سموگ: کیا پاکستان میں آلودگی کی وجہ انڈیا سے آنے والا دھواں ہے؟

سموگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کے شمالی حصے اور پاکستان کے بعض حصے فضائی آلودگی سے شدید متاثر ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے سرحد کی دونوں جانب الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

پاکستانی وزرا نے سرحد پار بڑے پیمانے پر فصلوں کی کٹائی کے بعد بچ جانے والی باقیات یا مڈھی جلانے کو پاکستانی شہروں، خاص کر کہ لاہور میں شدید فضائی آلودگی کا سبب قرار دیا ہے۔

سال کے اس حصے میں گندم کی فصل کی تیاری کے لیے پیال اور مڈھی کو ختم کرنے کے لیے اسے جلایا جاتا ہے جس سے فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب ایک انڈین سیاستدان کا بھی کہنا ہے دلی کو متاثر کرنے والی زہریلی ہوا پاکستان یا چین سے آ رہی ہے۔

مگر آخر ان کے اس دعوے میں کتنی سچائی ہے؟

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

پاکستان میں میڈ ان انڈیا سموگ

بدترین سموگ میں ’لاہور والے زندہ کیسے رہتے ہیں؟‘

سموگ کے معاملے پر پنجاب حکومت کا انڈیا سے رابطہ

سیاستدانوں نے کیا کہا ہے؟

پاکستانی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گُل نے امریکی خلائی ادارے ناسا کی ایک تصویر ٹویٹ کی اور ساتھ کہا کہ انڈیا میں کٹائی کے بعد کھیتوں کو آگ لگائی جا رہی ہے جو لاہور میں سموگ کی وجہ بن رہی ہے۔

ان کی اس ٹویٹ کے جواب میں بعض لوگوں نے ان کے اس دعوے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ کیا آلودگی کا الزام سرحد پار لگا دینا درست ہے؟

اُدھر بی جے پی کے ایک رہنما ونیت اگروال شاردا نے انڈیا میں آلودگی کا الزام پاکستان اور چین دونوں پر لگا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ’زہریلی ہوا‘ دونوں میں سے ایک ملک کی جانب سے چھوڑی گئی ہے جس سے دلی کی فضا متاثر ہو رہی ہے۔

یہ واضح نہیں کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے اور کیا وہ اس سموگ کی بات کر رہے ہیں؟ اگر بات سموگ کی ہی ہے جو مڈھی کو جلانے سے پیدا ہوتی ہے تو یہ تو پاکستان سمیت انڈیا میں بھی سال کے اس عرصے میں ضرور ہوتی ہے۔

مڈھی کو کتنے بڑے پیمانے پر جلایا جا رہا ہے؟

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سال کے اس وقت انڈیا کی ریاست ہریانہ اور پنجاب میں کسانوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر مڈھی جلائی جاتی ہے اور ایسا ہی پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بھی ہوتا ہے۔

تاہم امریکی خلائی ادارے ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ انڈیا کی طرف پاکستان کے مقابلے میں زیادہ آگ دیکھی جا سکتی ہے۔

پاکستان کا شہر لاہور انڈیا کی سرحد کے قریب ہے اس لیے وہ سرحد پار سے آنے والے دھوئیں سے باآسانی متاثر ہو سکتا ہے۔

آگ جلا کر مڈھی کو تلف کرنے کے طریقے کی روک تھام کے اقدامات کے باوجود انڈیا میں بظاہر اس مرتبہ آگ جلانے کے واقعات گذشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ دیکھے گئے ہیں۔

انڈیا میں ریاست پنجاب کی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس 23 ستمبر سے چھ نومبر تک آگ لگانے کے 42 ہزار 676 واقعات ہوئے جو کہ سنہ 2018 اور سنہ 2017 کے اس پورے سیزن کے کُل واقعات سے بھی زیادہ ہے۔

مڈھی جلانے کے واقعات آلودگی میں اضافے کی بڑی وجہ ہے لیکن اس میں دیگر محرکات پر بھی توجہ دینی ہو گی۔

آلودگی کی دیگر وجوہات کیا ہیں؟

سال کے اس عرصے میں موسم کی صورتحال بھی اہم ہے جو تعین کرتی ہے کہ فضا میں آلودگی کتنی دور اور کس جانب جاتی ہے۔

مون سون کے بعد مڈھی جلانے کے اس عرصے میں ہوائیں جنوب سے جنوب مشرق کی جانب چلتی ہیں جس سے آلودگی انڈیا کی جانب جانی چاہیے، نہ کے پاکستان کی طرف۔

لیکن امریکی ادارے رینڈ کارپوریشن کی جانب سے کی گئی حالیہ تحقیق کے مطابق ایسا ہر سال بدل سکتا ہے جس کا دارومدار ہوا کے دباؤ اور مڈھی جلانے کے اوقات پر ہوتا ہے۔

ایک مخصوص وقت پر موسم کے بارے میں معلومات کے بغیر ہوا کے رخ کے بارے میں اندازے لگانا مشکل ہے لیکن انڈیا میں مڈھی جلائے جانے سے پیدا ہونے والی آلودگی سے لاہور سے زیادہ دلی کے متاثر ہونے کے امکانات ہیں۔

اور دلی کی طرح لاہور میں بھی سموگ کی کئی وجوہات ہیں جیسا کہ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، کوڑا جلایا جانا اور صنعتی فضلہ۔

اسی بارے میں