سپریم کورٹ: ’منظم منصوبے کے تحت مقاصد کے حصول کے لیے پرتشدد کارروائی دہشت گردی ہے‘

سپریم کورٹ
Image caption سپریم کورٹ آف پاکستان نے پارلیمان کو ہدایت کی ہے کہ وہ 'دہشت گردی' کی دوبارہ تعریف کرے اور ایسے مقدمات کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سے نکال دیا جائے جو کہ ذاتی عناد کے زمرے میں آتے ہیں

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پارلیمان کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’دہشت گردی‘ کی دوبارہ تعریف کرے اور ایسے مقدمات کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سے نکال دیا جائے جو کہ ذاتی عناد کے زمرے میں آتے ہیں۔

عدالت نے دہشت گردی کی تعریف کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ منظم منصوبے کے تحت مذہبی، نظریاتی اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے پرتشدد کارروائی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے۔

دہشت گردی کی تعریف سے متعلق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے دو اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے بدھ کے روز جاری کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انسداد دہشت گردی ایکٹ، ترامیم کی تجویز

انسدادِ دہشت گردی ایکٹ،'بے جا استعمال سے افادیت ختم'

فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے پر نئی قانون سازی پر غور

59 صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت یا عوام میں منصوبے کے تحت خوف و ہراس پھیلانا، جانی و مالی نقصان پہنچانا دہشت گردی ہے جبکہ منصوبے کے تحت مذہبی فرقہ واریت پھیلانا، صحافیوں، کارباری برادری، عوام اور سوشل سیکٹر پر حملے بھی دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی منصوبے کے تحت سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا، لوٹ مار کرنا، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز پر حملے بھی دہشت گردی ہیں تاہم ذاتی دشمنی یا عناد کے سبب کسی کی جان لینا دہشت گردی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ منظم منصوبے کے تحت مذہبی، نظریاتی اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے پرتشدد کارروائی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے

ذاتی دشمنی اور عناد کے باعث جلاؤ گھراؤ، بھتہ خوری اور مذہبی منافرت پھیلانا بھی دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا۔

اس کے علاوہ ذاتی عناد یا دشمنی کے باعث پولیس، افواج پاکستان اورسرکاری ملازمین کے خلاف پرتشدد واقعے میں ملوث ہونا بھی دہشت گردی نہیں۔

فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل الیاس صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت عظمی کے اس فیصلے سے کم از کم پولیس والوں کی مبینہ کمائی کا ایک ذریعہ بند ہو گا۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسے سینکٹروں مقدمات ہیں جس میں لوگوں کو ذاتی عناد کی بنا پر قتل کیا گیا اور مدعی پارٹی نے پولیس اہلکاروں کو رشوت دے کر قتل کے ساتھ ساتھ انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کا بھی ایف آئی آر میں اضافہ کروا دیا کیونکہ دہشت گردی کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں مدعی مقدمہ اور مجرموں کے درمیان راضی نامہ نہیں ہو سکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت عظمی کے اس فیصلے سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بھی کم ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپریم کورٹ: ذاتی دشمنی اور عناد کے باعث جلاؤ گھراؤ، بھتہ خوری اور مذہبی منافرت پھیلانا بھی دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا

الیاس صدیقی کا کہنا تھا کہ پارلیمان میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کے لیے حکومت کو دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے اور موجودہ حکمراں جماعت کے پاس یہ اکثریت نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پارلیمان کو کہا ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کریں تاہم یہ اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے کہ وہ کس حد تک عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرتی ہے کیونکہ قانون سازی کا اختیار پارلیمنٹ کے ہی پاس ہے۔

عدالت عظمی نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پاکستان میں سنہ 1974 سے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے مختلف قوانین متعارف کروائے گئے۔

انسداد دہشت گردی کا قانون انتہائی وسیع ہے اور اس قانون میں دہشت گردی کے حوالے سے کئی اقدمات اور ڈیزائن ایسے شامل کیے گئے جن کا دہشت گردی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے قانون میں ایسے سنگین جرائم کو شامل کیا گیا ہے جن کے سبب عدالتوں پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے قانون میں ایسے سنگین جرائم کو شامل کیا گیا ہے جن کے سبب عدالتوں پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے۔ اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین جرائم کو دہشت گردی میں شامل کرنے کے سبب دہشت گردی کے اصل مقدمات کے ٹرائل میں تاخیر ہوتی ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تیسرے شیڈول میں شامل ایسے تمام جرائم کو ختم کرے جو دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتے۔

اسی بارے میں