہ پڑھانے کا خط لکھا ہے جب تک اس کتاب کے حوالے سے مزید کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا۔

سید کاظم نے بتایا کہ اس کتاب کے مزید جائزے کے لیے اس کو متحدہ علما بورڈ میں بھیجا گیا ہے تاکہ اس بورڈ کی تجاویز کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

قانونی کارروائی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ متحدہ علما بورڈ جو بھی تجاویز بھیجے گا اس کے تحت پبلشر اور مصنفہ یاسمین ملک کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مصنفہ یاسمین ملک کا موقف

اولیول کی اس کتاب کی مصنفہ یاسمین ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ان کی کتاب پر 'قابل اعتراض مواد' ہونے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی کتاب میں سسلی کی اسلامی جنگ کا ذکر کیا ہے جس میں پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے اعتراض لگایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کو بتایا ہے کہ اس جنگ کا ذکر کرتے ہوئے مورخین ابن تباری، السیوتی اور ابن کثیر کی تصانیف کا حوالہ دیا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے مجھے اس پر کتاب میں فٹ نوٹ لکھنے کا کہا گیا ہے۔ جس پر میں کتاب کے فٹ نوٹ لکھ کر ٹیکسٹ بک بورڈ کو بھجواؤں گی۔'

ان کا کہنا تھا کہ' میں نے صرف تاریخی حوالے دئیے ہیں، معاشرہ مذہب کے بارے میں بہت حساس ہوتا جا رہا ہے۔'

انھوں نے بتایا کہ کتاب میں جو کچھ بھی لکھا وہ تاریخ کی کتابوں سے لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تاریخ دان نہیں ہیں بلکہ انھوں نے اس کتاب کو نصاب کے مطابق صرف مرتب کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کتاب کو ملک میں سنہ 2003 سے پڑھایا جا رہا ہے لیکن پابندی اب لگائی گئی ہے۔

اس پر ترجمان پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں پڑھائی جانے والی تمام کتابوں کو پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ مکمل جائزے کے بعد باقاعدہ این او سی جاری کرتا ہے۔ اس سلسلے میں کافی کام کیا جا رہا ہے بیشتر کتابوں کو این او سی جاری کیا گیا ہے اور باقی ماندہ کا جائزہ جاری ہے۔

سکول اساتذہ کیا سمجھتے ہیں؟

فیصل آباد کے ایک نجی سکول میں او لیول کی جماعت کو اسلامیات پڑھانے والے استاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب صوبے بھر کے نجی سکولوں میں ایک مقبول کتاب ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس کتاب کے سنہ 2003 سے مختلف ایڈیشز مارکیٹ میں دستیاب ہیں اور ان کو سکولوں میں پڑھایا جا رہا ہے تو اب اس پر اعتراض کیوں لگایا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے سکولوں کو جو نوٹیفکیشن بھیجا گیا ہے اس میں 'قابل اعتراض' مواد کی تشریح یا تفصیل نہیں بتائی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کتاب کی پابندی سے کتنے طلبا متاثر ہوں گے؟

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سکولوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے قانون موجود ہیں جس کے مطابق کوئی بھی ایسی کتاب نہیں پڑھائی جا سکتی جس میں ملک، مذہب، ریاستی اداروں کے متعلق کچھ قابل اعتراض مواد موجود ہو۔

انھوں نے بتایا کہ 'اس کتاب کے حوالے سے پہلے سے کچھ شکایات موصول ہوئیں تھی۔'

سکولوں میں اس کتاب سے پڑھانے جانے پر بھی تحفظات موجود تھے کیونکہ یہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی نہیں بلکہ کیمرج کی تجویز کردہ کتاب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں دو لاکھ سے زائد پرائیویٹ سکولز ہیں جن میں سے او لیول اور اے لیول تعلیم دلانے والے سکولوں کی تعداد تقریباً 3000 ہیں۔ ان میں او لیول کرنے والے بچوں کی سالانہ تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے۔

اس کتاب کے علاوہ دیگر کتابیں بھی مارکیٹ میں موجود ہیں کیونکہ یہ ایک ریفرنس کتاب ہے اس لیے بچے دیگر کتابوں کو استعمال کر لیتے ہیں اور انھیں زیادہ فرق نہیں پڑتا۔

اولیول کا نصاب پڑھانے والے اساتذہ بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ بازار میں دیگر کتابیں بھی دستیاب ہیں اور طلبا ان سے امتحانات کی تیاری کے لیے مدد لے سکتے ہیں۔ اس کتاب پر پابندی سے طلبا کی پڑھائی اور امتحانات کی تیاری پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔

اسی بارے میں