شکرگڑھ: وکلا کے خاتون پر تشدد کی ویڈیو وائرل، وکلا کی قبل از گرفتاری منظور

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈی ایس پی شکر گڑھ ملک محمد خلیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ خاتون کے طبی معائنے کے بعد ناقابل ضمانت دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے

صوبہ پنجاب کے ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ کی کچہری میں ایک خاتون پر وکلا کی جانب سے تشدد کے واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اس حوالے سے درج کرائے گئے مقدمے میں نامزد ملزمان نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی ہے۔

یہ مقدمہ شکر گڑھ پولیس نے ویڈیو میں موجود خاتون امرت بی بی کے ساتھ موقع پر موجود ان کے چچا زاد بھائی عبدالقیوم کی درخواست پر درج کیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ امرت بی بی اور عبد القیوم ایک اور مقدمے کے سلسلے میں مقامی عدالت میں سماعت کے بعد محمد عاطف محمود ایڈووکیٹ کے چیمبر میں موجود تھے جب درخواست کے مطابق کچھ وکلا چار پانچ افراد کے ہمراہ آئے اور آتے ہی انھیں مارنا شروع کردیا۔

عبدالقیوم کا دعویٰ ہے کہ ’تشدد سے میرے اور میری بہن کے کپڑے پھٹ گے۔ محمد عاطف ایڈووکیٹ کے چیمبر سے میری بہن کو بالوں سے پکڑ کر سڑک پر لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس موقعے پر مجھ سے سام سنگ فون کے علاوہ نقد پانچ ہزار روپے بھی چھینے گئے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیے

وکلا تنظیموں میں وزیر اعظم کے استعفے کے معاملے پر اختلاف

وکلا کا احتجاج جاری، صحافیوں کو دھمکیاں

وکلا میں تصادم، وزیرِاعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

ڈی ایس پی شکر گڑھ ملک محمد خلیل نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے خاتون کا طبی معائنہ کروانے کے بعد ناقابل ضمانت دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مقدمے میں نامزد وکلا نے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی ہے جبکہ پولیس اس کیس کی تفتیش کر رہی ہے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

دوسری جانب وکلا کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد شکر گڑھ بار نے احتجاج اور ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ بی بی سی کی جانب سے موقف کے لیے شکر گڑھ بار کے صدر ندیم چوہدری ایڈووکیٹ سے متعدد بار رابطہ کیا گیا مگر جواب موصول نہیں ہوا۔

شکر گڑھ کچہری میں پیش آنے والا واقعہ

وائرل ویڈیو میں تشدد کا نشانہ بننے والی شکر گڑھ کی امرت بی بی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ایک وکیل کے رشتہ داروں کے ساتھ مقدمے چل رہے ہیں۔ واقعے کے روز بھی وہ انہی مقدمات کے سلسلے میں اپنے چچا زاد بھائی عبدالقیوم کے ہمراہ عدالت گئی تھیں۔

ان کا الزام ہے کہ سماعت کے بعد جب وہ اپنے وکیل کے ہمراہ ان کے چمبر میں گئیں تو مخالف وکیل اپنے ساتھی وکلاء کے ہمراہ وہاں پہنچ گئے۔

’اس نے میرے چچا زاد بھائی کو دبوچ لیا اور اس کا موبائل چھیننے کے علاوہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ میں اس کو بچانے کے لیے دوڑی تو مجھ پر بھی حملہ کردیا‘۔

امرت بی بی کا الزام ہے کہ ’میں جان بچانے کے لیے بھاگی مگر وہ مجھے بالوں سے پکڑ کر باہر لے گئے۔ لاتیں، مکے، تھپڑ مارے، کپڑے پھاڑے، اس دوران وہاں پر پولیس اہلکاروں کے علاوہ کئی لوگ موجود تھے۔ ’مگر کسی نے بھی مجھے بچانے کی کوشش نہیں کی بلکہ تماشہ دیکھتے رہے۔ میرا وہ حشر کیا کہ بتا نہیں سکتے، پیٹ سوجا ہوا ہے، میرے جسم کا ایک ایک حصہ دکھ رہا ہے۔ اس دوران مجھ سے بھی جو بھی ہوسکتا تھا کرنے کی کوشش کرتی تھی مگر میں ایک نہتی اور کمزور عورت ہوں۔ اتنے مردوں کا کیا مقابلہ کرتی۔ وہ مجھے مارتے اور پھر مذاق اڑاتے اور گالیاں بکتے رہے تھے۔‘

امرت بی بی کا کہنا تھا کہ ان کے مخالف وکیل کے رشتہ دار ہمارے گھر کا راستہ بند کرنا چاہتے ہیں جس پر کافی سالوں سے مقدمے بازی چل رہی ہے اور یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ان پر تشدد ہوا ہے اس سے پہلے بھی تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں جن کے مقدمات بھی درج ہیں۔

خیال رہے کہ وکلا کی جانب سے تشدد کے واقعات کا رجحان بظاہر بڑھ رہا ہے۔ چند دن قبل شیخوپورہ میں پارکنگ تنازع پر ایک وکیل نے پولیس اہلکار فائزہ نواز کو تھپڑ مارا تھا۔ مگر بعد ازاں مقدمے میں غلط نام کے اندراج پر ضمانت ہونے پر مایوسی میں فائزہ نواز نے پولیس ملازمت ہی پر استعفی دے دیا تھا۔

واقعے پر رد عمل

انسانی حقوق کے کارکن قمر نسیم کا کہنا ہے کہ ایسے پیشے سے منسلک لوگوں کی جانب سے تشدد کے واقعات کا بڑھنا افسوسناک ہے جن کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ وہ مظلوم اور پسے ہوئے طبقے کو انصاف دلائیں گے۔

’وکلا کو بھی اب چاہیے کہ وہ اس طرح کے واقعات میں ملوث عناصر کی حمایت کرنا بند کردیں۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سب سے پہلا اور موثر قدم وکلا ہی کو اٹھانا ہوگا۔

اپنے زمانِہ طالب علمی میں ایک طالب علم ساتھی کی جانب سے تشدد کا سامنا کرنے والی بیرسٹر خدیجہ صدیقی نے ایک ٹویٹ میں واقعہ پر سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ وکلا اپنی پوری برادری کے لیے بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔‘

انجیئر شفیق کا کہنا تھا کہ نہتی خاتون پر تشدد کرنے والے شکر گڑھ کے مجرموں کو فوری گرفتار کیا جائے

محمد طارق نواز کا کہنا تھا کہ جو حوا کی بیٹی کے ساتھ ہوا اس پر دل کانپ اٹھا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں