پاکستان سینیٹ کا اجلاس: اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں شدید بحث

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شیری رحمان کو چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اپنی تقریر جتنی جلدی ہو سکے مکمل کریں کیونکہ ان سے پہلے نور کاکڑ کافی وقت لے چکے تھے (فائل فوٹو)

بدھ کو سینیٹ کے اجلاس میں حکومت نے تھوڑی دیر تک تحمل کا مظاہرہ کر کے حزبِ اختلاف کی تقریریں سنیں لیکن اس کے بعد اس قدر احتجاج کیا کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو کہنا پڑا کہ ’بھئی آپ تو حکومت ہیں، آپ تو صبر کا مظاہرہ کریں‘۔

ایک روز پہلے منگل کو اسی قسم کے ہنگامے کو دیکھتے ہوئے سینیٹ کا اجلاس ملتوی کیا گیا تھا۔ لیکن بدھ کو اجلاس شروع ہونے سے پہلے چیئرمین سینیٹ کے چیمبر میں سبھی جماعتوں کے سینیٹرز کو ایک ساتھ بیٹھا کر بات چیت کی گئی، جس میں طے ہوا کہ جو ایجنڈا تیار کیا گیا ہے اس پر بات کرنا ضروری ہے سو کی جائے گی۔

ایجنڈے میں موجود تمام نکات وہ ہیں جو اسلام آباد میں جاری جمیعت علمائے اسلام (ف) کے احتجاج کے اہم مطالبوں میں بھی شامل ہیں۔ اس ایجنڈے میں پاکستان کی بگڑتی معیشت، سیاسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات، آزادی مارچ اور صحافیوں پر لگائی گئی پابندیوں اور سنسرشپ پر بات کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

’آئندہ کا لائحہ عمل آل پارٹیز کانفرنس میں طے ہوگا‘

مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کس کروٹ بیٹھے گا؟

مولانا اور ’عمرانی‘ معاہدہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو کہنا پڑا کہ 'بھئی آپ تو حکومت ہیں، آپ تو صبر کا مظاہرہ کریں'۔

جہاں حزبِ اختلاف کی جماعتیں اپنی تعداد میں پوری تھیں وہیں حکومتی بینچوں پر چیدہ چیدہ ارکان نظر آئے۔ ان میں سے چند ایک دوسرے سے بات کرتے اور اپوزیشن بینچوں کی جانب بھی کھڑے نظر آئے لیکن جیسے ہی تقاریر شروع ہوئیں اور ایک دوسرے کے سیاسی نظریات اور کرپشن کی تاریخ پر سوال اٹھنا شروع ہوئے تو یہ چند سینیٹر بھی اپنے اپنے دستوں کی طرف چلے گئے۔

شروع میں حزبِ اختلاف کو بات کرنے کا موقع دیا گیا جس میں خاصی زوردار تقاریر کی گئیں۔ ان میں سینیٹر رضا ربانی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے نور کاکڑ اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کے جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری شامل تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے تقاریر ’سیاسی استحصال‘ سے متعلق تھیں جس پر فاروق ایچ نائیک، شیری رحمان اور رضا ربانی نے بات کی۔

شیری رحمان کو چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اپنی تقریر جتنی جلدی ہو سکے مکمل کریں کیونکہ ان سے پہلے نور کاکڑ کافی وقت لے چکے تھے۔

ان تقاریر کے دوران دو نام آنے پر مکمل خاموشی ہوجاتی تھی چاہے اس سے پہلے کتنا ہی شور کیوں نہ ہو رہا ہو اور وہ تھے پاکستان کی فوج اور پشتون تحفظ موومنٹ۔

اس بارے میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے نور کاکڑ نے کہا کہ ’میڈیا کی آزادی تب تک منظور ہے جب تک وہ حکومت کی تعریف کرے۔ لیکن جہاں فوج کی ملکی معاملوں میں مداخلت اور پشتونوں کے تحفظ کی بات آئے تو میڈیا بھی غدار کہلایا جاتا ہے‘۔

پاکستان کی فوج کا پاکستان کی معیشت سے لے کر ’ہر ادارے میں مداخلت‘ کے تناظر میں تین سے چار بار نام لیا گیا اور ہر بار حکومتی ارکان کی بینچ خاموش رہے۔ سینیٹر فیصل جاوید نے ’فوج کی قربانیوں‘ اور ملک کے لیے ایک ’مستحکم معیشت‘ بنانے کی بات کی۔

حکومتی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے فیصل جاوید کو بات کرنے کا موقع دیا گیا تو انھوں نے اٹھتے ہی کہا کہ معیشت کی بحالی کے بہترین شواہد مل رہے ہیں۔ جس پر اپوزیشن جماعتوں سے آواز دی گئی کہ ’یہ اشارے کون دے رہا ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI

اس پر چیئرمین سینیٹ نے حزبِ اختلاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ سنیں تو صحیح‘۔

فیصل جاوید کی تقریر کا محور تھا کہ وزیرِ اعظم استعفیٰ نہیں دیں گے۔ ’اس لیے احتجاجی دھرنا دے کر گھر واپس چلے جائیں‘۔

انھوں نے کہا کہ ’دھرنا تو پی ٹی آئی نے دیا تھا۔ جب ہم دھرنے کے لیے نکلے تھے تو ہماری باتوں کی ایک سمت تھی جو اس دھرنے میں نظر نہیں آرہی۔`

جے یو آئی (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری کو اس بات کا جواب دینے کا موقع دیر سے لیکن ملا ضرور جس کا انھوں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’ایک تو یہ آزادی مارچ ہے، دھرنا نہیں۔ جب ہم دھرنا دیں گے تو اس کا رنگ کچھ اور ہو گا۔ ہمیں آپ کے وزیرِ اعظم کی کوئی حمایت نہیں چاہیے۔ اگر حمایت کرنا چاہتے ہیں تو استعفیٰ دے دیں‘۔

اس دوران حزبِ اختلاف اور حکومت کی طرف سے موجود سینیٹروں کی جھڑپ شروع ہوئی جو کسی بھی طرح ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ ایک لمحے کے لیے لگا کہ بدھ کا اجلاس بھی کسی خاص انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی ملتوی کر دیا جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ نتیجتاً مراد سعید کو اپنی تقریر بیچ میں ہی ختم کرنے کا کہا گیا۔

اس زبانی جھڑپ کا آغاز وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید کی تقریر سے ہوا اور تمام تر کوششوں کے ناکام ہونے کے بعد مغرب کی اذان ہونے پر ختم ہوا۔ اذان شروع ہونے پر چیئرمین سینیٹ کو پھر آواز لگانی پڑی، ’مسلمانوں، اذان تو سن لو‘۔

سینیٹر رضا ربانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ کسی بھی طرح سے کرپشن کی حمایت نہیں کرتے اور نہ کبھی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وجود سے ہی ایک واضح تفریق دیکھنے میں آتی ہے جس میں سویلین اور فوج کو دی گئی رعایت میں واضح فرق ہے اور یہ کہ اس کا بلاواسطہ اثر پاکستان کے ہر شعبے اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے فرد کی زندگیوں پر ہوتا ہے۔

’جو لوگ خود مختاری کی بات کرتے ہیں ان کو غائب کردیا جاتا ہے۔ ان خاندانوں سے میڈیا کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ جس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ بات کس کے کنٹرول میں ہے‘۔

رضا ربانی نے سینیٹروں اور چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’موجودہ حکومت کی کارکردگی اور ان کو دی گئی آزادی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تاجر برادری اپنی شکایات وزیرِ اعظم کے پاس لے جانے سے پہلے پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف کے پاس لے جاتی ہے‘۔

سینیٹر رضا ربانی کی تقریر نے سب کو خاموش کر دیا۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد حزبِ اختلاف اور حکومتی ارکان میں ہونے والی چپقلش کے نتیجے میں ’گو عمران گو‘ کے نعرے بھی لگائے گئے۔

یہ صاف ظاہر تھا کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں اپنے پوچھے گئے سوالات کا جواب لیے بغیر نہیں جانا چاہتیں۔ لیکن حکومتی ارکان کی طرف سے ان سب سوالوں کا کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔ اور جیسے ہی مراد سعید کو دوبارہ اپنی تقریر شروع کرنے کا موقع دیا گیا تو حزبِ اختلاف کی بینچیں پہلے سے ہی خالی ہو چکی تھیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں