Kartarpur#: گرو نانک کی 550ویں یوم پیدائش پر انڈیا کے سکھوں کی واہگہ بارڈر سے پاکستان آمد کا سلسلہ شروع

سکھ یاتری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بابا گرو نانک دیو جی کے 550ویں یوم پیدائش کے موقع پرانڈیا کے سکھوں کی پاکستان آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

سکھوں کا ایک گروہ جمعرات کو واہگہ بارڈر سے پاکستان داخل ہوا ہے۔ کرتارپور راہداری پر تعمیراتی کام جاری ہے جبکہ پاکستان اور انڈیا نے کرتارپور راہداری کو نو نومبر سے کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔

سکھ یاتری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کرتارپور راہداری سے مراد وہ راستہ ہے جو انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر بنایا گیا ہے اور اس کا استعمال کرتے ہوئے انڈیا سے سکھ یاتری گرودوارہ دربار صاحب آسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’تمام مذاہب کے انڈین کرتار پور کے راستے سفر کر سکتے ہیں‘

بابا گرو نانک یونیورسٹی میں کیا پڑھایا جائے گا؟

پانچ ہزار سکھ یاتری روزانہ کرتارپور آ سکیں گے

سکھ یاتری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’پاسپورٹ، فیس کی شرط معاف‘

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ 'کرتارپور زیارت کے لیے آنے والے سکھوں کے لیے میں نے دو شرائط ختم کردی ہیں: انھیں پاسپورٹ درکار نہیں ہوگا،محض درست شناخت ہی کافی ہوگی اور انھیں 10 روز قبل اندراج کی زحمت بھی نہ اٹھانا ہوگی۔'

انھوں نے کہا ہے کہ 'افتتاح اور گرو جی کے 550ویں یوم پیدائش کے موقع پر بھی کوئی واجبات وصول نہیں کیے جائیں گے۔'

سکھ یاتری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تاہم پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرتارپور راہداری کے معاہدے میں سکھ یاتریوں کے پاکستان آنے کے لیے پاسپورٹ کی شرط رکھی گئی تھی۔

سکھ یاتری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کرتاپور راہداری کے استعمال پر سکھوں سے سروس چارجز کی مد میں 20 ڈالر وصول کیے جائیں گے لیکن گرو نانک کی 550ویں یوم پیدائش کے موقع پر اس شرط کو معاف کردیا گیا ہے۔

سکھ یاتری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جمعرات 31 اکتوبر سے سکھوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

یہ سکھ فی الحال انڈیا کے شہر امرتسر سے پاکستان میں واقع واہگہ بارڈ کے راستہ کا استعمال کررہے ہیں۔ پاکستان میں ان کا اسی مقام پر استقبال کیا جاتا ہے۔

سکھ یاتری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہر سال ہزاروں سکھ یاتری انڈیا سے پاکستان آتے ہیں۔ یہاں وہ صوبہ پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب سمیت مختلف گرودواروں اور اپنے مقدس مقامات کا دورہ کرتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں