آزادی مارچ: جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جلسہ گاہ میں خواتین کی نمائندگی پر تنقید اور سوالات

جے یو آئی آزادی مارچ

جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جلسہ گاہ میں خواتین نہیں ہیں۔ یہ بات مجھے کئی بار مختلف لوگوں سے سننے کو ملی۔

گذشتہ رات جب میں نے تصاویر بنا لیں تب انصار الاسلام سے منسلک ایک گارڈ نے آ کر مجھے کہا ’میم آپ برا نہ مانیں پر آپ نے تصویریں بنا لی ہیں اب ہمارے لوگ تھوڑا سونا چاہتے ہیں اور دیکھیں یہاں کوئی لڑکی بھی نہیں ہے۔‘

یہ میرے لیے اشارہ تھا کہ میں اب یہاں سے چلی جاؤں۔ ویسے بھی میرا کام مکمل ہو چکا تھا اور اس وقت خبریں آ رہی تھیں کہ مولانا فضل الرحمان کا قافلہ آئی جے پی روڈ پہنچ چکا ہے اور اسے جلسہ گاہ پہنچنے میں مزید ایک گھنٹہ لگنا تھا۔

آج جمعے کی صبح جب میں دوبارہ جلسہ گاہ میں گئی تو کوئی روک ٹوک نہیں کی گئی جس کی وجہ پوچھنے پر بتایا گیا کہ ’آج مسلم لیگ نواز کے کارکنان بھی آ رہی ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، آپ کام کریں‘ تاہم کچھ دیر بعد پھر خبر آئی کہ خواتین کو روکا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مولانا فصل الرحمان کے آزادی مارچ کا خصوصی ضمیمہ

’آزادی مارچ‘ کو حزبِ اختلاف کی کتنی حمایت حاصل ہے؟

’اداروں سے جنگ نہیں چاہتے، احتجاج حکومت کے خلاف ہے‘

جمعرات کی شام مجھے عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ایک ٹرک پر خواتین کارکنان کا ایک گروہ نظر آیا جو اسی کارواں کے ساتھ جلسہ گاہ پر بغیر رکے آگے چلا گیا۔

اس سب پر زیادہ تنقید اس لیے بھی کی جا رہی ہے کہ ’جمہوریت کو بچانے‘ کے لیے کیے جا رہے اس جلسے میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے مختلف سوچ و فکر رکھنے والے لوگوں خاص کر خواتین کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

Image caption جیو نیوز سے منسلک صحافی حامد میر نے جلسہ گاہ کے پنڈال میں اعلان کیا کہ ان کے ساتھ آئی ہوئی خاتون صحافیوں کو کام کرنے دیں

آج جمعے کو یکے بعد دیگرے چند رپورٹروں نے اپنے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا کہ ان کو جلسہ گاہ پر کام کرنے نہیں دیا جا رہا۔ ان میں ’ہم نیوز‘ کی رپورٹر عینی شیرازی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میرے ساتھ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ مجھے کسی دھرنے کی کوریج کرنے سے روکا گیا ہو حالانکہ میں نے اس سے پہلے جے یو آئی کے جلسے کور کیے ہیں۔‘

اس بارے میں صحافی شفا یوسفزئی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ جلسہ گاہ میں اپنی ٹیم کے ساتھ پہنچنے پر دور دور تک صرف مرد نظر آئے۔ ’ان کے درمیان کام کرتے ہوئے عجیب لگا کیونکہ مجھے ایسے دیکھا جا رہا تھا جیسے میں کوئی خلائی مخلوق ہوں۔‘

خلائی مخلوق کا تو نہیں پتہ لیکن جلسہ گاہ میں موجود زمینی مخلوق صرف ایک ایجنڈے پر متوجہ نظر آئی کہ کتنی جلدی اور کیسے لوگوں کو جلسہ گاہ تک پہنچایا جائے۔

اس بارے میں جیو نیوز سے منسلک صحافی حامد میر نے جلسہ گاہ کے پنڈال میں اعلان کیا ’براہِ کرم ہمارے ساتھ آئی ہوئی خاتون صحافیوں کو کام کرنے دیں‘ بعد میں جلسہ گاہ میں سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری سے بھی یہی اعلان کروایا گیا۔

حامد میر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ’سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے آزادی مارچ میں اعلان کیا ہے کہ خواتین کو جلسے کی کوریج سے نہیں روکا جائے اور ان سے تمیز سے پیش آیا جائے۔‘

اس جلسے میں پہنچنے والے لوگوں میں مدرسے سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کے ساتھ ساتھ ایک بڑی تعداد انصار الاسلام کے ڈنڈا بردار کارکنان کی بھی ہے۔

صحافی عنبر رحیم شمسی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک مختلف پہلو بتایا کہ انھیں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کون سے چینل سے ہیں اور باقی چینل کیوں ہمارے جلسے کی کوریج نہیں کر رہے ہیں؟

ان کا کہنا ہے ’جہاں تک سوال ہے خاتون ہونے کا تو ہاں، جہاں زیادہ تعداد مردوں کی ہوتی ہے وہاں آپ بطور خاتون خیال زیادہ رکھتے ہیں لیکن خواتین صحافیوں کے ساتھ جلسے میں جو ہوا وہ بالکل قابلِ مذمت ہے اور اس سے زیادہ قابلِ مذمت ہے جے یو آئی کا موقف جنھوں نے خواتین کو جلسے میں شامل نہیں کیا۔‘

اسلام آباد پہنچنے والے آزادی مارچ میں خواتین کو شریک ہونے سے منع کیا گیا ہے یہاں تک کہ گذشتہ ہفتے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں یہ کہا گیا کہ خواتین گھروں میں روزے رکھیں اور نمازیں ادا کریں اور مارچ کے مقاصد میں کامیابی کے لیے دعائیں کریں۔

ایسا نہیں کہ جمعیت کی خواتین کبھی سیاست کا حصہ نہیں رہی ہیں، جماعت کا اپنا خواتین وِنگ بھی موجود ہے تاہم یہ خواتین پارلیمان تک مخصوص نشستوں کے ذریعے ہی پہنچتی رہی ہیں۔

جمیعت علمائے اسلام کی سابق رکن اسمبلی نعیمہ کشور آج کل مختلف نجی ٹی وی چینلز کے کئی پروگراموں میں شرکت کر رہی ہیں اور اپنی جماعت کا بیانیہ اور آزادی مارچ کے حوالے سے رائے کا اظہار کر رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جماعت کی چند ایک خواتین کا کردار اب یہیں تک محدود ہو گیا ہے۔

جمیعت علمائے اسلام ف کی سابق رکن اسمبلی نعیمہ کشور نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی خواتین گھروں میں رہتے ہوئے آزادی مارچ کا حصہ ہیں۔ اپنی جماعت کی خواتین رہنماؤں کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ وہ سب سوشل میڈیا پر اس مارچ کو کامیاب بنانے کے لیے کام کررہی ہیں۔

'ہم مختلف طریقوں سے اس مارچ کا حصہ بن رہی ہیں، میں خود اور دیگر کئی ساتھی خواتین میڈیا میں ایکٹو ہیں کیونکہ ہم سمجھتی ہیں کہ یہ بہت ضروری ہے، تو ایسا نہیں کہ خواتین شریک نہیں ہیں۔‘

نعیمہ کشور کے مطابق ’جلسہ گاہ میں خواتین نہیں ہیں لیکن اگر آپ فوج میں بھی دیکھیں تو فرنٹ میں تو مرد ہوتے ہیں، اسی طرح خواتین پیچھے طبی امداد دیتی ہیں، ہماری تحریک بھی ایک جنگ ہی کی طرح ہے، حالات خراب ہوئے اور موقع آیا تو خواتین پیچھے نہیں ہوں گی۔‘

خواتین صحافیوں کو مارچ کی کوریج سے روکنے کے واقعے پر بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ جماعت نے کس کو منع نہیں کیا 'شاید کسی عام کارکن نے اس طرح کا رویہ اختیار کیا ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ آئندہ ایسا واقعہ نہ ہو۔ ہم تو دعوت دے رہے ہیں میڈیا کو کہ وہ ہماری کوریج کرے جبکہ یہ ہمارا 16 واں مارچ ہے اور ابھی تک کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا ہے۔‘

اسی بارے میں