کرتارپور راہداری: سندھ میں گرو نانک اور ان کے بیٹے سری چند کے پیروکار کون ہیں؟

عبادت گاہ تصویر کے کاپی رائٹ Waqar Ashraf/BBC

سورج غروب ہونے کے بعد جیسے ہی اندھیرا پھیلتا ہے تو ایک شخص پلیٹ میں دیا اور پھول لیے داخل ہوتا ہے۔ ساتھ میں ڈھولک اور جھنکار کی آواز بلند ہونے لگتی ہے اور کمرے کے اندر موجود مورتی کی آرتی اتاری جاتی ہے۔

یہ منظر کراچی سے تقریباً 120 کلومیٹر دور ٹھٹہ کے علاقے پیر جو گوٹھ میں واقع بابا سری چند دربار کا ہے جو سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کے بڑے بیٹے تھے۔

روایات اور کتابی حوالوں کے مطابق بابا سری چند نے تقریباً 450 سال قبل اس مقام پر دھونی یا مقدس آگ لگائی تھی۔ ان دنوں ترخائن خاندان حکمران تھا اور ٹھٹہ سندھ کا دارالحکومت تھا۔

اس دھونی کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ خشک میوہ جات کو گوبر کے ساتھ ملا کر یہ آگ جلائی جاتی ہے جس کی خاک عقیدت کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Waqar Ashraf/BBC

یہ بھی پڑھیے

سکھ برادری کرتارپور بارڈر کھلنے کے لیے بیتاب کیوں؟

’یہ قلعہ مسلمان اور سکھ دونوں کا ورثہ ہے‘

’گردوارہ جہاں مسلمان دیے جلاتے ہیں‘

سندھ میں اداسین پنتھ یا فرقہ

سندھ یونیورسٹی کے شعبۂ اینتھروپولوجی کی پروفیسر زاہدہ رحمان اداسین پنتھ پر اپنے تحقیقی مقالے میں لکھتی ہیں کہ سکھوں نے 16 ویں صدی میں مغل حکمرانوں کے جبر سے بچنے کے لیے سندھ میں نقل مکانی کی اور وہ اپنے ساتھ مذہبی رسومات اور روایات بھی لائے۔

ان کے مطابق ان دنوں پنجاب میں نانک پنتھ اور اداسین پنتھ یا فرقے مقبول تھے۔ درحقیقت اوائلی ہندو آبادکار سکھ ہی تھے اور بعد میں انھوں نے ہندو مت کی روایات اور رسومات اختیار کیں اور یوں وہ نانک پنتھی ہندو بن گئے۔

پروفیسر زاہدہ رحمان نے بھیرو مل مہر چند اڈوانی کی کتاب ’سندھ کے ہندوؤں کی تاریخ‘ کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں وہ لکھتی ہیں کہ سندھ کے زیادہ تر عامل پنجاب کے شہر اُچ، ملتان اور دیگر جیسلمیر، جودھپور اور گجرات سے آئے۔ ان عاملوں میں کچھ کھتری تھے جبکہ اکثریت لوہانہ تھے جو پنجاب میں سکھ مذہب سے وابستہ تھے۔ ابتدا میں حیدر آباد کے عامل (تاجر) بھی سکھ روایات کے مطابق بڑے بال رکھتے تھے۔

سندھ کے ضلع شکارپور میں کٹھ والی دربار، سمادھا آشرم، حیدر آباد میں ناگو گنگا رام، سکھر میں سوامی بکھنڈی مہاراج (سادھو بیلو) بابا سروپ چند دربار ہالانی نوشہرو فیروز، کاشی رام دربار اور روہڑی اداسین فرقے کے بڑے مراکز ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Waqar Ashraf/BBC

درباروں کے برہم چاری گدی نشین

بابا سری چند برہم چاری تھے یعنی انھوں نے شادی نہیں کی تھی۔

اس نسبت سے درباروں کے گدی نشین بھی شادی نہیں کیا کرتے تھے اور دنیاوی معاملات سے لا تعلق ہو کر عبادت میں یقین رکھتے تھے۔ برہم چاری روایت شکارپور کے سمادھا آشرم میں ابھی بھی جاری ہے۔

سمادھا آشرم کے منتظم بھگوان داس کہتے ہیں کہ سمادھا آشرم کو 250 سال ہو گئے ہیں۔ بابا ہربھجن پہلے گدی سر یا گدی نشین تھے جو پنجاب سے آئے تھے اور اب ساتویں گدی سر ہیں۔ ہمارا سائیں نعرہ لگاتا تھا سب کا مالک ایک ہے۔

شکارپور میں دسویں گرو گوبند سنگھ کی خالصہ فوج کے ایک ایسے سپاہی نے بھی دربار قائم کیا جو اداسین پنتھ کے پیروکار تھے۔ ہندو کمیونٹی کے زیر انتظام اس دربار کو کھٹ یا چارپائی والا دربار کہا جاتا ہے۔

روایت کے مطابق سکھوں نے گرو گوبند سنگھ کو شکایت کی کہ گرداس دشمنوں کو بھی پانی پلاتے ہیں۔ گرو گوبند نے جب گرداس سے سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ہر زخمی میں مجھے آپ نظر آتے ہیں آپ پانی مانگیں اور میں نہ دوں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اس پر گرو گوبند نے انھیں حکم دیا کہ وہ سکھ ازم کی تبلیغ کریں اور یوں وہ شکارپور آ گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Waqar Ashraf/BBC

سندھ میں پنتھوں یا فرقوں کا انضمام

سندھ کے ایسے درباروں میں بابا گرونانک، بابا سری چند، گرو گوبند سنگھ کے علاوہ ہندو دیوی اور دیوتاؤں کی تصاویر تو نظر آتی ہیں لیکن مندروں کی طرح ان کی مورتیاں نہیں ہوتیں بلکہ بابا سری چند اور درباروں کے گدی نشینوں کی مورتیاں موجود ہیں۔

پروفیسر زاہدہ رحمان جت اداسین پنتھ پر اپنے مقالے میں رقم طراز ہیں کہ نانک پنتھی، اداسین پنتھی اور دریا پنتھی سب ایک ہو گئے ہیں، اس لیے ان کی علامات موجود ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’پنجاب میں اداسین پنتھ سکھ ازم کے قریب ہے جبکہ سندھ میں یہ ہندو ازم کے نزدیک ہے۔‘

سندھ میں ہندو اور سکھ مذاہب، سنتوں سادھوؤں اور عبادت گاہوں کے موضوعات پر محقق ذوالفقار کہلوڑو کا کہنا ہے کہ سندھ میں اداسین پنتھ اور گروگوبند کے پنتھ میں انضمام ہو گیا ہے اور اب انھیں نانک پنتھی کہا جاتا ہے۔ تاہم دونوں میں تھوڑا سا فرق بھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Waqar Ashraf/BBC

اداسین عبادت گاہ کو دربار جبکہ نانک پنتھیوں کی عبادت گاہ کو ٹھکانو کہا جاتا ہے تاہم برصغیر کی تقسیم کے بعد یہ فرق بھی ختم ہو گیا ہے۔

سکھوں کے دسویں گروگوبند سنگھ نے جب خالصہ سکھوں کو ہر وقت پانچ چیزیں کیس (لمبے بال)، کنگھا، کڑا، کچھا اور کرپان رکھنے کی ہدایت کی تو سندھ میں نانک پنتھیوں یا اداسی پنتھ کے پیروکاروں نے اس کی پیروی نہیں کی۔

ہندوؤں کے لیے گرو گرنتھ کی تعلیم

شمالی سندھ میں سکھ مذہبی کتابوں کی تعلیمات ہندو کمیونٹی کے مذہبی فرائض میں شامل ہے اور گرودواروں کے علاوہ درباروں اور بعض مندروں میں ہندو اور سکھ دونوں ہی مذاہب کی کتابیں پڑھی جاتی ہیں۔

شکارپور کے دودائی روڈ پر واقع گرودوارے میں روزانہ شام کو دو گھنٹے پاٹ شالا ہوتی ہے جہاں سکھوں کے مذہبی کتاب گرو گنتھ کی تعلیم دی جاتی ہے۔

ساگر کمار روزانہ 60 بچوں کو دو گھنٹے پڑھاتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں ایسی چھ پاٹ شالائیں یا مذہبی سکول ہیں اور کلاس کے اختتام پر سکھ مذہب کی عبادت ہرداس اور کیرتن بھی ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Waqar Ashraf/BBC

ننکانہ صاحب اور سندھی منتظمین

برصغیر کی تقسیم کے بعد سکھ انڈیا منتقل ہو گئے جبکہ ہندو آبادی نے سکھوں کے اداسین فرقے اور مذہبی کتابوں کو سنبھالے رکھا۔

اب ننکانہ صاحب میں گرونانک کی 550 ویں سالگرہ کی تقریبات میں کشمور، جیکب آباد، شکارپور سمیت سندھ کے کئی شہروں سے ہندو کمیونٹی کے لوگ بھی شرکت کریں گے۔

شکارپور کی چارپائی والی دربار کے منتظم پرتاب رائے کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں گرو نانک کے پیروکار سندھ میں زیادہ ہیں۔ گرو نانک کے 550 سالہ جنم میلے میں بھی بڑی تعداد میں سندھی ہندو ہوں گے۔ سکھ تو دس فیصد ہوتے ہیں وہاں جو بھی خرچہ لنگر وغیرہ ہوتا ہے اس کا انتظام سندھی ہندو کرتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’ہندو ازم ہو یا سکھ ازم بنیادی طور پر ایک ہی ہے۔ گرونانک صاحب تو ہندو تھے اور اسی نظر سے ان کا مذہب تھا انسانیت، اچھے کام کرو اور انسانیت کی خدمت کرو۔‘

اسی بارے میں