کرتارپور راہداری: سکھ یاتریوں کے لیے خصوصی رعایتیں، اب پہلے سے معلومات بھی نہیں دینا ہوں گی

کرتاپور گورو دوارہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرتارپور راہداری کا افتتاح 9 نومبر کو کیا جارہا ہے جس کے تحت انڈیا سے پاکستان آنے والے سِکھ یاتری کرتاپور گورو دوارہ آ سکیں گے

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اپنے ایک بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے گرونانک کی 550ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے تین خصوصی رعایتوں کا اعلان کیا ہے۔

’ایک تو آنے والے سکھ یاتریوں کو ایک سال تک پاسپورٹ لانے کی ضرورت نہیں ہوگی، کرتارپور راہداری سے آنے والے سکھ یاتریوں کو پاکستان کی حکومت کو اپنی معلومات نہیں دینی ہونگی، یاتریوں کو صرف دو دن کے لیے، یعنی نو اور بارہ نومبر 2019 کو، فی یاتری، فی دورہ، بیس امریکی ڈالر کا سروس چارج نہیں دینا ہوگا‘

دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے کہا کہ ’یہ ساری معلومات انڈین حکومت کو فراہم کی جا چکی ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

سکھ برادری کرتارپور بارڈر کھلنے کے لیے بیتاب کیوں؟

کرتارپور: ’پاکستان کے خفیہ ایجنڈے سے ہوشیار رہیں‘

’کرتارپور راہداری کی تعمیر ایک معجزہ ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
کرتارپور راہداری ’رشتوں کی ایک نئی عبارت لکھے گی‘

بدھ کے روز پاکستان کی فوج کے شعبے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران کہا کہ ’سکھ یاتریوں کو شناخت کے لیے پرمٹ یا پاسپورٹ لانا ضروری ہو گا۔‘

اس بارے میں جب جمعرات کو دفترِ خارجہ کی بریفنگ کے دوران سوال پوچھا گیا تو محمد فیصل نے کہا کہ ’آئی ایس پی آر کی جانب سے دیا گیا بیان ہماری کرتارپور پالیسی کے مطابق ہے۔‘ بعد میں فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’آئی ایس پی آر کے بیان کو مِس کوٹ کیا گیا تھا۔‘

یکم نومبر کو پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ پاکستان آنے والے سِکھ یاتری کسی بھی شناختی کارڈ کے ساتھ کرتارپور راہداری استعمال کر سکیں گے، انھیں پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

کرتارپور راہداری کا افتتاح 9 نومبر کو کیا جارہا ہے جس کے تحت انڈیا سے پاکستان آنے والے سِکھ یاتری کرتاپور گورو دوارہ آ سکیں گے۔ جس کے بعد 12 نومبر کو بابا گرونانک کی پانچ سو پچاسویں سالگرہ منائی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 12 نومبر کو بابا گرونانک کی پانچ سو پچاسویں سالگرہ منائی جا رہی ہے

اس راہداری کا دورہ کرنے کے لیے سکھ یاتریوں کو ویزا لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس بارے میں جمعرات کے روز ہونے والی بریفنگ میں دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے بتایا کہ ’پاکستان نے نانک نام لیواؤں کی بہت پرانی درخواست پر عمل کرتے ہوئے اس راہداری کو کھولنے کا فیصلہ کیا۔ اس خواہش کا عمل اسلامی اصولوں کے مطابق ہے۔‘

پاکستان کی حکومت نے ایک خاص سکّہ اور ڈاک ٹکٹ بھی متعارف کروایا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق 12 نومبر کو پانچ ہزار سِکھ یاتری متوقع ہیں جن کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔

اس بارے میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کیے گئے معاہدے کے مطابق یاتریوں کو الیکٹرانک رجسٹریشن اور پاسپورٹ کی ضرورت ہوگی لیکن ویزا کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان طے ہوا تھا کہ سِکھ یاتریوں کو پاکستان کی حکومت کو اپنے آنے سے دس دن پہلے اپنی تمام تر معلومات دینی ہوگی۔

اب پاکستان کی جانب سے پاسپورٹ لانے کی شرط پر اور دس دن پہلے معلومات فراہم کرنے کی شرط پر رعایت دے دی گئی ہے اور دفترِ خارجہ کے مطابق انڈین حکومت کو یہ معلومات فراہم کردی گئی ہیں۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کرتارپور راہداری پر اپنی بات کو سابق انڈین کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ ِسدھُو پر ختم کرتے ہوئے کہا کہ ’سدھو صاحب کو یقینا ویزا دے دیا گیا ہے اور وہ اس بار بھی (پاکستان) آئیں گے۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’اب تو ہفتے میں دو بار کرتارپور آیا کریں گے!‘

اسی بارے میں