اسلام آباد ہائی کورٹ: فردوس عاشق اعوان کی تحریری معافی کی استدعا مسترد

فردوس عاشق اعوان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین عدالت کے مقدمے میں وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کی زبانی غیر مشروط معافی کی استدعا مسترد کر دی ہے اور اُنھیں پانچ روز میں تحریری جواب داخل کروانے کا حکم دیا ہے۔

پچھلی سماعت پر عدالت نے فردوس عاشق اعوان کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے انھیں تین روز میں تحریری جواب جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ زیر التوا مقدمات کو ’سکینڈ لائز‘ کرنے کے معاملے کو کسی طور پر بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے منگل کو فردوس عاشق اعوان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں اظہار وجوہ کے نوٹس کی سماعت کی تو عدالت نے وزیر اعظم کی معاون خصوصی سے استفسار کیا کہ کیا اُنھوں نے اس نوٹس کا جواب جمع کروا دیا ہے۔

اس پر فردوس عاشق اعوان نے عدالت سے ایک مرتبہ پھر غیر مشروط معافی مانگی اور کہا کہ اُنھوں نے کبھی بھی عدلیہ کی تضحیک کا سوچا تک نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی میرے بارے میں کچھ بھی کہے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

یہ بھی پڑھیے

دس منٹ میں چینل بند کریں ورنہ۔۔۔

’کیا پیمرا فیصلہ کرے گا کس اینکر کا کردار اچھا ہے؟‘

کیا پیمرا نے فضل الرحمان کی پریس کانفرنس بند کروائی؟

اُنھوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں وہاں کے چیف جسٹس کے ساتھ ان کی تصاویر کو ن لیگ کے صدر کے ساتھ تصویر کہہ کر سوشل میڈیا پر چلایا گیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی عزت شخصیات سے نہیں بلکہ ان کے فیصلوں سے ہوتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالتوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے وزرا نے کہا کہ ڈیل ہو گئی ہے، جس پر فردوس عاشق اعوان نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ’مائی لارڈ، میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر کسی سے کوئی ڈیل ہوئی تو وہ حکومت ہی کرے گی، عدلیہ نہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت نے صرف قانون کے مطابق چلنا ہوتا ہے، کسی ایک فریق کی حمایت نہیں کرنی ہوتی۔ اُنھوں نے کہا کہ سنگین جرم یا دہشت گردی کے ملزم کو بھی ’فیئر ٹرائل‘ کا حق ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے فردوس عاشق اعوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2014 میں ہونے والے دھرنے میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاری کو روکنے کے لیے ڈاکٹر عارف علوی نے، جو اِس وقت پاکستان کے صدر ہیں، اتوار کے روز عدالت کا دروازہ کھٹکٹایا تھا اور عدالت نے چھٹی کے روز ریلیف دیتے ہوئے اس وقت کی حکومت کو پی ٹی آئی کے کارکنوں کو گرفتاری سے روکا تھا۔

اس پر فردوس عاشق اعوان نے عدالت کو بتایا کہ اُنھوں نے سنہ 2014 کے دھرنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔

واضح رہے کہ فردوس عاشق اعوان نے گذشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس میں نواز شریف کو ضمانت دیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس واقعے کے بعد متعدد جیلوں میں بند بہت سے قیدیوں کی طرف سے درخواستوں کا فلڈ گیٹ کھل جائے گا جو متعدد بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

معاون خصوصی کے وکیل نے آئندہ سماعت پر اپنی موکلہ کی حاضری سے استثنی کی درخواست دی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں حاضری سے استثنی نہیں دے رہے کیونکہ ان کے یہاں آنے کا اور بھی فائدہ ہے، یعنی اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں اور وکلا کے مسائل حکومت کے نوٹس میں آتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ IHC

پہلی پیشی پر کیا ہوا؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے گذشتہ ہفتے عدالت کو ’سکینڈلائزڈ‘ کرنے کے حوالے سے جاری کیا گیا توہینِ عدالت کا نوٹس فردوس عاشق اعوان کی جانب سے غیر مشروط معافی مانگنے پر واپس لے لیا۔

تاہم جمعے کو انھیں عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات پر اثرانداز ہونے کی بنا پر ایک دوسرا نوٹس جاری کیا ہے۔

عدالت نے فردوس عاشق اعوان کو حکم دیا کہ وہ اس نکتے پر عدالت کو مطمئن کریں کہ ان کی جانب سے پریس کانفرنس میں دیا جانے والا بیان عدالت میں زیر التوا مقدمات پر اثر انداز ہونے کے بارے میں نہیں تھا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب شفاف ٹرائل کے اصولوں کی خلاف ورزی کی جائے تو اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے توہینِ عدالت میں اظہارِ وجوہ یا شو کاز نوٹس پر فردوس عاشق کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کی تو وہ سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی کمرۂ عدالت میں موجود تھیں جنھیں بعد میں روسٹرم پر بلا لیا گیا۔

چیف جسٹس نے توہینِ عدالت میں اظہارِ وجوہ کے نوٹس کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یقینی طور پر وزیر اعظم عمران خان نے انھیں عدلیہ کو سکینڈلائزڈ کرنے کی ہدایت نہیں دی ہو گی کیونکہ وہ خود قانون کی حکمرانی کی تحریک میں پیش پیش رہے ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے فردوس عاشق اعوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’آپ نے تمسخر اڑایا کہ کاش عام لوگوں کے بارے میں بھی عدالت فیصلے کرے۔ ہم یہاں بیٹھے ہی عام لوگوں کے لیے ہیں۔ اگر کوئی وکیل فوری پٹیشن لے کر رات تین بجے بھی آیا ہو تو کبھی انکار نہیں کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے کچھ لوگ خوش ہوتے ہیں اور کچھ نا خوش لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عدالتیں انصاف نہیں کرتیں۔

چیف جسٹس نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا نام لیے بغیر ان کی اپیل پر فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی کہتا ہے کہ ڈیل ہو گئی ہے۔

عدالت نے فردوس عاشق اعوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا کسی نے ججوں کو اپروچ کیا ہے؟

اطہر من اللہ نے کہا جب آپ عدلیہ سے لوگوں کا اعتماد اٹھانے کی کوشش کریں گی تو یہ لوگوں کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ججوں پر ذاتی تنقید پر عدالتیں ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

اطہر من اللہ نے فردوس عاشق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوتا کہ آپ عدالتوں کو سیاست سے دور رکھتیں۔

چیف جسٹس جتنی دیر تک بولتے رہے اس عرصے کے دوران فردوس عاشق اعوان منہ میں کچھ پڑھتی رہیں۔

فردوس عاشق اعوان نے عدالت کو وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کبھی بھی عدالت کی توہین کرنے کا سوچا تک نہیں ہے تاہم اگر ان کے کسی بیان سے عدلیہ کی تضحیک کا پہلو نکلتا ہے تو وہ اس پر عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چیف جسٹس نے معاون خصوصی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا کبھی انھوں نے اقتدار میں آنے کے بعد اسلام آباد کی ضلع کچہری کا دورہ کیا ہے جس کا معاون خصوصی نے نفی میں جواب دیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی ضلعی عدالتیں دکانوں میں قائم ہیں جبکہ ان عدالتوں میں بیٹھنے والے ججوں کے لیے باتھ روم کی سہولت بھی موجود نہیں ہے۔

عدالت نے سماعت میں کچھ دیر کے لیے وقفہ کیا اور پھر فردوس عاشق اعوان کی جانب سے غیر مشروط معافی مانگنے پرعدالتوں کو سکینڈ لائزڈ کرنے سے متعلق جاری کیا گیا نوٹس واپس لے لیا۔

یہ سن کر وزیر اعظم کی معاون خصوصی کے چہرے پر اطمینان دکھائی دیا تاہم یہ اس وقت ختم ہو گیا جب انھیں عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر اثرانداز ہونے پر توہینِ عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا۔

اس کے ساتھ عدالت نے فردوس عاشق اعوان کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ وکلا کے نمائندوں کے ساتھ اسلام آباد کی ضلع کچہری کا دورہ کریں تاکہ وہ خود دیکھیں کہ ججوں اور وکلا کس طرح کام کر رہے ہیں۔

عدالت نے توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت پانچ نومبر کو مقرر کی تو معاون خصوصی نے عدالت کو بتایا کہ اس روز تو کابینہ کا اجلاس ہوتا ہے جس پر چیف جسٹس نے فردوس عاشق اعوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’آپ ڈسٹرکٹ کورٹس میں ہی کابینہ میٹنگ رکھیں تاکہ وہ وہاں کے حالات بھی آپ کو معلوم ہوں۔‘

سماعت ختم ہونے کے بعد عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے ضلع کچہری کا دورہ بھی کیا۔

اسی بارے میں