کراچی بینالے: ’کلنگ فیلڈز آف کراچی‘ کی آرٹسٹ عدیلہ سلیمان کے مطابق غیر سیاسی آرٹ محض ڈیکوریشن پیس ہوتا ہے

عدیلہ سلیمان
Image caption عدیلہ کے خیال میں دنیا میں کوئی آرٹ سیاست کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ ’مجھے یہ اندازہ ہوا ہے کہ فنکار کے پاس کتنی طاقت ہے، کوئی تو ہے جو دو گھنٹے میں گھبرا گیا‘

'مجھے یہ اندازہ ہوا ہے کہ فنکار کے پاس کتنی طاقت ہے، کوئی تو ہے جو دو گھنٹے میں گھبرا گیا۔ سارے فنکاروں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ تو ان کی جیت ہے۔'

یہ کہنا ہے آرٹسٹ عدیلہ سلیمان کا جنھوں نے حال ہی میں کراچی بینالے کے تحت 'کلنگ فیلڈز آف کراچی' کے عنوان سے فریئر ہال میں اپنے فن پاروں کی نمائش کی تھی تاہم شہری انتظامیہ کی جانب سے اُنھیں اس نمائش کو جاری رکھنے سے روک دیا گیا۔

اِس نمائش میں ایک چھ منٹ کی ویڈیو کے ساتھ مبینہ جعلی پولیس مقابلوں میں ہلاک ہونے والے 444 افراد کی علامتی قبریں بنائی گئیں تھیں۔

یہ بھی دیکھیے

ماورائے آئین قتل کے حوالے سے آرٹ نمائش میں نامعلوم افراد کی توڑ پھوڑ

نقیب اللہ کے قتل کی عکاسی کرتے فن پارے پھر گرا دیے گئے

کشمیر میں ’مزاحمتی آرٹ‘ کی سنسرشپ

صحافی شمائلہ خان کے ساتھ انٹرویو میں عدیلہ کا کہنا تھا کہ 'ویڈیو میں نقیب اللہ محسود کے والد سمندر کے پاس بیٹھے ہیں اور ناظرین کو دیکھ رہے ہیں۔ تو میرا یہ سوال تھا کہ کیا وہ نقیب کو دیکھ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ابھی تک کچھ نہیں ہوا ہے، یا کیا وہ ہمیں دیکھ رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ آپ نے کچھ کیوں نہیں کیا ہے؟ یا وہ راؤ انوار کو دیکھ رہے ہیں کہ تم نے یہ کیا کیا؟‘

444 علامتی قبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ تو پولیس ریکارڈ کا حصہ ہے۔

'نقیب کا کیس عام لوگوں کی معلومات کا حصہ ہے۔ یہ ریاست ہے جس نے ایک آدمی (سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار) کے خلاف کیس کیا ہے۔ میں تو صرف اس کہانی کو دہرا رہی تھی اور بتا رہی تھی کہ ہم اس چیز کو بھول نہیں سکتے۔'

کراچی بینالے کی انتظامیہ نے بھی عدیلہ کے فن پاروں کو بینالے کی بنیادی تھیم سے متصادم قرار دیتے ہوئے ایک باضابطہ بیان میں کہا کہ اس پلیٹ فارم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے آرٹ کو عوام تک پہنچانے کی کوششوں کو زک پہنچے گی۔

اس بیان پر اپنے ردعمل میں عدیلہ نے کہا ’یہ کیسی انتظامیہ ہے جس کو یہ ہی نہیں معلوم ہے کہ اس کا آرٹسٹ کر کیا رہا ہے؟‘

Image caption 'یہ کیسی انتظامیہ ہے جس کو یہ ہی نہیں معلوم ہے کہ اس کا آرٹسٹ کر کیا رہا ہے؟'

بینالے انتظامیہ کے بیان کے بعد ایک بحث یہ بھی چھڑ گئی کہ آیا آرٹ سیاسی ہوتا ہے یا غیر سیاسی؟ عدیلہ کے خیال میں دنیا میں کوئی آرٹ سیاست کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

'بینالے میں لگے ہر کام کا سیاست سے تعلق ہے۔ آپ اگر ایسا آرٹ لگا رہے ہیں جس میں سوچ نہ ہو اور آپ اگر ڈرتے رہیں گے کہ آرٹ میں سیاسی پہلو نہ ہو تو وہ آرٹ نہ ہوا بلکہ ڈیکوریشن پیس ہوا۔ لوگوں کو بتا دیں کہ آپ یہ بنا کر لائیں گے تو آپ کا کام لگے گا ورنہ نہیں۔‘

وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے کام کی وجہ سے لوگ اب آرٹ پر زیادہ بات کر رہے ہیں اور بینالے میں جا کے دیگر فنکاروں کا کام بھی دیکھ رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے سینسر شپ پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا 'ان کو لوگوں کی سوچ بدلنے سے خطرہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ایک مخصوص انداز سے سوچیں اور میں صرف اپنا مؤقف دے رہی تھی۔'

عدیلہ نے اپنے فن پاروں کے موضوع کے چناؤ پر تنقید کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 'پاکستان کا مثبت امیج تو یہ تھا کہ میں اپنی بات آزادی سے کہہ سکوں اور ریاست مجھے تحفظ فراہم کرے۔'

انھوں نے خود کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے والے ساتھی فنکاروں اور سماجی کارکنوں کا شکریہ ادا کیا اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا اظہار کرتے ہوئے کہا 'ایک دن کام بند کر دیا گیا، دوسرے دن توڑ دیا گیا اور تیسرے دن اس کو وہاں سے اٹھا لیا گیا۔ مجھے نہیں معلوم کل کیا ہو گا اور وہ کس حد تک جائیں گے۔'

اسی بارے میں