#IAmRabiPirzada: کیا رابی پیرزادہ کی حمایت میں جاری مہم پر تنقید اس کے اصل مقصد پر حاوی تو نہیں ہو گئی؟

  • منزہ انوار
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
رابی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Rabipirzada

پاکستانی گلوکارہ رابی پیرزادہ کی نجی نوعیت کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آنے کے بعد جہاں بہت سے افراد ان کی حمایت میں سامنے آئے ہیں، وہیں چند خواتین نے ان سے اظہار یکجہتی کے لیے اپنی برہنہ تصاویر بھی شئیر کرنی شروع کی ہیں۔

یہ تصاویر آئی ایم رابی پیرزادہ (IAmRabiPirzada) کے ہیش ٹیگ کو استعمال کرتے ہوئے شیئر کی جارہی ہیں۔

اس ٹرینڈ کا آغاز کرنے والی فوزیہ الیاس نے سب سے پہلے اپنی برہنہ تصاویر شیئر کیں جن میں انھوں نے ایک کاغذ پرIAmRabiPirzada # لکھ کر اسے اپنے مخصوص اعضا چھپانے کے لیے استعمال کیا۔

جب بی بی سی نے فوزیہ گیلانی سے یہ مہم شروع کرنے کی وجہ پوچھی تو ان کا کہنا تھا: ’رابی پیرزادہ کی تصاویر اور ویڈیوز لیک ہونا ان کی ذاتی زندگی میں مداخلت تھی جو بہت غلط ہوا اور نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’رابی نے اپنی مرضی سے تصاویر اور ویڈیوز بنائی تھیں اور ان کے یہ بتانے کے باوجود کہ انھوں نے یہ اپنے شوہر کے لیے بنائی تھیں لوگ انھیں پھر بھی برا بھلا کہہ رہے ہیں، گالیاں نکال رہے ہیں اور خود غرضی کی انتہا یہ ہے کہ تحقیقات کا مطالبہ کرنے کی بجائے وہ ویڈیوز دیکھے جا رہے ہیں اور انھیں پھیلا بھی رہے ہیں۔‘

فوزیہ کہتی ہیں اسی وجہ سے انھوں نے سوچا کہ رابی کی حمایت کرنی چاہیے کیونکہ انھوں نے کچھ غلط نہیں کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہFauzia Ilyas

،تصویر کا کیپشن

فوزیہ الیاس

’ان کا اپنا جسم ہے اور انھوں نے اپنے شوہر کے لیے یہ ویڈیوز بنائی ہیں جو ایک عام سی بات ہے۔‘

رابی کی حمایت میں شروع کی گئی مہم پر فوزیہ کو نا صرف مرد بلکہ خواتین سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی بہت سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کچھ لوگ تو فوزیہ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ تک بند کروانے کی باتیں کر رہے ہیں لیکن فوزیہ اس ردِ عمل کے لیے پہلے سے تیار تھیں۔

ان کا کہنا ہے ’میں پاکستانی لوگوں کی ذہنیت کو جانتی ہوں اور مجھے پتا تھا یہ ایسا کریں گے۔ لوگ مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں، گالیاں نکال رہے ہیں، میرے بارے میں طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے لیکن مجھے ان چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مجھے بالکل پروا نہیں ہے۔ ‘

’کم از کم لوگ بات تو کر رہے ہیں نا؟ یہی سب سے بڑی بات ہے۔ پاکستان میں ان مسئلوں پر بات ہونا ہی بہت بڑی بات ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ جس مقصد کے لیے وہ کھڑی ہوئی ہیں، خود پر تنقید کی وجہ سے وہ اس بارے میں چپ نہیں رہ سکتیں۔

’میری مہم پاکستانی معاشرے میں پائے جانے والے خودغرض رویوں کے خلاف ہے ‘

لیکن کیا یہ ساری تنقید اور سخت ردِ عمل فوزیہ الیاس کے اصل مقصد پر حاوی تو نہیں آ گیا؟

اس کے جواب میں فوزیہ کہتی ہیں ان کا مقصد صرف رابی کی حمایت کرنا نہیں تھا بلکہ ’رابی کی حمایت کے ساتھ ساتھ میں اس معاشرے کے افراد کی خود غرضی کو سامنے لانا چاہتی تھی۔‘

’یہ لوگ انٹرنیٹ پر پورن دیکھ سکتے ہیں تو اگر کسی کی ایسی ویڈیوز یا تصاویر ان کی مرضی کے بغیر لیک ہو جاتی ہیں تو اس میں اتنا بڑا مسئلہ کیا ہے؟ اتنا ہنگامہ کیوں کرتے ہیں؟‘

وہ کہتی ہیں ’آپ وہی سب کچھ جب گھر میں بیٹھ کر دیکھ سکتے ہیں تو ایک عورت اگر اپنی مرضی سے کچھ کرتی ہے تو پھر اس چیز کو برداشت کرنا سیکھیں۔‘

فوزیہ کے مطابق اس مہم کو شروع کرنے کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ چاہتی تھیں کہ ’انسانی جسم کو اس کے فطری روپ میں عام کیا جائے۔ میں لوگوں کو بتانا چاہتی تھی یہ بالکل عام سی بات ہے۔‘

فوزیہ کہتی ہیں ان کے خیال میں انھوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ فوزیہ نے یہ مہم رابی کے کہنے پر شروع نہیں کی۔

وہ کہتی ہیں ’ذاتی طور پر رابی کے ساتھ میری سلام دعا تک نہیں ہے۔ میں انھیں صرف ایک گلوکارہ کے طور پر جانتی ہوں اور ایک عورت ہونے کے ناطے میں نے ان کی حمایت کی۔‘

اگرچہ فوزیہ نے رابی کی حمایت میں یہ مہم شروع کی لیکن اس مقصد کے لیے اپنی برہنہ تصاویر پوسٹ کرنے پر انھیں خاصی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بحث کا رخ رابی کی ویڈیوز سے ان کی حمایت میں شروع کی گئی مہم اور فوزیہ کی ذات بن گئی ہے۔

لیکن فوزیہ نہیں سمجھتیں کہ اس سے رابی کی حمایت والی مہم کو کوئی نقصان پہنچا ہے ’رابی کی ویڈیوز لیک کی گئی جو غلط ہے اور میں ابھی بھی اسی پر بات کر رہی ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@MaryamNamazie

ذاتی نوعیت کی ویڈیوز یا تصاویر لیک ہونے پر کیا کرنے چاہیے؟

فوزیہ کہتی ہیں اگر آپ کو اس طرح کی صورتِ حال کا سامنا ہے تو ایسے میں آپ کو چپ نہیں رہنا چاہیے۔

’ہمارے پاکستان میں خاص کر لڑکیوں کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سامنے نہیں آتیں، وہ بات نہیں کرتیں۔‘

وہ کہتی ہیں ’ایسے کتنے کیسز ہیں جن میں مرد لڑکیوں کو ہراساں کرتے ہیں، ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ، ان کے انباکس میں اپنے مخصوص اعضا کی برہنہ تصاویر بھیجتے ہیں اور تب اسے ایک عام سی بات سمجھا جاتا ہے۔‘

’لیکن ایک عورت بول نہیں سکتی کیونکہ وہ ڈر جاتی ہے۔ ڈرنا نہیں چاہیے، آپ حقوق رکھتی ہیں، آپ کو بولنا چاہیے۔ اس کے لیے کوئی بھی پلیٹ فارم استعمال کریں لیکن بات ضرور کریں، اپنے مسئلوں پر بحث کریں اور ان کا حل ڈھونڈیں۔‘

فوزیہ کہتی ہیں مقصد صرف یہ ہے کہ آپ کی آواز پہنچنی چاہیے، آپ کو بتانا چاہیے کہ آپ کسی مشکل کا شکار ہیں اور جب تک انسان اپنے لیے خود کھڑا نہیں ہوگا، کوئی بھی آپ کے لیے کھڑا نہیں ہو گا۔

ایسی صورتحال میں کونسلنگ اور ماہر نفسیات سے مشورے کے بارے میں فوزیہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں اس چیز کا بہت فقدان ہے۔

’اگر کوئی بندہ اس طرح کی صورتحال میں مبتلا ہوتا ہے اور دوست یا گھر والے اسے کونسلنگ کا مشورہ دیتے ہیں تو معاشرہ اسے ایسی نظروں سے دیکھتا ہے جیسے وہ بندہ پاگل ہے۔ لوگ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ایک انسان کونسلنگ کے لیے بھی نہیں جا سکتا۔‘