آزادی مارچ: عوامی نیشنل پارٹی جمہوریت بچانے نکلی ہے یا اپنے آپ کو؟

اے این پی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی بڑی قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمان کی طرف سے حکومت کے خلاف 'آزادی مارچ' میں بھر پور شرکت کر رہی ہے۔

اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان آج (جمعرات کو) نوشہرہ کے علاقے رشکئی انٹر چینج سے ایک بڑی ریلی کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف مارچ کر رہے ہیں جس میں پارٹی ذرائع کے مطابق صوبے بھر سے اے این پی کے کارکن کثیر تعداد میں شرکت کریں گے۔

جمعیت علما اسلام (ف) کے آزادی مارچ میں ویسے تو ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پہلے ہی شرکت کا اعلان کر چکی ہے لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ ان جماعتوں کی قیادت بھی مارچ کا حصہ بنے گی یا نہیں۔ لیکن دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی اس ضمن میں ایک واضح موقف کا اظہار کر چکی ہے۔

پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے چند دن پہلے ولی باغ چارسدہ میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات میں واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ جے یو آئی سربراہ کی گرفتاری کی صورت میں وہ مارچ کی قیادت کی ذمہ داری خود سنبھالیں گے۔ اس اعلان سے بظاہر لگتا ہے کہ قوم پرست جماعت ہر قسم کی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کا خصوصی ضمیمہ

’ہمارا قصور شدت پسندی پر دوٹوک موقف اپنانا ہے‘

پشاور: خودکش دھماکے میں 20 ہلاکتیں، شہر سوگوار

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما قاتلانہ حملے میں ہلاک

اے این پی کو درپیش چیلنجز

عوامی نیشنل پارٹی ایک ایسے وقت میں آزادی مارچ میں شرکت کر رہی ہے جب پارٹی کو بظاہر اندرونی اور بیرونی طور پر کئی قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے۔

اے این پی پچھلے دو عام انتخابات میں خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے ہاتھوں بری طرح شکست کھا چکی ہے اور صوبائی اسمبلی میں ان کے منتخب اراکین کی تعداد میں پہلے کے مقابلے میں کافی کمی ہوئی ہے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر اگلے الیکشن میں بھی تحریک انصاف اس طرح صوبے میں اپنی جیت برقرار رکھتی ہے تو اس سے خیبر پختونخوا میں ایک عرصے سے راج کرنے والی جماعت اے این پی کی بقا کو شدید خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کی سیاست پر نظر رکھنے والے سینئر صحافی اور مصنف عقیل یوسفزئی کا کہنا ہے کہ یہ صوبہ ہمیشہ سے اے این پی کی سیاست کا محور اور میدان رہا ہے، یہاں ان کی اپنی حکومت بھی رہی اور دیگر حکومتوں کا حصہ بھی رہی لیکن یہ حقیقت ہے کہ کچھ عرصے سے ان کے ووٹ بینک میں بڑا 'ڈینٹ' پڑا ہے۔

ان کے مطابق پچھلے دو انتخابات میں اے این پی جس بری طرح سے ہاری ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس جماعت سے ان کا اپنا میدان چھینا جا رہا ہے اور جس سے ان کے لیے خطرات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

'موجودہ حالات میں اے این پی اور جمعیت کا ایک دوسرے کے ساتھ چلنا بھی ایک فطری اتحاد جیسا لگتا ہے کیونکہ دونوں جماعتوں کا مرکز یہ صوبہ ہے اور ایک ہی سیاسی جماعت کے ہاتھوں دونوں پارٹیاں متاثر ہوئی ہیں۔ شاید یہی وہ بنیادی نقطہ ہے جس نے عوامی نیشنل پارٹی کو کھل کر اس مارچ میں شرکت کرنے پر مجبور کیا۔'

ان کے بقول دونوں جماعتوں کی کوشش ہے کہ تحریک انصاف کی مقبولیت کو احتجاج کے ذریعے سے کم کیا جائے اور ساتھ میں مقتدر قوتوں کو بھی اپنی طاقت دکھائی جائے۔

اے این پی کا شروع دن سے ہی عمران خان کی حکومت کے بارے میں انتہائی سخت موقف رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عمران خان ایک ’سلکٹیڈ وزیراعظم‘ ہے اور خیبر پختونخوا میں ان کے مینڈیٹ کو کاٹ کر 'جعلی' طریقے سے پی ٹی آئی کو اقتدار دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ABDUL MAJEED

تاہم پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد چترالی اس نظریے سے اتفاق نہیں کرتے کہ اے این پی کو اس وقت کسی قسم کا کوئی خطرہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'دراصل اس وقت ملک میں حقیقی طور پر جمہوریت کی بقا کو خطرہ ہے کیونکہ سیاسی جماعتوں کا خیال ہے کہ ایک 'کٹھ پتلی' کو جعلی طریقے سے اقتدار دیا گیا اور اگر حالات اس طرح جاری رہتے ہیں تو اس سے ملکی سیاست ایک نئے رحجان کی جانب گامزن ہوجائے گی۔‘

تاہم دوسری طرف اے این پی کی اندرونی ذرائع بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پارٹی میں یہ خدشات ضرور ہیں کہ اگر عمران خان کا راستہ نہیں روکا گیا تو مستقبل میں ان سمیت خیبر پختونخوا کی سطح کی تمام چھوٹی بڑی جماعتوں کو حقیقی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

پارٹی کے اندرونی اختلافات

اے این پی شاید اس صوبے کی واحد سیاسی جماعت ہے جو گذشتہ تین دہائیوں سے وقتاً فوقتاً اندرونی طور پر بحران کا شکار ہوتی رہی ہے۔ ان تیس سالوں میں پارٹی کے مرکزی اور صوبائی سربراہان سمیت کئی اہم رہنماؤں کو ڈسپلن کے خلاف ورزی کے الزامات میں پارٹی سے نکالا گیا۔

قوم پرست جماعت نے حال ہی میں ایک مرتبہ پھر پارٹی کے چار اہم رہنماؤں کی بنیادی رکنیت ختم کرتے ہوئے انہیں عہدوں سے فارغ کیا ہے۔ فارغ کیے جانے والوں میں سابق صوبائی صدر افراسیاب خٹک، مرکزی نائب صدر بشرہ گوہر، لطیف آفریدی ایڈوکیٹ اور واحد خاتون سینیٹر ستارہ آیاز شامل ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق دو رہنماؤں کو پارٹی میں گروپ بندی کے الزامات کے تحت نکالا گیا جبکہ دیگر دو رہنماؤں کو پارٹی کے بیانیے کے خلاف بات کرنے اور پشتون تحفظ موومنٹ کی کھلے عام حمایت کرنے پر سزا دی گئی۔

پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد چترالی کا خیال ہے کہ جب سے اے این پی کی صوبائی قیادت اسفندیار ولی خان کے بیٹے ایمل ولی خان کے سپرد کی گئی ہے اس کے بعد سے پارٹی کے لیے بیش بہا قربانیاں دینے والے پرانے سینیئر رہنماؤں میں ایک بے چینی اور انتشار کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایمل ولی کو یہ اہم عہدہ اسفندیار خان کے بیٹے کی حیثیت سے وراثت میں ملا ہے جبکہ پارٹی سینیئر اراکین کا خیال ہے کہ یہ ان کا حق بنتا ہے لیکن چونکہ ایسا نہیں ہوا اس سے اندرونی طور پر ایک بے چینی ضرور پائی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اے این پی اور پشتون تحفظ موومنٹ

خیبر پختونخوا کے سیاسی حلقوں میں کچھ عرصے سے یہ تاثر عام ہے کہ کے پی کے اور سابق قبائلی علاقوں میں سرگرم سیاسی تحریک پشتون تحفظ موومنٹ مستقبل میں عوامی نیشنل پارٹی کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ثابت ہوسکتی ہے۔

تاہم اس نظریے کو کسی حد تک مزید تقویت حال ہی میں اس وقت ملی جب اے این پی نے اپنے دو سنئیر رہنماؤں اور سابق اراکین پارلمینٹ افراسیاب خٹک اور بشرہ گوہر کو پی ٹی ایم کی حمایت کرنے کے الزامات کے تحت پارٹی سے فارغ کیا۔ یہ دونوں سیاست دان پارٹی سے بے دخل کیے جانے کے بعد آج کل ہر فورم پر پی ٹی ایم کی بھرپور انداز میں حمایت کر رہے ہیں۔

صحافی عقیل یوسفزئی کا کہنا ہے ’پی ٹی ایم اور اے این پی کا بیانیہ اور ایجنڈا ایک رہا ہے اور شاید اس وجہ سے بظاہر قوم پرست جماعت کو محسوس ہوتا ہے کہ شاید مستقل میں کسی موڑ پر یہ ان کے لیے کوئی خطرہ نہ بن جائے۔‘

ان کے مطابق پی ٹی ایم کی بیشتر قیادت ماضی میں اے این پی یا اس کی طلبا تنظیم پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا حصہ رہی ہے اور قوم پرست جماعت میں شامل بیشتر نوجوان قدرتی طور پر پشتون تحفظ موومنٹ کے لیے ایک نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ کچھ ماہ قبل جب پی ٹی ایم کی مقبولیت کا گراف تیزی سے بڑھنے لگا تو ان دنوں اے این پی کے بعض رہنماؤں کی طرف سے ان نوجوانوں کے خلاف سخت قسم کی بیان بازی کی گئی اور یہاں تک کہ انہیں مقتدر اداروں کے ’آلہ کار‘ کے الفاظ سے یاد کیا گیا۔

تاہم حالیہ دنوں میں حیران کن طورپر دونوں جماعتوں کے مابین قربت بڑھنے کی اطلاعات بھی ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے چند دن پہلے پشاور میں اے این پی کے مرکزی دفتر باچا خان مرکز کا دورہ کیا اور وہاں ایک پروگرام میں شرکت کی۔ اس سے پہلے منظور پشتین اور اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کے درمیان بھی ایک ملاقات ہوئی تھی۔

اسی بارے میں