کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں عمران خان، منموہن سنگھ اور سنی دیول موجود

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’مجھے خوشی ہے کہ کرتارپور سرحد کھول کر سکھوں کے دل خوشیوں سے بھر دیے ہیں‘

پاکستان کے وزیرِ اعظم نے گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور کی نئے سرے سے تعمیر اور انڈین یاتریوں کے لیے تیار کی گئی راہدرای کا افتتاح کر دیا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ کرتارپور سرحد کھول کر سکھوں کے دل خوشیوں سے بھر دیے ہیں۔

افتتاحی تقریب میں انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، نوجوت سنگھ سدھو اور اداکار سنی دیول سمیت بڑی تعداد میں سکھ یاتری موجود تھے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب سکھ برادری کی بات ہوتی ہے تو ہم انسانیت کی بات کرتے ہیں، نفرتیں پھیلانے کی بات نہیں کرتے۔ ’ہمارے نبی پاک نے انسانیت کی بات کی۔‘

صوفیا کرام نے انسانیت کی بات کی۔ ’حضرت معین الدین چشتی، نظام الدین اولیا اور بابا فرید کے مزار پر آج بھی لوگ جا کر پیار و محبت کا اظہار کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عمران خان کا کہنا تھا کہ انھیں ایک سال پہلے کرتارپور کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔

عمران خان نے کہا کہ ’لیڈر ہمیشہ لوگوں کو اکھٹا کرتا ہے۔ وہ نفرتیں پھیلا کر ووٹ حاصل نہیں کرتا۔‘ انھوں نے اس موقع پر جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کا خصوصی ذکر کیا اور کہا کہ انھوں نے انسانوں کو اکھٹا کیا، ظالموں کو معاف کیا اور جنوبی افریقہ کو خون سے بچا لیا۔

’مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات سے‘

وزیر اعظم عمران خان نے کہ ’ہمارا ایک ہی مسئلہ ہے کشمیر کا اور وہ ہم بات چیت سے حل کر سکتے ہیں۔ میں نے نریندر مودی کو کہا کہ ہم یہ مسئلہ کیوں نہیں حل کر سکتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آج جو کشمیر میں ہو رہا ہے یہ خطے نہیں انسانیت کا مسئلہ ہے۔ ’80 لاکھ لوگوں کے تمام انسانی حقوق ختم کرکے انھیں نو لاکھ فوج سے بند کیا ہوا ہے۔‘

عمران خان نے کہا کہ اس طرح کبھی امن نہیں ہوگا۔ اس وجہ سے ہمارے سارے تعلقات رک گئے ہیں۔

انھوں نے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’سارے برصغیر کو آزاد کردیں، انصاف کریں۔ سرحد کھل جائے تو برصغیر میں خوشحالی آئے گی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کشمیر کا مسئلہ حل ہوجاتا جو کہ حل حو جانا چائیے تھا تو یہ نفرتیں نہ ہوتیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جس طرح تنازعات حل کر کے فرانس اور جرمنی خوشحال ہوئے اسی طرح ہم کشمیر کے مسئلے کے بعد برصغیر میں بھی اسی طرح کی خوشحالی آئے گی۔ ’وہ دن دور نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں نے یہ دن آپ کے ساتھ منایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کے دل میں اسی طرح کے تاثرات ہو سکتے ہیں جیسے ہم مدینہ جاتے ہیں۔

اس سے قبل انڈیا کے شہر گرداس پور میں ڈیرہ بابا نانک میں ایک تقریب کے دوران انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کرتارپور راہداری کو حقیقت بنانے پر عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کرتارپور راہداری سے ہزاروں سکھ یاتری مستفید ہوں گے۔

کرتارپور راہداری کے افتتاح سے قبل وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 'میں سرحد کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں موجود سکھ برادری کو کرتارپور راہداری کے افتتاح کے تاریخی دن پر مبارک باد دیتا ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج ہم نے نہ صرف اپنی سرحد بلکہ اپنے دل بھی سکھ برادری کے لیے کھول دیے ہیں۔

’حکومتِ پاکستان کا یہ بے نظیر اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم بابا گرو نانک دیو جی اور سکھ برادری کے مذہبی عقائد کی کس قدر عزت کرتے ہیں جنھیں ہمیشہ سے اس گردوارے تک آسان رسائی چاہیے تھی۔‘

دنیا بھر میں سکھ برادری کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک، کرتار پور میں موجود گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور کی نئے سرے سے تعمیر اور انڈین یاتریوں کے لیے تیار کی گئی راہدرای کا باضابطہ طور پر افتتاح کچھ ہی دیر میں ہو گا۔ عمران خان اب سے کچھ دیر قبل کرتارپور پہنچ چکے ہیں۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

’تمام مذاہب کے انڈین کرتار پور کے راستے سفر کر سکتے ہیں‘

گرودوارہ کرتارپور:3 کلومیٹر کا فاصلہ،7 دہائیوں کی مسافت

’سکھوں کے لیے پاسپورٹ، فیس کی شرط معاف‘

اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسی حوالے سے بی بی سی کے نمائندے عمر دراز سے خصوصی گفتگو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کرتار پور راہداری کی تعمیر پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کا پیغام ہے۔

’ہم نے تو ایک شاہراہ بنائی ہے جس میں محبت کو پرویا گیا ہے۔ ہم نے تو نفرتوں کو مٹانے کی کوشش کی ہے۔'

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے امن بحال کرنے کی متعدد کوششوں پر انڈیا کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہ ملا۔

’جس دن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت معرض وجود میں آئی تو وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ آپ امن کی طرف ایک قدم اٹھائیں، ہم دو اٹھائیں گے۔ لیکن جواب کیا ملا؟ محاذ آرائی، طنزیہ جملے، اور پھر ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی۔'

کرتارپور راہدرای کی افادیت کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کرتارپور راہداری کی طرف پیش قدمی تو پاکستان کی طرف سے تھی۔

سکھ یاتریوں سے لیے جانے والی فیس کے سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس کا مقصد مالی فائدہ اٹھانے کا نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ گرودوارے کی تعمیر پر اربوں روپے خرچ ہوئے اور اس کی دیکھ بھال اور معیار کو برقرار رکھنے کے لیے فنڈز درکار ہوں گے۔

'ہم تو ایک سروس فراہم کر رہے ہیں اور اس کے عوض فیس لے رہے ہیں۔ اور 20 ڈالر بھی کوئی رقم ہے؟ لوگ تو ہنسی خوشی دینے کو تیار ہیں۔ اس سے زیادہ دینے کو تیار ہیں۔ آپ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا سے آنے والے سکھوں سے رابطہ کریں۔ وہ تو یہاں پر سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہیں۔ بات پیسے بنانے کی نہیں ہے، معیار کو برقرار رکھنے کی ہے۔'

انڈیا میں کرتارپور راہداری کے بارے میں کئی شکوک اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس کا مقصد خالصتان کی مہم کو پروان دینا ہے۔ اس بارے میں کیے گئے سوال پر وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے اس بارے میں کبھی کچھ نہیں کہا اور نہ ہی کوئی ارادہ ہے۔

'وہ اپنے سائے سے گھبرانا شروع کر دیں یا ان کی نیت میں فتور ہو تو اس کا علاج پاکستان نہیں کر سکتا۔ ہم اگر اقتصادی راہداری بناتے ہیں سی پیک کی شکل میں تو اس کو کوئی اور رنگ دے دیا جاتا ہے۔ ہم اگر مذہبی زیارتوں کے لیے راہداری بنائیں تو اس پر شک و شبہ پیدا کر دیتے ہیں۔ چاہتے کیا ہیں؟'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا سے سکھ یاتریوں کا آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انڈیا نے کرتار پور پر بھی بات بادل نخواستہ مانی ہے۔

'ہم نے تو صرف ایک آسانی پیدا کی ہے اور اس سے دنیا بھر میں موجود سب سکھ خوش ہوئے ہیں، تو اس سے آپ کو اعتراض کیا ہے؟'

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے دس پندرہ سالوں میں دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا ہے لیکن اب دنیا واپس پاکستان کی طرف مائل ہو رہی ہے اور ان کی حکومت چاہتی ہے کہ وہ مذہبی سیاحت کو فروغ دے۔

'ہم نے ویزا پالیسی میں نرمی لائی ہے۔ یہ جو ہمارے پاس گندھارا تہذیب کے آثار ہیں، سٹوپا ہیں، ہم نے بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے سیاحت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے میٹنگز بھی کی ہیں۔ ہم تو مذہبی سیاحت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔'

کرتارپور راہدرای کے بارے میں اہم معلومات

* کیا کرتارپور راہداری استعمال کرنے کے لیے ویزا ضروری ہے؟اس راہداری کو استعمال کرنے والوں کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں ہے۔

* اسے استعمال کرنے کے لیے کتنی فیس متعین کی گئی ہے؟راہداری استعمال کرنے کی فیس 20 ڈالر ہے۔ البتہ وہ یاتری جو نو یا 12 نومبر کو جائیں گے ان کے لیے کوئی فیس نہیں ہے۔ یاد رہے کہ 12 نومبر گرو نانک جی کی 550ویں یوم پیدائش ہے۔

* بیس ڈالر کی رقم انڈین روپے میں کتنی بنتی ہے؟ تقریباً 1400 روپے۔

* کیا راہداری استعمال کرنے کے لیے پاسپورٹ لے جانا ضروری ہے؟آن لائن درخواست بھرتے ہوئے پاسپورٹ ضروری ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاسپورٹ ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے اور صرف کوئی بھی تصویری شناخت کی دستاویز کافی ہو گی۔

* کرتارپور راہداری تیار کرنے کے لیے پیسے کس نے دیے؟دونوں حکومتوں نے اپنی اپنی طرف تیاری کے لیے رقم خرچ کی ہے۔

* کرتارپور کیسے جایا جا سکتا ہے؟کرتارپور جانے کے لیے ویب سائٹ https://prakashpurb550.mha.gov.in استعمال کرنی ہوگی جہاں یاتری خود کو درج کرا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

* انڈیا میں ڈیرہ بابا نانک سے پاکستان میں دربار صاحب کرتارپور تک کا فاصلہ کتنا ہے؟یہ فاصلہ ساڑھے چار کلومیٹر ہے۔

* کرتارپور گردوارے کی اہمیت کیا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ سکھ مذہب کے بانی، گرو نانک سنہ 1522 میں کرتار پور آئے تھے اور اپنی زندگی کے آخری 18 برس انھوں نے یہیں بتائے تھے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ جس جگہ گرو نانک دیو کا انتقال ہوا تھا وہیں پر گردوارا تعمیر کیا گیا تھا۔

  • پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرتارپور راہداری سے متعلق کیا معاہدہ طے پایا ہے؟کسی بھی مذہب سے منسلک انڈین شخص بغیر ویزا کہ کرتارپور جا سکتا ہے۔
  • یہ راہداری سارا سال کھلی رہی گی۔
  • انڈین وزارت خارجہ انڈین یاتریوں کی فہرست پاکستان کو ان کے سفر سے دس روز قبل دے گی۔
  • ہر یاتری کو 20 ڈالر کی فیس ادا کرنی ہوگی جو کہ تقریباً 1400 انڈین روپے بنتے ہیں۔
  • روزانہ 5000 یاتری اس راہداری کو استعمال کر سکتے ہیں۔
  • فی الوقت ایک عارضی طور پر تعمیر کیا گیا پل استعمال ہو رہا ہے لیکن آنے والے وقتوں میں ایک مستقل پل قائم کیا جائے گا۔
  • یاتریوں کو سفر کرنے کے لیے خود کو ویب سائٹ کے ذریعے رجسٹر کرانا ہوگا جس کے بعد ان کی درخواست کی منظوری کی خبر انھیں چار دن میں دی جائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں