جمعیت علمائے اسلام (ف ) کا آزادی مارچ بند گلی میں داخل ہو گیا ہے؟

مولانا فضل الرحمان، جے یو آئی، آزادی مارچ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جیسے جیسے اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام کا دھرنا طویل ہوتا جا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے موقف اور رویے میں زیادہ سختی دیکھنے میں آرہی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کو معتدل مذہبی سیاستدان تصور کیا جاتا ہے اور ان کے قریبی ساتھی بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ کبھی بغیر سوچے سمجھے کسی بند گلی میں قدم نہیں رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی متحدہ اپوزیشن کے کردار سے خوش اور حکومت کے رویے سے بیزار ہیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کو مولانا فضل الرحمان نے نجی چینل ڈان ٹی وی کی نیوز اینکر مہر بخاری کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’اب وہ دیوار کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور ایک انچ بھی پیچھے جانے کا راستہ نہیں ہے۔‘

ان کے قریبی ساتھی کے بقول اب انھیں ’تخت اور تختے‘ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ ان کے مطابق تخت سے مراد وزیر اعظم کا استعفی اور نئے انتخابات ہیں اور تختے سے مراد پرامن تحریک کو اگلے مراحل میں لے جانا ہے چاہے اس کے لیے کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔

مولانا فضل الرحمان کے رویے میں بظاہر تبدیلی کو سمجھنے کے لیے ہم نے جے یو آئی کے کچھ مرکزی رہنماؤں سے بات کی جو اہم فیصلوں کی مشاورت میں شامل ہوتے ہیں۔ انھوں نے کچھ ایسے عوامل پر بات کی جن سے اپوزیشن خاص کر جے یو آئی حکومتی رویے سے نالاں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مولانا کو کس پر غصہ، کس کی حمایت حاصل

مذہبی رہنما یا سیاسی جادوگر، مولانا آخر ہیں کون؟

مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کس کروٹ بیٹھے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ PID

مذاکراتی عمل گفتن، نشستن، برخاستن کی حد تک ہے؟

جے یو آئی کے آزادی مارچ کے اسلام آباد پہنچتے ہی مذاکراتی عمل میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس دوران متعدد ملاقاتیں اور پریس کانفرنس بھی ہوئیں لیکن نتائج کے اعتبار سے یہ عمل زیادہ سود مند ثابت نہ ہو سکا۔

جے یو آئی کے سیکریٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی غیر سنجیدگی سے معاملات اس نہج پر پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ مطالبات ایک سال سے ہیں اور اب ہم نتائج کے حصول تک تحریک چلانا چاہتے ہیں۔‘

جے یو آئی کی مرکزی شوریٰ کے رکن ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ اس عرصے میں حکومتی وزراء کی طرف سے جس طرح کی زبان استعمال ہوئی ہے اس وجہ سے بھی ان کی جماعت اور قیادت میں اشتعال پایا جاتا ہے۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں کی طرف سے ایسے بیانات بھی سامنے آئے ہیں جن میں کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمان سے متعلق ایسے حقائق موجود ہیں جو اگر سامنے آئے تو عوام اور میڈیا اپنے کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔

کچھ بیانات میں حکومتی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ ’مولانا فضل الرحمان استعفے سے وظیفے پرآ چکے ہیں، اور وہ کسی بھی شکل میں وظیفہ چاہتے ہیں۔‘

مذاکرات میں ناکامی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے جے یو آئی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر قاری عتیق الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت پرویز خٹک جیسے غیر سنجیدہ لوگ بھیج دیتی ہے لیکن ہماری سنجیدگی کا عالم دیکھیے کہ ہم ان کا بھی استقبال کرتے ہیں۔

جمعے کو پرویز خٹک نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ ’اگر مولانا کہتے ہیں جرگہ ’ٹائم پاس‘ کے لیے ہے تو ہم بھی آپ سے ٹائم پاس کررہے ہیں۔‘

مولانا عبدالغفو حیدری کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ سب سے پہلے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے فون پر رابطہ کیا تھا۔ ’میں نے کہا ہمارے مطالبات بڑے واضح ہیں۔ اگر ملنا چاہتے ہیں تو ہمارے دروازے بند نہیں ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اب حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ مذاکرات نہیں بلکہ محض ’ٹائم پاس‘ کر رہے ہیں۔

