رحیم یار خان، تیزگام ایکسپریس میں آتشزدگی: میرپور خاص میں ہلاک اور لاپتہ افراد کے گھروں میں سوگ اور پریشانی کا سماں

رحیم یار خان، میرپور خاص، ٹرین حادثہ، تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty

سندھ کے پانچویں بڑے شہر میرپور خاص میں جمعے کو تیزگام ٹرین حادثے میں ہلاک ہونے والے چھ افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی جن کے مختلف مقامات پر اجتماع منعقد کیے گئے۔

شہر میں سوگ کا ماحول تھا، چوراہوں پر تعزیتی بینر آویزاں تھے اور جمعرات کو کاروبار مکمل طور پر جبکہ جمعے کو جزوی طور پر بند تھا۔

یہ بھی پڑھیے

تیزگام حادثے میں قصوروار کون: مسافر یا ریلوے انتظامیہ؟

ٹرین میں آگ لگنے کے بعد کیا ہوا

ریل حادثے: بلاول، شیخ رشید کے دعووں میں کتنی سچائی؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
رحیم یار خان ٹرین حادثہ: لاپتہ افراد کے لواحقین کو اپنے پیاروں کی تلاش

میرپور خاص کی پاک کالونی کے رہائشی دکاندار محمد آفتاب آگ میں جھلسنے سے تو بچ گئے لیکن ٹرین سے چھلانگ لگانے کے بعد سنبھل نہ سکے۔ آفتاب کے بھائی عبدالوہاب نے بتایا کہ ان کے دوست ملت ایکسپریس میں اجتماع میں جا رہے تھے، انھوں نے لیاقت پور میں اتر کر محمد آفتاب کی شناخت کی۔

’بوگی میں جب دھواں بھر گیا تو آفتاب اور چچا عبدالرحمان نے ٹرین سے چھلانگ لگائی۔ عبدالرحمان بچ گئے لیکن بھائی کا کسی چیز سے سر ٹکرایا اور وہ زخمی ہوئے یا وہیں ہلاک ہوگئے، ہسپتال میں انھیں لاش ملی۔‘

نوجوان آفتاب اپنے محلے میں پرچون کی دکان چلاتے تھے۔ آٹھ سال قبل ان کی شادی ہوئی تھی لیکن کوئی اولاد نہیں تھی۔

جمعے کو ان کی تدفین میرپور خاص کے امید شاہ قبرستان میں کی گئی۔

پاک کالونی کی بلال مسجد سمیت پانچ مساجد میں رجسٹرڈ 74 افراد تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ یہ لوگ زیادہ تر غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔

پانچ بچوں کے والد وقار مری کی لاش سب سے پہلے شناخت کی گئی اور اسے میرپور خاص پہنچایا گیا، لیکن یہ منتقلی اس قدر آسان نہ تھی۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ قابلِ شناخت ہونے کے باوجود حکام نے لاش دینے سے انکار کیا۔

وقار مری کی شناخت ان کے کزن محمد شفیع مری نے کی تھی جو خود بھی تبلیغی اجتماع میں شریک ہونے جا رہے تھے۔ شفیع کے مطابق پہلے وہ لیاقت پور ہسپتال گئے جہاں جلی ہوئی لاشیں تھیں، اس کے بعد رحیم یار خان گئے جہاں انہوں نے کزن کی شناخت کی۔

تاہم ان کے مطابق ضلعی اور ہسپتال کی انتظامیہ نے یہ کہہ کر لاش دینے سے انکار کر دیا کہ فارینسک ماہرین آئیں گے تو ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد لاش دی جائے گی۔

Image caption تیزگام ٹرین آتش زدگی میں ہلاک ہونے والے میرپور خاص کے آفتاب کی نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی ہے

محمد شفیع کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’ڈی این اے ٹیسٹ تو وہاں ہوگا جہاں شناخت ممکن نہیں ہوگی، وہ تو شناخت کر رہے ہیں۔‘ لیکن ان کی بات نہیں مانی گئی۔ بالآخر وہ لڑ جھگڑ کر وقار کی لاش نجی ایمبولینس میں میرپور خاص لائے جہاں جہاں جمعے کے روز ان کی تدفین کی گئی۔

وقار مری کے کزن محمد شفیع مری کا کہنا ہے کہ تبلیغی جماعت نے بھی کوئی مدد نہیں کی۔ انھوں نے اجتماع میں جانے والے لوگوں سے شکوہ بھی کیا۔

’میں تبلیغی بھائیوں سے کہوں گا کہ اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آگیا ہے تو اپنی نگرانی بھی رکھیں۔ وہاں لاشیں اور زخمی پڑے تھے، انھیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا اور کہا کہ ہم تو اجتماع میں جا رہے ہیں۔ اجتماع اپنی جگہ لیکن سب سے پہلے انسانیت ہے۔ یہ نہیں کہ آپ اجتماع میں چلے جائیں تو آپ کو جنت مل جائے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Shafi Mari
Image caption ٹرین حادثے میں ہلاک ہونے والے میرپور خاص کے رہائشی وقار مری

میرپورخاص کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس 39 افراد کی گمشدگی کی اطلاعات درج ہیں۔ ان لاپتہ لوگوں میں بانو کے شوہر شاہد بھی شامل ہیں جو 20 روز کے بعد ہی کراچی سے گھر واپس آئے تھے۔

بانو کا کہنا ہے کہ ان کا بدھ کی شب 11 بجے رابطہ ہوا تھا۔ اس وقت انھوں نے بتایا تھا کہ وہ ٹنڈو آدم سے گزرے ہیں اور ساتھیوں کو پانی پلا رہے ہیں، اس لیے بعد میں بات کریں گے، جس کے بعد سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ان کے دیور اور دیگر رشتے دار بھی وہاں پہنچ گئے ہیں لیکن کچھ پتہ نہیں چل رہا۔

شاہد گاڑیوں کے باڈی میکر ہیں۔ میرپور خاص میں روزگار نہ ہونے کی وجہ سے کراچی میں کام کرتے تھے جہاں سے 20 روز کے بعد دو روز پہلے آئے تھے۔

Image caption لاپتہ فرد شاہد کی اہلیہ اور خاندان کے دیگر افراد

بانو کے مطابق ان کے شوہر نے کہا تھا کہ دو سال کے بعد اجتماع ہو رہا ہے، وہ ضرور جائیں گے۔ جانے سے پہلے انھوں نے چھوٹی بیٹی کو کہا تھا کہ تمہارے لیے گڑیا لاؤں گا جبکہ بیٹے کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا تھا۔

یہ کہنے کے بعد وہ اپنا ضبط برقرار نہ رکھ سکیں اور آنسو بہاتے ہوئے پکارتی رہیں: ’شاہد میں تمہیں کہاں ڈھونڈوں، سامنے آجاؤ، تمہارے بغیر میں ادھوری ہوں۔‘

بانو کی آہ و بکا نے اس چھوٹے سے گھر میں موجود تمام خواتین و حضرات کی آنکھ نم کردیں۔

بانو کے گھر کے بالکل سامنے ایک اور گھر میں پریشانی اور اداسی کی کیفیت ہے۔ یہ گھر وسیم کا ہے جو لاپتہ ہیں۔ ان کی زوجہ نگہت کا کہنا ہے کہ تیز گام کے پیچھے کے ڈبے میں ان کے والد بھی سوار تھے، وہ اور بھائی وغیرہ وسیم کو ڈھونڈ رہے ہیں لیکن کچھ پتہ نہیں چل رہا۔

تین بچوں کے والد وسیم بھی باڈی میکنگ کا کام کرتے ہیں اور ہر سال تبلیغی اجتماع میں جاتے ہیں۔ نگہت نے بتایا کہ وسیم کو ڈھونڈنے میں ان کی کوئی بھی مدد نہیں کر رہا اور نہ کوئی بتا رہا کہ وہ زخمی ہیں تو کہاں ہیں۔

Image caption نگہت کے شوہر وسیم ٹرین حادثے کے بعد سے لاپتہ ہیں اور اب حکومت کے مطابق تمام لاپتہ افراد کے لواحقین کو رحیم یار خان لے جا کر ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے گا

لاپتہ افراد کے ان لواحقین کو انتظامیہ نے رحیم یار خان لے جا کر ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کی یقین دہائی کروائی ہے تاکہ لاشوں کی شناخت ہوسکے۔

ڈپٹی کمشنر میرپورخاص عطااللہ شاہ بخاری کا کہنا ہے کہ جلی ہوئی 58 لاشیں ناقابل شناخت ہیں لہٰذا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جن کے رشتے دار لاپتہ ہیں، انھیں ایک گاڑی میں سوار کر کے رحیم یار خان لے جائیں جہاں ان کے ڈی این اے ٹیسٹ ہوں جس کے بعد ہی لاشوں کی شناخت ہوسکے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں