سابق وزیر اعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے وزارت داخلہ نے معاملہ نیب کو بھیج دیا

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست ان کے بھائی اور سابق وزیر اعلی شہباز شریف نے دائر کی ہے

وزارت داخلہ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے لیے معاملہ قومی احتاسب بیورو کے سپرد کر دیا ہے۔ نیب کے ترجمان نے بھی تصدیق کردی ہے کہ وزارت داخلہ کی طرف سے خط نیب کو مل گیا ہے۔

نمائندہ بی بی سی شہزاد ملک کے مطابق نیب نے وزارت داخلہ کے حکام کی طرف سے درخواست موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ یہ درخواست پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی طرف سے دی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق اس درخواست میں میاں نواز شریف کی خرابی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ممکنہ طور پر بیرون ملک علاج کروانے کا ذکر کیا گیا ہے اور اسی بنا پر ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بحیثیت وزیرِ داخلہ میاں نواز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مریم کے باہر جانے کا ’خدشہ‘ اور عدالت کا حکم

مریم رہائی کے بعد نواز شریف کے ہمراہ جاتی امرا میں

پلیٹلیٹس ہوتے کیا ہیں، ان کی کمی سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟

’نواز شریف کو باہر چلے جانا چاہیے‘

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے والد اور پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں علاج کے لیے ملک سے باہر چلے جانا چاہیے۔

جمعہ کو لاہور میں عدالت میں پیشی کے موقع پر جب مریم نواز سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا نواز شریف ملک سے باہر جا رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی صحت خراب ہے اور انھیں علاج کے لیے بیرون ملک جانا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ’یہ بہت مشکل ہو جائے گا کہ میاں صاحب علاج کے لیے باہر چلے جائیں اور میں نہ جا سکوں کیونکہ مجھے ان کی بہت فکر ہوتی ہے‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شریف کی صحت کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔

اس سوال پر کہ کیا نواز شریف بیرون ملک جانے کے لیے مان گئے ہیں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’یہ الگ بحث ہے۔‘

مسلم لیگ ن کی نائب صدر جمعے کو چوہدری شوگر ملز کیس میں عدالت میں پیش ہوئیں اور ان کا کہنا تھا کہ ’آج بھی نواز شریف صاحب کی طبیعت بہت خراب ہے اس کے باوجود عدالت میں حاضر ہوئی ہوں۔‘

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کے والد کا پلیٹلیٹس روزانہ کی بنیاد پر اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ ’نواز شریف کے پلیٹلیٹس 20 ہزار تک آ گئے ہیں۔ ملک میں پلیٹلیٹس میں اضافے کے لیے جو بھی علاج دستیاب تھا وہ کروا لیا ہے، لیکن یہ علاج کام نہیں کر رہا اور ان کی بیماری کی وجہ پتا نہیں چل رہی۔‘

صحافی عباد الحق کے مطابق ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ ’ڈیل کی باتیں کرنے والوں شرم آنی چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ بیرون ملک سفر نہیں کر سکتیں کیونکہ ان کا پاسپورٹ عدالت میں جمع ہے۔ ’میری خواہش ہو گی۔۔۔ یہ بہت مشکل ہو جائے گا کہ میاں صاحب علاج کے لیے باہر چلے جائیں اور میں نہ جا سکوں کیونکہ مجھے ان کی بہت فکر ہوتی ہے۔ لیکن دنیا کے جس کونے میں بھی علاج میسر ہو میاں صاحب کو وہاں جانا چاہیے۔‘

جب ان سے سوال ہوا کہ کیا نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے کے حوالے سے شریف خاندان نے کوئی درخواست دی ہے تو مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’اس بارے میں مجھے کوئی معلومات نہیں ہیں۔ میں گھر جا کر شہباز شریف سے پوچھوں گی کیونکہ ان معاملات کو وہ دیکھ رہے ہیں۔‘

یاد رہے کہ مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کیس میں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہائی ملنے کے بعد بدھ کی صبح رہا کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ LAHORE HIGH COURT
Image caption مریم نواز جمعے کو چوہدری شوگر ملز کیس میں عدالت میں پیش ہوئیں اور ان کا کہنا تھا کہ 'آج بھی نواز شریف صاحب کی طبیعت بہت خراب ہے اس کے باوجود عدالت میں حاضر ہوئی ہوں۔'

مریم نواز کی رہائی کے بعد سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج نواز شریف کو بھی جاتی امرا میں ان کی رہائش گاہ پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بدھ کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا تھا کہ ڈاکٹرز نے مریم نواز شریف کو والد کی صحت کی بنا پر سخت حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بیان کے مطابق نواز شریف کے علاج کے لیے ان کی رہائش گاہ پر انتہائی نگہداشت یونٹ قائم کر دیا گیا ہے جہاں وینٹی لیٹر اور کارڈیک آئی سی یو کی سہولیات بھی میسر ہوں گی۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی پلیٹلیٹ کاؤنٹ کم ہونے کے باعث انھیں ہسپتال سے ہونے والے انفیکشن کا خطرہ ہے۔

اسی لیے ڈاکٹرز نے نواز شریف کے لیے ان کی رہائش گاہ پر خصوصی میڈیکل یونٹ بنانے کی تجویز دی ہے۔

نواز شریف کی صحت کیسی ہے؟

گذشتہ دنوں نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کی جانب سے کی گئی ایک اور ٹویٹ میں بتایا گیا کہ 'نواز شریف کی صحت سے متعلق زیر التوا تشخیصی سکینز اور بایئوپسی اور دیگر ٹیسٹ کے لیے اب بھی متعدد پیچیدہ پیتھولوجی درکار ہے۔ اس انتہائی پیچیدہ صورتحال میں ایک حتمی تشخیص کا نہ ہونا اور اس کا علاج نواز شریف کی نازک اور غیر مستحکم صحت کے لیے خطرناک ہے۔'

ڈاکٹر عدنان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ سابق وزیر اعظم کی حالت نازک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں لاحق گردوں کی تکلیف ان کی بگڑتی ہوئی صحت میں مزید پیچیدگی پیدا کر رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کے مرض کی حتمی تشخیص نہیں ہو پا رہی جو ایک تشویشناک مسئلہ ہے۔

ڈاکٹر عدنان نے بتایا کہ نواز شریف کے پلیٹلیٹس میں کمی کی وجہ سے ان کا انجیوگرام نہیں کیا جا رہا کیونکہ اس سے اندرونی بلیڈنگ کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے انجیوگرام کے لیے کم از کم پلیٹلیٹس کی تعداد 40 ہزار ہونی چاہیے۔

نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کی جانب سے ٹویٹ میں ان کی صحت سے متعلق بتائے گئے مختلف پیچیدہ سکینز اور ٹیسٹ پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر محمود ایاز کا کہنا تھا کہ 'یہ تمام ٹیسٹ تب کیے جاتے ہیں جب مریض کی صحت تھوڑی سے مستحکم ہو لہذا جب ان کی صحت کچھ مستحکم ہو جائے گی تو یہ تمام ٹیسٹ تب کیے جائیں گے۔'

عدالت پیشی میں کیا ہوا؟

صحافی عباد الحق کے مطابق مریم نواز اپنے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے ساتھ جوڈیشل کمپلیکس پہنچیں جہاں وہ احتساب عدالت کے جج کے سامنے پیش ہوئی۔ مریم نواز تقریباً آدھ گھنٹے تک جوڈیشل کمپلیکس میں رہیں۔ احتساب عدالت کے جج چودھری محمد امیر خان نے چودھری شوگر ملز کے معاملے پر سماعت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ NATIONAL ACCOUNTABILITY BUREAU

مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے استدعا کی کہ جب تک نیب ریفرنس دائر نہیں کرتا اس وقت تک نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز کو عدالت میں پیش ہونے سے استثنی دیا جائے کیونکہ جب تک ریفرنس دائر نہیں ہوتا مریم نواز اور نواز شریف کا عدالت میں پیش ہونا بلاجواز ہے۔

نیب کے وکیل حافظ اسد اللہ اعوان نے اس تجویز کی مخالفت کی اور نکتہ اٹھایا کہ ملزم کی عدالت میں حاضری ضروری ہے۔

احتساب عدالت نے نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو ریفرنس دائر ہونے تک حاضری سے استثنی دینے کے نکتہ پر فریقین کے وکلا کو 22 نومبر بحث کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ادھر نواز شریف اپنے خلاف الزامات پر احتساب عدالت میں پیش نہیں ہو سکے۔ اُن کے وکیل امجد پرویز نے اپنے موکل نواز شریف کا میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کیا اور تحریری طور استدعا کی کہ نواز شریف کو آج کی پیشی کے لیے پیش ہونے سے استثنی دیا جائے۔ عدالت نے یہ درخواست منظور کر لی۔

نواز شریف کی بھی چودھری شوگر ملز لاہور ہائی کورٹ نے درخواست ضمانت منظور کرکے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

دوسری جانب سے اسی الزام میں نواز شریف کے بھتیجے یوسف عباس کے جوڈیشل ریمانڈ میں 22 نومبر تک توسیع کر دی گئی ہے۔ جیل حکام نے یوسف عباس کے جوڈیشل ریمانڈ کی معیاد مکمل ہونے پر انھیں عدالت میں ہیش کیا تھا۔

نواز شریف ان کے بھائی شہباز شریف اور بیٹی مریم نواز ضمانت پر ہیں جبکہ حمزہ شہباز اور ان کے کزن یوسف عباس جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔

اسی بارے میں