قاری عتیق الرحمان نے کہا ہے کہ آزادی مارچ اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے رکھے گا اور اس کے لیے مزید انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

پرویز خٹک نے اپنے رد عمل میں کہا کہ ’مارچ والے صبر کریں، ابھی بہت کچھ دیکھنا اور برداشت کرنا پڑے گا، جتنا بیٹھنا ہے بیٹھو لیکن ملک کو نقصان نہیں پہنچانا۔ وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اگر جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو آئیں مذاکرات کے لیے میز پر بیٹھیں۔

قاری رحمان کے خیال میں مذاکرات کا عمل محض فوٹو سیشن ہے، اس سے حاصل کچھ نہیں ہونا ہے۔ ان کے خیال میں اس کی بڑی وجہ وزیر دفاع پرویز خٹک کی اپنی بے بسی بھی ہے۔

وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کی وزیر اعظم عمران خان سے دھرنے کی صورتحال سے نمٹنے سے متعلق جمعے کو ملاقات ہوئی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے اپنی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ’بس دعا کریں، اس کا کوئی حل نکل آئے، مجھے امید ہے کہ انشاءاللہ حل نکل آئے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیا گجراتی چوہدری بھی ناکام ہوگئے؟

صلح جوئی کی شہرت رکھنے والے چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہیٰ ابھی بھی سیاست میں اپنے دیرینہ دوست مولانا فضل الرحمان کو منانے کی کوشش میں ہیں۔

گجرات کے چوہدری مولانا سے اس بات پر خوش بھی ہیں کہ انھوں نے اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی سے سٹیرنگ چھین کر عملی طور پر خود اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھا لیا ہے۔

ملاقات سے قبل چوہدری شجاعت نے فون پر مولانا فضل الرحمان کو کامیابی سے آزادی مارچ کے انعقاد اور بڑی اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کرنے پر مبارکباد بھی پیش کی۔

اس وقت مذاکراتی عمل میں سب سے زیادہ چوہدری پرویز الہیٰ متحرک ہیں۔ ان کو ایک طرف وزیر اعظم عمران خان جبکہ دوسری طرف مولانا فضل الرحمان کو اعتماد میں رکھنا ہے۔

جمعے کو پرویز الہیٰ نے مولانا فضل الرحمان سے اپنی ہونے والی تفصیلی پانچ ملاقاتوں سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کو آگاہ کیا۔

جے یو آئی کے رہنماؤں کے مطابق مولانا فضل الرحمان چوہدری برادران کی بہت عزت اور قدر کرتے ہیں۔ سیاسی اختلافات کے باجود دونوں کے نسلوں سے اچھے تعلقات ہیں۔

کامران مرتضیٰ کی رائے میں خود حکومت ہی مذاکرات کو کامیابی کی طرف لے کر نہیں جانا چاہتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ JUIF
Image caption کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، مخمود خان اچکزئی، آفتاب خان شیرپاؤ اور دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی تھی

’اپوزیشن کا بیانیہ ایک ہے‘

جے یو آئی کے مرکزی رہنماؤں کے مطابق آزادی مارچ سے قبل ہی اپوزیشن کی نو جماعتوں نے بنیادی مطالبات طے کر لیے تھے۔

ان مطالبات کی فہرست میں وزیر اعظم عمران خان کا استعفیٰ سرِ فہرست ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان متحدہ اپوزیشن کے علامتی کردار سے بھی خوش ہیں۔

مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی اپنی مجبوریاں ضرور ہیں لیکن پھر بھی وہ کسی نہ کسی صورت ہمارے ساتھ ہیں۔ ’ہمارے اس احتجاج میں تمام طبقات ہمارے ساتھ ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے سٹیج پر اپوزیشن رہنماؤں کے علاوہ، تاجر، وکیل اور علما نے بھی خطاب کیا۔

