نواز شریف کی ضمانت پر تبصرہ، مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعون کو شو کاز نوٹس

فردوس عاشق اعوان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو دی گئی ضمانت کے معاملے پر عدالت عالیہ کو تنقید کا نشانہ بنانے پر اطلاعات ونشریات کے بارے میں وزیر اعظم کی مشیر فردوس عاشق اعوان کو نوٹس جاری کیا کہ وہ بتائیں کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے اظہار وجوہ کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ایک پریس کانفرنس میں میاں نواز شریف کو ضمانت دیے جانے کے عدالتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اس واقعہ کے بعد ’متعدد جیلوں میں بند ایسے بہت سے قیدیوں کی طرف سے درخواستیں دائر کرنے کا سیلاب آ جائے گا جو متعدد بیماریوں میں مبتلا ہیں‘۔

اس نوٹس میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اطلاعات و نشریات سے متعلق وزیر اعظم کی مشیر نے اس پریس کانفرنس میں عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک ملزم کو ’انصاف کی فراہمی‘ کے لیے رات کو عدالت لگائی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

’زمین کوبھی اتنی جلدی یہ تبدیلی قبول نہیں‘

ہاؤس جاب سے پارلیمنٹ ہاؤس تک

توہین عدالت سے متعلق اظہار وجوہ کے نوٹس میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مشیر اطلاعات نے، جو کہ وفاقی حکومت کی ترجمان بھی ہیں، ’نہ صرف عدالت کو عوام کی نظروں میں بدنام کرنے کی کوشش کی بلکہ عدلیہ کے رتبے کو بھی کم کرنے کی کوشش کی ہے‘۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کا ترجمان ہونے کی حیثیت سے مشیر اطلاعات کا عدلیہ سے متعلق بیان غیر ضروری ہے۔

عدالت عالیہ نے مشیر اطلاعات کو حکم دیا ہے کہ وہ پہلی نومبر بوقت نو بجے عدالت میں پیش ہوں اور بتائیں کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں