پاکستان کے خلاف آسٹریلیا کی جیت پر سمیع چوہدری کا کالم: ’یہ کوئی انٹرنیشنل ٹیم نہیں ہے‘

پاکستان، آسٹریلیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں 10 وکٹوں سے شکست کے ساتھ تین میچوں کی سیریز اپنے نام کر لی ہے

پتا نہیں یہ کون سی ٹیم ہے اور کس کے لیے کھیل رہی ہے؟ کون کون کھیل رہا ہے؟ بلکہ یوں کہیں کہ ’آج‘ کون کون کھیل رہا ہے؟

اس سیریز سے پہلے آسٹریلیا اسی سری لنکا کے خلاف دندناتے ہوئے جیتا تھا جس نے تین ہفتے پہلے پاکستان کو ہوم گراؤنڈ پر کلین سویپ کیا۔

لیکن پاکستان یہ سمجھ بیٹھا کہ شاید سری لنکا کے بالکل نئے پلئیرز کا کوئی 'تُکا' لگ گیا تھا اور غالباً احمد شہزاد اور عمر اکمل کی شمولیت نے ڈریسنگ روم کا مورال پست کر دیا ہوگا۔

پاکستان نے ڈریسنگ روم کے مورال کو بلند کرنے کے لیے کپتان تک کو فارغ کر دیا کہ شاید اسی سے کچھ برکت پڑ جائے۔ نئے پلئیرز چُن لیے جن میں کچھ کر دکھانے کی بھوک ہو گی۔

لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات، کہ اگر پہلے میچ میں بارش نہ پڑ جاتی تو یہ سیریز بھی گذشتہ سیریز سے ذرا مختلف نہ ہوتی۔ سری لنکا کی نسبتاً غیر تجربہ کار ٹیم کی طرح آسٹریلیا کی اس تازہ دم ٹیم سے بھی کلین سویپ کی ہزیمت اٹھانا پڑتی۔

کچھ تو ہے جو پچھلے ایک سال میں بہت تیزی سے بدل گیا۔

ٹی ٹوئنٹی کی یہی ٹیم سال کے آغاز تک نمبر ون ٹیم تھی۔ لیکن اس ایک سال میں پاکستان نے تین مختلف کپتانوں کے زیرِ قیادت چار مختلف ٹیموں کے خلاف سیریز کھیلیں مگر ایک بھی جیت نہ پایا۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ پورے دو سال تک دنیا کے ہر بلے باز کو اپنی گگلیوں پہ نچانے والے شاداب خان کسی تخلیقی قحط کا شکار ہو گئے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ چھکے پہ چھکا جڑنے والے فخر زمان اپنے کریئر کے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

یہ بھی پڑھیے

آسٹریلیا نے ٹی ٹوئنٹی سیریز اپنے نام کر لی

کیا فخر زمان ٹی ٹوئنٹی کے کھلاڑی ہی نہیں؟

بارش، بابر اعظم اور محمد عرفان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اور پھر حسن علی جیسا بہترین ٹیلنٹ۔۔۔ شاید وہ شہرت اور سٹارڈم کے تقاضے نہ نبھا پائے یا مسلسل کھیل کھیل کر تھک گئے اور اب کوئی جانتا بھی نہیں کہ مڈل اوورز کا وہ تباہ کن بولر کن بھول بھلیوں میں گم ہے؟

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی بھرمار اس قدر ہے کہ سال کے 250 دن ہر کرکٹر کہیں نہ کہیں کھیل رہا ہوتا ہے۔ آرام کی کمی اور ’ایکسپوژر‘ کی زیادتی بھی ٹیلنٹ کو گہنا دیتی ہے۔

دوسری جانب لیگ کرکٹ کے دھارے سے نکلنے والے اکثر ’سرپرائز پیکج‘ جسمانی اور ذہنی اعتبار سے فٹ بھی اتنے ہی ہوتے ہیں کہ دو تین سیزن کھیل کر اپنا سارا زور اور شوق خرچ کر بیٹھتے ہیں۔

پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں گذشتہ دو سال کی حکمرانی پی ایس ایل سے نکلے ٹیلنٹ کی بدولت تھی۔ دنیا کو یہ بات سمجھنے میں دو سال لگ گئے کہ پاور پلے میں عماد وسیم کو کیسے کھیلنا ہے اور مڈل اوورز میں شاداب خان اور حسن علی سے کیسے نمٹنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن جوں جوں ٹیمیں ان کا مقابلہ کرنا سیکھتی گئیں، توں توں فخر زمان کی فارم بھی ہوا ہونے لگی اور شاداب خان و عماد وسیم بھی پھیکے پڑتے گئے۔ حسن علی تو ویسے ہی غیر نصابی سرگرمیوں میں الجھ کر رہ گئے۔

نتیجتاً اب ایک ایسی تشنہ لب، ادھوری سی ٹیم پاکستان کے لیے کھیل رہی ہے جس کے بولنگ اٹیک کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کا لیڈر کون ہے اور مڈل آرڈر یہ نہیں جانتا کہ 14 پہ دو آؤٹ ہونے کے بعد جیتنا کیسے ہے۔

لگتا ہے یہ کوئی انٹرنیشنل ٹیم نہیں جو پاکستان کے لیے کھیل رہی ہے۔ یہ تو کوئی ’ایکسپیریمنٹل‘ ٹیم ہے جہاں ایک دو کو چھوڑ کر شاید سبھی کی خواہش یہی ہے کہ اگلی سیریز تک کیسے بچ کر رہا جائے۔

اسی بارے میں