پولیو: ’غلط رپورٹ دینے کی قطعاً کوشش نہیں کی گئی‘

پولیو کے قطرے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانوی اخبار گارڈیئن کی ایک تحقیقاتی خبر میں پاکستان کی حکومت پر پولیو کے نئے کیسز کو چھپانے کا الزام لگایا گیا ہے، لیکن پاکستانی حکومت نے اس کی تردید کی ہے۔

اخبار کے مطابق پاکستان کے وزیرِ اعظم کے پولیو پروگرام کے سابق فوکل پرسن بابر بِن عطا نے ’اپنی نا اہلی اور خامیوں کو چھپانے کے لیے` دانستہ طور پر رواں سال پولیو کے نئے کیسز کو پاکستانی حکومت اور پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں سے چھپایا تھا۔

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت، ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے میں ہماری (حکومت کی) طرف سے کوئی تاخیر نہیں ہوئی۔ ہماری طرف سے دانستاً اس معاملے کو چھپانے کی یا اس کی اہمیت کو کم کرنے کی یا غلط رپورٹ دینے کی قطعاً کوشش نہیں کی گئی۔‘

یہ بھی پڑھیے:

بلوچستان میں ایک خاتون پولیو ورکر ہلاک

پنجاب میں رواں برس کا پہلا پولیو کیس: پولیو ختم کیوں نہیں ہو رہا؟

پاکستان اس سال بھی ’پولیو فری‘ نہ ہو سکا

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں برس پاکستان میں پولیو کے 77 کیسز ریکارڈ کیے گئے جن کی زیادہ تر تعداد صوبہ خیبر پختونخواہ سے بتائی جا رہی ہے جن میں بنّوں اور لکی مروت شامل ہیں۔ جبکہ گلگت بلتستان سے دیامیر شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایک نئے کیس کی تشخیص حال ہی میں اسلام آباد سے ہوئی ہے۔

اس سے قبل پاکستانی حکومت کئی مرتبہ اس خدشے کا اظہار کر چکی ہے کہ ملک میں جاری پولیو مہم کو منفی پراپیگنڈا سے شدید نقصان پہنچتا ہے اور اس کے نتیجے میں والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے اجتناب کرتے ہیں اور پولیو ٹیم کو اپنے گھر کے آس پاس بھی نہیں آنے دیتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صرف خیبر پختونخواہ میں 58000 بچے پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہے (فائل فوٹو)

اسی بارے میں رواں سال مارچ میں خیبر پختونخواہ کے شہر پشاور سے پولیو کے مخصوص مارکر کے لیک ہونے کی خبریں بھی آئیں تھی۔ اس حوالے سے حکومتی ارکان کا کہنا ہے کہ پشاور میں رواں سال فروری اور مارچ میں 14 پولیو ورکروں کو اس وجہ سے نوکریوں سے فارغ کردیا گیا کہ انھوں نے والدین کو پولیو مہم میں استعمال ہونے والے مارکر تک رسائی دے دی تھی، جس کے نتیجے میں والدین پولیو کے قطرے پلانے کے بجائے بچوں کی انگلیوں پر پہلے سے نشان لگا دیتے تھے تا کہ پولیو ورکروں کو بتا سکیں کہ ان کے بچوں کو پولیو کے قطروں کی ضرورت نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ صرف خیبر پختونخواہ میں 58000 بچے پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہے جس کی وجہ حکومتی ارکان خیبر پختونخواہ کے صوبے سے لوگوں کے مسلسل آمد و رفت کو بتاتے ہیں۔ سرکاری حکام کے مطابق جب پولیو ورکر گھر جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ بچہ دوسرے ضلع یا گاؤں گیا ہوا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق، پشاور، بنّوں اور کوہاٹ میں نئے پولیو وائرس کی تشخیص اور پولیو مہم کی نگرانی میں کمی کے باعث، اگر مقامی اور بین الاقوامی محکموں کو پولیو مانیٹرنگ نظام بہتر کرنے کا پابند نہ کیا گیا تو ٹیکس دہندگان کے اربوں روپے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔

اور ساتھ ہی پاکستان پر پولیو کے خاتمہ پر کام کرنے والے اداروں کا اعتماد کم ہونے کا خدشہ ہے۔

اس طرح کے واقعات سامنے آنے کا براہِ راست اثر پاکستان میں جاری پولیو مہم پر پڑ رہا ہے۔

پاکستان کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اسد حفیظ نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کا پاکستان کے پولیو پروگرام پر پورا اعتبار ہے۔

’ہماری وزارت پولیو پروگرام کا مکمل جائزہ لیتی ہے اور جیسے ہی کسی آؤٹ بریک (وبا) کی خبر آتی ہے، ہمارے معاون اداروں کو فراہم کی جاتی ہے۔‘

روزنامہ گارڈیئن اخبار کی خبر میں وزیرِ اعظم کے پولیو پروگرام کے سابق فوکل پرسن بابر بن عطا پر الزام لگایا گیا کہ انھوں نے نئے آنے والے کیسز کو چھپایا اور اخبار کے بقول اس کے دستاویزی شواہد گارڈیئن کی رپورٹر اور اخبار نے دیکھے ہیں۔

Image caption سرکاری حکام کے مطابق گیار نومبر سے انسدادِ پولیو کی نئی مہم کا آغاز ہو رہا ہے

اس سے پہلے بھی پاکستان میں عالمی ادارۂ صحت اور یونیسیف کے نمائندوں نے وزیرِ اعظم عمران خان کو اپنے اداروں کے خلاف پاکستان کے ایک بڑے اخبار میں یکطرفہ خبریں شائع ہونے پر شکایت کی تھی اور یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بین الااقوامی اداروں کے خلاف غلط معلومات پھیلائی جارہی ہیں۔

اس سال اکتوبر میں بابر بن عطا نے اپنے عہدے سے اچانک یہ کہہ کر استعفیٰ دیا کہ ان کے والدین کو ان کی ضرورت ہے جس کے وجہ سے وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہورہے ہیں۔

اب گارڈیئن کی خبر شائع ہونے کے بعد بابر بن عطا ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بابر بِن عطا نے خود پر لگے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے مخالف میرے خلاف یہ خبریں پھیلا رہے ہیں۔ میرے استعفٰی دینے کی وجوہات کچھ اور تھیں۔ میں چاہوں بھی تو نئے کیسز کو نہیں چھپا سکتا کیونکہ ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ کسی نہ کسی ذریعے سے خبر پھیلنی ہی تھی۔ انھوں (گارڈیئن) نے نہ تو مجھ سے بات کی اور نہ ہی کوئی جواب مانگا جس وجہ سے میں ان پر مقدمہ درج کروں گا۔‘

یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان کے شمالی علاقوں سے پولیو کے 7 نئے کیسز کی تشخیص ہوئی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت پہلے ان سب کیسز کی تصدیق کرنا چاہتی تھی کہ ان آنے والے کیسز کا تعلق کس وائرس سے ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں بچوں کو سیبن۔لائک پولیو ٹائپ ٹُو وائرس ہوا ہے ’جو اُن ممالک میں بھی بعد میں پایا گیا جہاں سے پولیو کا پوری طرح سے خاتمہ ہوچکا تھا جیسے کہ انڈونیشیا، چین، فلپائن اور کانگو۔‘

پاکستان میں پولیو ٹائپ ٹُو وائرس کی تشخیص 2016 سے نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی اس کے شواہد کسی ماحولیاتی سامپل میں سامنے آئے۔

ایمرجینسی آپریشن سینٹر فار پولیو سربراہ، ڈاکٹر رانا محمد صفدر کا کہنا تھا کہ ’جس وائرس کا تذکرہ گارڈیئن کی رپورٹ میں کیا گیا ہے وہ وائلڈ پولیو وائرس نہیں ہے۔ ملک بھر میں ٹائپ ون ویکسین دی جارہی ہے۔ اور کسی بھی طرح سے کسی بھی نئے وائرس کو چھپانے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔‘

پاکستان اس وقت دنیا کے ان دو ملکوں میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس اب تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکا ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم پیشرفت 2014 میں ہوئی تھی جب پاکستان نے پولیو وائرس ٹُو کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا تھا۔

سرکاری حکام کے مطابق گیارہ نومبر سے انسدادِ پولیو کی ایک نئی مہم کا آغاز بھی ہو رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں