جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس: ’جج کی جاسوسی اور ذاتی زندگی میں مداخلت بھی توہین ہے‘

جسٹس فائز عیسیٰ تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan
Image caption منیر اے ملک کا کہنا ہے کہ ’ججوں کی تضحیک صرف یہ نہیں ہے کہ ان کو سر کے بالوں سے پکڑ کر کھینچا جائے بلکہ کسی بھی جج اور اس کے خاندان کے دیگر افراد کی جاسوسی اور ذاتی زندگی میں مداخلت کرنا بھی ججوں کی تضحیک کے زمرے میں آتا ہے‘

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس پر کارروائی ختم کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ججوں کی تضحیک صرف یہ نہیں ہے کہ ان کو سر کے بالوں سے پکڑ کر کھینچا جائے بلکہ کسی بھی جج اور اس کے خاندان کے دیگر افراد کی جاسوسی اور ذاتی زندگی میں مداخلت کرنا بھی ججوں کی تضحیک کے زمرے میں آتا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل اور ان کے خاندان کی جاسوسی کی گئی جس سے متعلق ان کے مؤکل عدالت میں بیان حلفی بھی دینے کو تیار ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ایگزیکٹیو اعلیٰ عدلیہ کے کسی بھی جج کے خلاف مواد اکٹھا کر سکتی ہے؟ جس پر منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹو صدر کی منظوری کے بعد ہی مواد جمع کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فائز عیسیٰ کیس: ’مسٹر یہ کیک نہیں یہ کیس ہے‘

صدر کو خط: جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس خارج

’سب کو معلوم ہے جسٹس فائز عیسیٰ چیف جسٹس ہوں گے‘

انھوں نے کہا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو کسی جج کے خلاف مواد جمع کرنے کا اختیار نہیں۔

بینچ میں موجود جسٹس مقبول باقر نے سوال اُٹھایا کہ کیا صدر کو اختیار ہے کہ مواد جمع کرنے کا حکم کسی بھی ادارے کو دے سکے؟ جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل کا کہنا تھا کہ صدر کے تمام اختیارات بھی قانون کے ہی تابع ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ایگزیکٹو اختیارات کا استعمال صدر کا کام نہیں ہے۔

جسٹس فیصل عرب نے سوال اٹھایا کہ جمہوریت میں صدر ایگزیکٹیو کے اختیارات کیسے استعمال کر سکتا ہے؟ اس پر منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ کابینہ کی منظوری کے بغیر صدر کو معاملہ نہیں بھیجا جا سکتا۔ اُنھوں نے کہا کہ جج کے خلاف ملنے والے مواد پر صدر کی رائے قائم ہونا لازمی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل کا کہنا تھا کہ صدر کا کام صرف ڈاک خانے کا نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہر قانون کی خلاف ورزی مِس کنڈکٹ کے زمرے میں نہیں آتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 209 کا اطلاق صرف اعلی عدلیہ کے ججوں پر ہی نہیں ہوتا بلکہ آڈیٹر جنرل اور ممبران الیکشن کمیشن کو بھی آرٹیکل 209 کے تحت ہی ہٹایا جاتا ہے۔

منیر اے ملک نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدالت کو طے کرنا ہو گا کہ ججوں کے معاملے میں ایگزیکیٹو کے کیا اختیارات ہیں کیونکہ سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس اصول وضع کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ وزیراعظم کو ہے، ان کے اقدامات کو نہیں ہے اور وزیراعظم کے غیر قانونی احکامات چیلنج ہو سکتے ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ استثنیٰ وزیراعظم اور وزرا کی ذاتی زندگی اور فوجداری جرائم پر نہیں ہوتا۔

انھوں نے سوال ٹھایا کہ کیا ججوں کو حاصل استثنیٰ وزیراعظم سے زیادہ مضبوط نہیں کیونکہ ججوں کے کردار پر تو پارلیمان میں بھی بحث نہیں ہو سکتی۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعظم غیر قانونی اقدام کرے گا تو آرٹیکل 248 کا استثنیٰ دستیاب نہیں ہو گا. انھوں نے کہا کہ شکایت کنندہ وحید ڈوگر کی درخواست صدر مملکت کے سامنے نہیں رکھی گئی۔

جسٹس منیب اختر نے سوال اٹھایا کہ اس صدارتی ریفرنس میں صدرِ مملکت اور وزیر اعظم نے کہاں غیر آئینی اقدام کیا ہے جس پر منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ فیض آباد دھرنے کے بارے میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی جو اپیل دائر کی گئی ہے اس سے ان کا مائنڈ سیٹ ظاہر ہوتا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ کسی کے ذہن میں کیسے جھانکا جا سکتا ہے؟

جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے بارے میں نا تو صدر نے اپنی رائے قائم کی اور نا ہی وزیر اعظم یہ معاملہ منظوری کے لیے کابینہ میں لے کر گئے۔ انھوں نے کہا کہ اب وفاقی حکومت سے مراد وزیر اعظم نہیں بلکہ وفاقی کابینہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے یہ معاملہ کابینہ میں لے کر جانے کے بجائے احتساب سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر کو بھجوایا جنھوں نے اپنی طرف سے ان کے مؤکل کے خلاف ساری انکوائری کروائی.

منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کا سارا ڈیٹا غیر قانونی طریقے سے ایف بی آر سے حاصل کیا گیا۔

عدالت کے سوال پر جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل کا کہنا تھا کہ صدر کو کسی جج کے خلاف از خود کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ان کے پاس کسی شکایت کا آنا ضروری ہے۔

ان درخواستوں کی سماعت چھ نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں