مولانا فضل الرحمان کا حکومت مخالف آزادی مارچ

فیچر اور تجزیے

مولانا اور ’عمرانی‘ معاہدہ

مولانا فضل الرحمان نے اپنی تقریباً تین دہائیوں پر پھیلی سیاست کا سب سے اہم جوا کیوں اور کس کے کہنے پر کھیلا؟ کیا مولانا بغیر کسی یقین دہانی اور بغیر کسی مقصد کے اسلام آباد کی جانب چل پڑے؟ عاصمہ شیرازی کا کالم۔

آزادی مارچ، مگر خواتین کے بغیر!

مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں جہاں ایک طرف دسیوں ہزار لوگ شرکت کر ر ہے وہیں اس میں خواتین کی تقریباً مکمل غیر موجودگی بھی ایک حقیقت ہے۔

دھرنا ہو یا مارچ، کنٹینر ناگزیر

پاکستان کی سیاست میں جب دھرنے یا لانگ مارچ ہوں تو کنٹینرز کا اہم کردار ہوتا ہے۔ عمران خان کا دھرنا ہو یا فضل الرحمٰن کا مارچ، کنٹینر کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے۔

آزادی مارچ کا آغاز سندھ سے کیوں ہو رہا ہے؟

شمالی سندھ میں جے یو آئی کا سپورٹ بینک ہے۔ انھیں اگر پنجاب میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے تو وہ قومی شاہراہ اور ٹرین لائن دونوں کو معطل کر سکتے ہیں اور یوں ان کی جانب سے پنجاب کو لاک ڈاؤن بھی کیا جا سکتا ہے۔

کنٹینر کھڑے کرنے سے ملکی صنعت و تجارت متاثر

پاکستان میں سیاسی مظاہروں کو روکنے کے لیے کنٹینرز جبری طور پر ضبط کیے جاتے ہیں جس سے ملک بھر میں صنعتی و تجارتی مال کی ترسیل متاثر جبکہ ٹرانسپورٹرز کا نقصان ہوتا ہے۔

آزادی مارچ: اپوزیشن اور حکومت کہاں کھڑی ہیں؟

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مولانا فضل الرحمان کو آزادی مارچ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ بلاول بھٹو نے واضح کیا ہے کہ وہ جمہوری احتجاج میں ساتھ دیں گے لیکن دھرنے پر ان کے تحفظات ہیں۔

اسلام آباد کا ڈی چوک آباد ہونے کو ہے!

کیا مولانا ایک کامیاب دھرنا دے سکتے ہیں؟ یہ بھی اہم ہے کہ دھرنے کی ناکامی کی صورت میں تحریکِ انصاف کی حکومت کو مزید طاقت ملی تو کیا ہو گا: پڑھیے عاصمہ شیرازی کی خصوصی تحریر۔

’مولانا فضل الرحمان کا ایجنڈا، سیاسی ایجنڈا نہیں ہے‘

مولانا فضل الرحمان کی جانب سے آزادی مارچ کے اعلان کے بعد جہاں حکومت کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے وہیں سوشل میڈیا پر بھی دونوں جماعتوں کے حامیوں کے مابین نیا محاذ کھل گیا ہے۔