#LahoreSmog: لاہور میں سموگ میں کمی، سکول بدستور بند

لاہور تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاہور شہر میں گذشتہ کئی برسوں سے سردیوں کے موسم میں سموگ اور فضائی آلودگی انتہائی اہم مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے

پاکستان کے صوبہ پنبجاب کے دارالحکومت لاہور میں بدھ کی رات سموگ کی وجہ سے پھیلنے والی فضائی آلودگی کے انتہائی خطرناک سطح پر پہنچنے کے بعد جمعرات کی صبح حالات میں بہتری آئی ہے۔

لاہور میں امریکی سفارتخانے میں نصب فضا کے معیار کی نگرانی کرنے والے آلات سے حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق جمعرات کی صبح دس بجے لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 130 تھا جبکہ بدھ کی شب 11 بجے یہ انڈیکس 580 تک پہنچ گیا تھا۔

اے کیو آئی کے مطابق 130 کی شرح حساس طبعیت کے مالک افراد کے لیے تاحال غیرصحتمندانہ ہے جبکہ 580 کی شرح تو ہر فرد کے لیے انتہائی خطرناک تصور کی جاتی ہے۔

یہ گذشتہ دس دنوں کے دوران دوسرا موقع ہے کہ لاہور کی فضا کا معیار خطرناک حد تک خراب ہوا ہے۔ اس سے قبل 29 اکتوبر کو بھی لاہور کی فضا آلودگی کے اعتبار سے دنیا میں بدترین تھی۔

واضح رہے کہ پاکستانی حکام اس سموگ کی وجہ سرحد پار انڈیا میں کسانوں کی جانب سے دھان کی فصل کی باقیات نذرِ آتش کرنے کو قرار دیتے رہے ہیں۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

بدترین سموگ میں ’لاہور والے زندہ کیسے رہتے ہیں؟‘

سموگ میں احتجاج؟ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟

لاہور ہائی کورٹ ماحولیاتی پالیسی کی نگرانی کرے گی

سموگ کے معاملے پر پنجاب حکومت کا انڈیا سے رابطہ

ایئر کوالٹی انڈیکس کا تعین فضا میں مختلف گیسوں اور پی ایم 2.5 (فضا میں موجود ذرات) کے تناسب کو جانچ کر کیا جاتا ہے۔ ایک خاص حد سے تجاوز کرنے پر یہ گیسیں ہوا کو آلودہ کر دیتی ہیں۔

عام طور پر سموگ کے باعث آنکھوں ناک اور گلے میں جلن کی شکایت کی جاتی ہے اور ساتھ ہی یہ سانس کی تکلیف میں مبتلا لوگوں کے لیے بھی انتہائی مضر سمجھی جاتی ہے۔

نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق لاہور میں سموگ میں قابلِ ذکر حد تک کمی کی وجہ شہر میں رات گئے ہونے والی بارش اور وہاں چلنے والی تیز ہوائیں بنی ہیں جسے فضائی آلودگی میں کمی آئی ہے۔

خیال رہے کہ لاہور میں بدھ کی شام کو فضائی آلودگی میں حیران کن اضافے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹویٹ کے ذریعے اعلان کیا تھا کہ شہر کے تمام سکول جمعرات کو بند رہیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ 'سموگ میں اچانک اضافے کی وجہ سے لاہور میں تمام سکول بند رہیں گے۔ حکومت لاہور سموگ کا جائزہ لے رہی ہے اور فصل جلانے اور سموگ میں اضافہ کرنے کے دیگر عوامل کے خلاف قدم اٹھانے کے لیے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔'

صوبائی دارالحکومت میں شدید سموگ کی خبریں اور سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے شکایات سامنے آنے کے بعد پاکستان میں بدھ کی شب ٹوئٹر پر LahoreSmog # اور AirPollution# جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے رہے۔

لاہور میں امریکہ قونصل خانے کی جانب سے بھی ٹویٹ سامنے آئی جس میں انھوں نے بتایا کہ 'ائیر کوالٹی انڈیکس' یعنی اے کیو آئی کی درجہ بندی پر لاہور میں فضائی آلودگی 500 سے زیادہ ہے جو کہ درجہ بندی کے معیار کے مطابق شدید خطرناک ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
آلودگی سے بچنے کا بہترین طریقہ

ائیر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی)کا مطلب کیا ہے؟

جب اے کیو آئی صفر اور پچاس کے بیچ میں ہو تو اس کا مطلب ہے کہ ہوا کی کوالٹی اچھی ہے۔’

اے کیو آئی کا 51 سے 100 کے درمیان ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہوا کی کوالٹی درمیانے درجے کی ہے۔ تاہم 101 سے 150 تک کی ایئر کوالٹی سے سانس کی بیماریوں میں مبتلا اور حساس طبیعت افراد کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

ہوا کی کوالٹی اگر 151 سے 200 کے درمیان ہو تو وہ غیر صحت بخش ہو جاتی ہے جس سے عام لوگوں کی صحت کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔

اگر اے کیو آئی 201 سے 300 کے درمیان ہو جائے تو فوراً صحت کی ایمرجنسی نافذ کر دینی چاہیے۔ جبکہ اگر اے کیو آئی 301 سے 500 کے بیچ ہو تو عام لوگوں کو صحت کے حوالے سے شدید نقصانات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

سموگ کیسے پھیلتی ہے؟

ماہرین کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے شمال میں پہاڑی سلسلے واقع ہیں۔ یہ ایک دیوار کا کام کرتے ہیں۔ چاول کے منڈھ جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں فضا میں اٹھتا ہے، معلق رہتا ہے اور جب ادھر کی ہوا چلتی ہے تو یہ پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جس قدر یہ زیادہ ہو گا، اتنا دور تک پاکستان کے اندر تک سفر کرے گا۔ اس طرح زیادہ شہر متاثر ہوں گے۔

سموگ سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ پنجاب کے ترجمان نسیم الرحمٰن نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ سموگ سے بچاؤ کے لیے اندرونی سطح پر چار اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ روایتی اینٹوں کے بھٹوں پر پابندی، فیکٹریوں میں باقاعدہ فلٹریشن کے آلات، گاڑیوں کے دھوئیں پر قابو پانا اور دھان کی مڈھی جلانے کے عمل کی روک تھام۔

زگ زیگ بھٹے

نسیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ بھٹے کی نیپال میں استعمال ہونے والی زگ زیگ ٹیکنالوجی پاکستان میں متعارف کروا دی گئی ہے۔ روایتی بھٹے کو ہی زِگ زیگ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی بھٹہ مالکان کے تعاون سے نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

’روایتی بھٹے کے مقابلے میں زگ زیگ بھٹے میں ایندھن یعنی کوئلے کی کھپت میں 30 فیصد تک کمی ہوتی ہے جبکہ اس سے پیدا ہونے والی آلودگی میں 70 فیصد کمی آتی ہے۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
دہلی کو سموگ نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے جس سے زندگی اجیرن ہو گئئ ہے

مزید پڑھیے

پاکستان میں میڈ ان انڈیا سموگ

’سموگ کی صورت میں کارخانوں کو بند کرنے پر غور‘

ان کا کہنا تھا سموگ کا موسم گزر جانے کے بعد بھی صرف ان بھٹوں کو چلنے کی اجازت دی جائے گی جو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ چند برسوں سے لاہور میں موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی فضائی آلودگی میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور چند روز قبل بھی پاکستان میں ماحول کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے والی تنظیم کلائمیٹ ایکشن ناؤ نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ 'لاہور میں اس وقت پی ایم 2.5 عام سطح سے دس گنا زیادہ ہے‘۔

ادھر انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے عمر وڑائچ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی ٹویٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’آپ کے پاس سموگ سے نمٹنے کے لیے 15 ماہ کا عرصہ تھا۔ اس میں ’اچانک‘ کی کوئی بات نہیں ہے‘۔

لاہور میں بدھ کی شام ہوا کیا ؟

بدھ کی شام مختلف صارفین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سموگ کا ذکر شروع کیا اور ’جلنے کی بو‘ کی شکایات کرنا شروع کیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستانی ٹرینڈز میں لاہور سموگ، فضائی آلودگی جیسے موضوعات ٹاپ ٹرینڈز بن گئے۔

ٹوئٹر پر اے وائی جمال نے ٹویٹ کی کہ 'یہ لاہور کینٹ کے علاقے میں دھوئیں کی بو کیوں آ رہی ہے اور یہ کیا جلا رہے ہیں۔ کیا سموگ کافی نہیں ہے ہمیں پھیپڑوں کی بیماری دینے کے لیے؟'

ایک صارف نے لکھا کہ شام چار بجے کے قریب سموگ میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور اتنی جلدی بڑھ گئی کہ گھر میں بھی ماسک پہننے کے باوجود سانس لینا محال ہو گیا۔

صارف مریم نے ٹویٹ میں کہا کہ وہ شام میں اسلام آباد سے لاہور پہنچی تھیں کہ ان کی آنکھیں جلنے لگیں اور کھانسی شروع ہو گئی۔ 'یہ سموگ روزانہ کی سموگ سے زیادہ بری ہے کیا ہو رہا ہے!'

وکیل ڈاکٹر اسامہ صدیق نے ان حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پورے لاہور سے لوگ جلنے کی بو کی شکایت کر رہے ہیں۔ کیا آگ لگی ہے یا کچھ اور ہوا ہے۔ کیا کسی کو علم ہے؟ ہم کسے فون کریں؟'

ان حالات کو دیکھتے ہوئے صوبہ پنجاب کے وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے ٹویٹ میں اعلان کیا کہ جمعرات کو لاہور شہر کے تمام سکول بند رہیں گے۔

ایک اور صارف میاں عمر نے سکول بند کرنے کے اعلان پر تبصرہ کیا کہ ’سکولوں کو بند کیا گیا ہے تو کیا کالج، یونیورسٹی جانے والے طلبا سموگ سے متاثر نہیں ہوتے؟‘

میاں عمر نے جہاں صرف کالج، یونیورسٹی کے طلبا کا ذکر کیا تو دوسری طرف زین رضا نے سوال اٹھایا کہ ساری توجہ لاہور پر ہے لیکن خدارا لاہور کے پڑوس میں بسنے والے شہر جیسے گجرانوالہ، شیخوپورا ، فیصل آباد کو نہ بھولیں جو سموگ سے اتنے ہی متاثر ہیں۔

سموگ: بچے اپنا مدعا لے کر عدالت پہنچ گئے

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں فضائی آلودگی اور سموگ سے پریشان تین طالب علموں نے صوبے کی اعلیٰ عدالت سے رجوع کیا ہے اور ایک درخواست کے ذریعے یہ استدعا کی ہے فضائی آلودگی سے بچاؤ کے لیے سموگ پالیسی اور ایکشن پلان ترتیب دیا جائے۔

صحافی عباد الحق کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے اس درخواست پر ابتدائی کارروائی کے بعد پنجاب حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں سے رپورٹ مانگ لی ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مامون رشید شیخ نے درخواست کی خود سماعت کی اور اسے باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کر لیا۔ یہ درخواست نجی کالج کی طالبہ لائبہ صدیقی سمیت سکول جانے والے دو بچوں، لیلیٰ عالم اور مشل حیات نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی۔

فضائی آلودگی اور سموگ کے تدراک کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں مخلتف درخواستیں زیر سماعت رہیں لیکن یہ اپنی نوعیت کی پہلی درخواست ہے جس میں بچوں نے اس معاملے پر عدالت سے رجوع کیا۔

احمد رافع عالم نے اس موقع پر بی بی سی کو بتایا کہ بچوں نے یہ درخواست اپنے والدین کی رضا مندی اور اجازت سے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی ہے۔

اُن کے بقول سموگ اور فضائی آلودگی کی زد میں سب زیادہ بچے آتے ہیں اور فضائی آلودگی کے اثرات بچوں کی صحت پر نہ صرف منفی اثرات چھوڑتے ہیں بلکہ ان کی کھیل کی سرگرمیاں بھی محدود ہو جاتی ہیں۔

منگل کے روز درخواست گزار بچے اپنے وکیل احمد رافع عالم کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے اور قائم مقام چیف جسٹس نے اُن کے وکیل کے دلائل سنے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار وکیل نے ائیر کوالٹی میٹر کے ذریعے بتایا کہ فضا میں کس قدر آلودگی ہے۔

ایڈووکیٹ رافع عالم نے دلائل میں سموگ اور فضائی آلودگی پر تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ فضائی آلودگی سے بچوں کے ذہن اور ان کی جسمانی نشونما پر منفی اثرات ہوتے ہیں۔

درخواست گزار بچوں کے وکیل نے نشاندہی کی کہ امریکی ادارہ ماحولیات جس معیار کو غیر تسلی بخش قرار دیتا ہے اسی معیار کو پاکستان میں متعلقہ محکمے تسلی بخش کہتے ہیں۔

وکیل رافع عالم نے بتایا کہ سردیوں کے شروع ہوتے ہی خراب ہوا کی وجہ سے بچوں میں بیمار یوں کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

اسی بارے میں