جمعے کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے خواجہ آصف نے تحریک انصاف کے ارکان کے جے یو آئی کے دھرنے پر اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ بیج آپ کا بویا ہوا ہے، کل آپ۔۔ کنٹینر پر ناچ رہے تھے۔ انھوں نے امپائر کی انگلی والے بیان پر عمران خان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا 'ہمارا امپائر وہ نہیں ہے۔'

انھوں نے دعویٰ کیا کہ الیکشن ہوں گے، ہمارے مطالبات پر ہوں گے اور بہت جلدی ہوں گے۔ آپ کو وہ پتا نہیں جو ہمیں پتا ہے۔‘

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کی طرف سے تحریک انصاف کی حکومت کو اس چیلنج سے یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آخر پس پردہ ہو کیا رہا ہے جو حکومت تک کے لیے سرپرائز ہوگا۔

سینیٹر عبدالغفور حیدری ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدے پر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی قیادت کے 'پس پردہ قوتوں' سے مذاکرات ضرور چل رہے ہیں لیکن 'پس پردہ والوں' کے پاس بھی کرنے کو کچھ نہیں ہے۔

جمعے کے اجلاس میں دوبارہ انتخابات کی صدائیں بھی بلند ہوئیں۔

اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمان کو انتخابات 2018 میں شکست دینے والے عمران خان کی کابینہ میں شامل امین گنڈا پور نے استعفیٰ دے کر دوبارہ مقابلے کا چیلنج دیا تو مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مفتی اسد محمود نے یہ چیلنج قبول کرلیا۔

انھوں نے وفاقی وزیر گنڈاپور سے کہا ’استعفی دو، (ہم) الیکشن لڑیں گے۔‘

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اپنی جماعت کے پلیٹ فارم سے اس وقت حکومت مخالف مہم چلانے میں مصروف ہیں۔ انھوں نے جمعے کو مظفر گڑھ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کی اور کہا اس حکومت کے خلاف ’بغاوت اور تحریک کا آغاز کیوں نہ کیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر دھرنے کی سیاست بھی کرنا پڑی تو وہ بھی کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مولانا کا پلان بی اور سی کیا ہیں؟

جے یو آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے وزیر اعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کے مطالبات کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں پلان بی اور سی پہلے سے ہی بنا رکھا ہے۔

مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ رہبر کیمٹی اور اے پی سی میں اپوزیشن نے بھی اسلام آباد سے یہ آزادی مارچ ختم نے کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

جے یو آئی کے رہنماؤں کے مطابق وہ ایک سال کی تیاری کے ساتھ اسلام آباد آئے ہیں۔

قاری رحمان نے بتایا کہ انھیں اپنی جماعت کی قیادت کی طرف سے انتظامات بڑھانے کا حکم ملا ہے۔

مولانا غفور حیدری کا کہنا ہے کہ اہم فیصلے مرکزی مجلس شوریٰ، مجلس عاملہ اور مجلس عمومی میں کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی مشاورت درکار ہوتی ہے تو رہنماؤں کو بلا کر ایمرجنسی میں مشاورت بھی کی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جے یو آئی نے پلان اے، بی اور سی کی منظوری مشاورت کے بعد دی ہے۔

اپنے طویل مدتی پلان پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ’بند گلی میں ہم نہیں بلکہ حکمرانوں کو بند گلی میں لے جائیں گے۔‘

جے یو آئی رہنماؤں کے مطابق بی اور سی میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ تو نہیں ہو گا البتہ یہ ملک گیر ہو گا اور اس میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام جیسے متبادل بھی شامل ہوں گے۔

اس پلان پر عمل 12 ربیع الاول یعنی اتوار کی شب کے بعد کسی بھی تاریخ کو کیا جا سکتا ہے۔

جے یو آئی کے رہنماؤں کو یہ خدشہ ہے کہ اس پلان کے دوران حکومت اہم رہنماؤں کو گرفتار یا نظر بند کرسکتی ہے۔ ان کے خیال میں ایسی صورت میں پلان بی اور سی میں مزید تیزی آئے گی اور اپوزیشن اور دیگر کچھ سیاسی قوتوں کا رد عمل ایسا ہو گا جسے روکنا حکومت کے بس سے باہر ہو جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں