رحیم یار خان میں تیزگام ایکسپریس کا حادثہ: غلطی مسافروں کی تھی یا ریلوے انتظامیہ کی؟

ٹرین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں جمعرات کی صبح کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی کے حادثے میں 74 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے اس واقعے کی ذمہ داری ٹرین مسافروں پر عائد کی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ٹرین میں سفر کرنے والے مسافروں کے پاس چولھا اور گیس سلنڈرز موجود تھے جسے وہ کھانا پکانے کے لیے استعمال کر رہے تھے اور ان سلنڈرز کے پھٹنے سے یہ حادثہ پیش آیا۔

تاہم اسی ٹرین میں سفر کرنے والے کچھ مسافروں کا دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ ٹرین مین شارٹ سرکٹ کے باعث پیش آیا۔

تاہم پاکستان ریلوے پولیس نے اس حادثے کی ابتدائی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے ٹرین گارڈ کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرین میں آگ لگنے کے بعد کیا ہوا

تیزگام میں آتشزدگی سے 74 افراد ہلاک

پاکستان میں ریل کا سفر محفوظ کیوں نہیں رہا؟

ریلوے پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی بنیادی وجہ گیس سلنڈر کا پھٹنا قرار دی گئی ہے۔ جبکہ تیز گام ٹرین میں آتشزدگی کے واقعہ کے بعد ریلوے پولیس نے جائے حادثہ سے شواہد اکھٹے کر کے انھیں فرانزک لیبارٹری بھی بھجوا دیا ہے۔

وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ٹرین حادثے کی تحقیقات 15 دن میں مکمل ہو جائے گی۔ تاہم انھوں نے بعض عینی شاہدین کی جانب سے شاٹ سرکٹ سے آگ لگنے کے دعوے کی تردید کی۔

Image caption تیزگام حادثے کے بعد رائیونڈ سٹیشن پر یہ نوٹس لگا دیا گیا تھا

مسافر سامان میں کیا لے جا سکتے ہیں؟

ادارے کی ویب سائٹ پر واضح طور پر مسافروں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ کون سی چیز ٹرین میں سفر کے دوران لے جانا منع ہے۔ ان میں درج ذیل چیزیں ٹرین کے سفر کے دوران ساتھ رکھنا منع ہے:

  • دھماکہ خیز یا خطرناک آتشگیر مواد
  • جانوروں کی کھال جن کی پیکنگ درست نہ ہو۔
  • سامان میں حد سے زیادہ کوئی چیز جس کے اضافے پیسے درکار ہوں
  • تیل، گھی، گریس یا پینٹ جو اپنی پیکنگ کی وجہ سے لیک کر سکتا ہو

پاکستان ریلوے نے جمعرات کو حادثے کے بعد ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ٹرین میں گیس سلنڈر لے جانا منع ہے۔

جبکہ پاکستان ریلوے کی جانب سے تبلیغی اجتماع میں شامل ہونے والے افراد کے لیے بھی نئے احکامات جاری کیے گئے تھے جن کے مطابق رائیونڈ اور لاہور ریلوے اسٹیشن پر ہر مسافر کو سفر کے دوران اصل شناختی کارڈ پاس رکھنے اور فوٹو کاپی جمع کروانے کا پابند کیا گیا۔

ریلوے پولیس کی ہر مسافر کی جامہ تلاشی لینے کے بعد داخلے کی اجازت دینے اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو ریل گاڑی میں سوار نہ ہونے دینا شامل تھیں۔

رائیونڈ سٹیشن کی صورتحال

ہم نے یہ جاننے کے لیے رائیونڈ ریلوے سٹیشن اور لاہور ریلوے سٹیشن کا رخ کیا کہ کیا ٹرین میں سفر کرنے والے مسافروں کے سامان کی تلاشی لی جاتی ہے یا وہ سفر کے دوران ممنوعہ اشیا جیسا کہ گیس سلنڈر باآسانی اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔

لاہور کے رائیونڈ سٹیشن پر یہ دیکھنے میں آیا کہ تبیلغی جماعت میں شرکت کرنے کے لیے آنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔

پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرنے کے بعد ریلوے سٹیشن کی عمارت کی طرف بڑھی تو وہاں دیکھا کہ داخلی دروازے کے پاس مسافر بیٹھے پیاز اور ٹماٹر کاٹ رہے تھے۔

اور ساتھ ہی پڑے ایک گیس سلنڈر کو دیکھ کر مسافروں سے سوال کیا کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ کیا یہ گیس سلنڈر ٹرین میں لے جانے کی اجازت ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ لے جانے سے پہلے اس کی گیس نکال کر لے کر جائیں گے۔

میں نے ارد گرد نظر دوڑائی آئی تو بیشتر مسافروں کے سامان کے ساتھ گیس سلنڈرز موجود تھے۔ خاص کر وہ مسافر جو کہ لمبی مسافت طے کر کے رائیونڈ پہنچے تھے۔

یہ سب دیکھ کر ایسا لگا کہ ٹرین میں سلنڈر لے جانا کوئی بڑی بات نہیں۔

ریلوے سٹیشن کے اندر معلومات حاصل کرنے کے غرض سے گئی تو نا تو ٹکٹ کاؤنٹر پر کوئی تھا اور نا ہی سٹیشن کے کسی کمرے میں کوئی سرکاری اہلکار موجود تھا۔

سکیورٹی سکینر گیٹ خراب تھا اور ساتھ ہی بیٹھے چند پولیس اہکار کسی آنے جانے والے مسافر کو چیک کرتے نہیں دکھائی دیے۔

لاہور ریلوے سٹیشن پر صورتحال

لاہور کے ریلوے سٹیشن پر بیشتر مسافروں سے گفتگو کی تو معلوم ہوا کہ سامان کی چیگنگ کا عمل صرف اتنا ہی ہے کہ انھیں سکیورٹی سکینر سے گزارا گیا ہے جبکہ رائیونڈ سٹیشن پر وہ بھی بند تھا۔

ٹنڈوجام سے تعلق رکھنے والے ایک مسافر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’عموما چھوٹے ریلوے سٹیشنز پر کسی قسم کی تلاشی نہیں لی جاتی ہے۔ جب ہم سوار ہوئے تو کسی نے ہمارے سامان کی جانچ پڑتال نہیں کی۔‘

حادثے کے بعد سٹیشن پر ہونے والی تبدیلیاں

رائیونڈ سٹیشن سے باہرنکلی تو ریلوے اہلکار سکیورٹی سکینر ٹھیک کرنے میں مصروف تھے اور عمارت کے داخلی راستے پر بینر لگا دیا گیا تھا جس پر لکھا تھا کہ ٹرین پر گیس سلنڈر لے کر جانے والے مسافر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اسی بارے میں