کرتارپور صاحب سمیت سکھوں کے سات اہم ترین مذہبی مقامات

سکھ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس وقت پوری دنیا میں سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کے 550ویں یوم پیدائش کی تقریبات منا رہے ہیں۔ اسی حوالے سے گرودوراہ دربار صاحب جس کو کرتاپور صاحب بھی کہا جاتا ہے، وہاں خصوصی تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔

تاریخ دانوں اور محققین کے مطابق سکھوں کے اہم مذہبی مقامات انڈیا اور پاکستان میں موجود ہیں جہاں پر ہر سال سکھ اپنی مذہبی رسومات عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔

سکھوں کے لیے اہم ترین مقامات کون سے ہیں، ان کی تفصیل آپ اس فہرست کے ذریعے جان سکتے ہیں۔

مزید پڑھییے

کرتارپور: پاسپورٹ ضروری یا نہیں، فیس کتنی ہو گی؟

کرتارپور: ’پاکستان کے خفیہ ایجنڈے سے ہوشیار رہیں‘

’کرتارپور راہداری کی تعمیر ایک معجزہ ہے‘

ہرمندر صاحب عرف عام گولڈن ٹمپل

اقبال قیصر ممتاز تاریخ دان اور شاعر ہیں جنھوں نے پنجاب اور سکھوں کی تاریخ پر کتابیں بھی تحریر کی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہرمندر صاحب سکھوں کے مقدس سمجھے جانے والے شہر امرتسر میں واقع ہے۔ اس شہر کو سکھوں کے چوتھے گرو، گرو رامداس نے خود تعمیر کیا اور بسایا تھا۔

پھر ان کے بعد میں آنے والے گرو صاحبان نے وہاں پر ایک تالاب بنایا اور پھر وہاں پر ایک مندر کھڑا کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ان کا کہنا تھا کہ اس میں چار دروازے ہیں اور کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے فرد کے آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے

ہرمندر صاحب سکھوں کے لیے نہایت اہم مقام ہے۔ اس کو سکھوں کے پانچویں گرو، گرو ارجن دیو نے سنہ 1604 میں تعمیر کیا تھا۔

برطانیہ میں مقیم ایک اور ممتاز تاریخ دان، بوبی سنگھ بنسل کے مطابق ہرمندر صاحب کو گولڈن ٹمپل کے نام سے اس لیے بھی یاد کیا جاتا ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ہرمندر صاحب کو سونے میں بنوانے کے لیے چار سو کلو گرام سونا تحفتاً بھجوایا تھا اور یہ سارا کا سارا سونے میں بنا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں چار دروازے ہیں اور کسی بھی مذہب، رنگ اور نسل سے تعلق رکھنے والے فرد کے آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

تاریخ دان اس بات پر متفق ہیں کہ ہر مندر صاحب کی بنیاد لاہور میں مدفن مسلمان صوفی بزرگ حضرت میاں میر نے گرو ارجن دیو کی خواہش پر رکھی تھی۔

اکال تخت

اکال تخت کو ہرمندر صاحب کے سامنے تعمیر کیا گیا تھا۔ اب یہ ہرمندر صاحب کی عمارت ہی کا حصہ بن چکا ہے۔

اقبال قیصر بتاتے ہیں کہ اکال تخت کا مطلب خدا کا تخت ہے۔ اس کی بنیاد سکھوں کے چھٹے گرو ہرگوبند نے رکھی تھی۔ جب یہ تخت تعمیر کیا تو اس کو تخت دہلی کے تخت سے اڑھائی فٹ اونچا رکھا گیا تھا۔

پروفیسر خالد کے مطابق سکھوں کے پانچویں گرو، گرو ارجن دیو جو کہ گرو ہرگوبند کے والد تھے، ان کو مغل بادشاہ جہانگیر نے قتل کر وایا تھا۔

ان کی موت کے بعد ان کے بیٹے گرو ہرگوبند کو صرف 11 برس کی عمر میں سکھوں کا گرو مقرر کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تاریخ دان پروفسیر محمد خالد بتاتے ہیں کہ سکھوں کے چھٹے گرو ہرگوبند سکھ کی سکھ تاریخ اور اس میں اکال تخت کی خصوصی اہمیت ہے

گرو ہرگوبند پہلے سکھ گرو ہیں جنھوں نے سکھوں میں فوجی روایات اور دفاع کا کام شروع کروایا تھا۔ اکال تخت کو تعمیر کرنے والے گرو ہرگوبند ہی تھے۔

یہ کہا گیا تھا کہ اکال تخت سچے اور بڑے بادشاہ کا تخت ہے جبکہ تخت دہلی چھوٹے بادشاہ کا تخت ہے۔ اب بھی سکھوں میں اسے سچے بادشاہ کا تخت کہا جاتا ہے۔

اکال تخت اب بھی سکھوں میں انصاف اور دنیاوی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔

تخت شری پٹنہ صاحب

تخت شری پٹنہ صاحب انڈیا کی ریاست بہار کے شہر پٹنہ میں واقع ہے۔ یہ سکھوں کے دسویں گرو گوبند سنگھ کی جائے پیدائش ہے۔

بوبی سنگھ بنسل کے مطابق اس گردوارے کو بھی سکھ سلطنت کے مہاراجا رنجیت سنگھ نے تعمیر کروایا۔ گروگوبند سنگھ نے وہاں پانچ سال گزارے تھے جس کے بعد انھوں نے اپنے والد گرو تیگ بہادر کے حکم پر آنندپور صاحب کی جانب سفر کیا۔

تخت شری دمدمہ صاحب

تخت شری دمدمہ صاحب انڈیا کے پنجاب کے علاقے بھنڈہ میں واقع ہے۔

اقبال قیصر کے مطابق یہ وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے دسویں گرو گوبند سنگھ نے 1705ء میں گرو گرنتھ صاحب کی تکمیل کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تخت شری حضور صاحب انڈیا کی ریاست مہاراشٹر کے شہر ناندیڑ میں دریائے گوداوری کے کنارے واقع ہے

یہ وہ مقام ہے جہاں گروگوبند سنگھ کئی دفاعی جنگیں لڑنے کے بعد ٹھہرے تھے۔ یہاں پر انھوں نے کئی حکم نامے جاری کیے تھے۔ جو اب تک سکھوں میں رائج ہیں۔

تخت شری حضور صاحب

تخت شری حضور صاحب انڈیا کی ریاست مہاراشٹر کے شہر ناندیڑ میں دریائے گوداوری کے کنارے واقع ہے۔

اقبال قیصر کے مطابق اس کو حضور صاحب نندیڑ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ گروگوبند سنگھ کا مقام وفات ہے۔ اسے سنہ1832 سے سنہ 1837 کے دوران رنجیت سنگھ کے حکم پر تعمیر کیا گیا۔

اقبال قیصر کے مطابق اس مقام پر گرو گوبند سنگھ نے حکم جاری کیا کہ آئندہ کوئی گرو جسمانی صورت میں رونما نہیں ہوگا اور سکھوں کے لیے تمام دس کے دس گروؤں کے فرمان جس کتاب میں اکھٹے کیے گے تھے وہ ہی سکھوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے گی۔

سکھوں کی اس مقدس کتاب کو زندہ سکھ گرو کا درجہ حاصل ہے۔ اس کتاب میں 15 ہندو بھجن اور مسلمان صوفیا کا کلام بھی شامل ہے۔

دربار صاحب ننکانہ

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ضلع ننکانہ صاحب پوری دنیا میں سکھ مذہب کے بانی گرو بابا نانک کی پیدائش کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔

اقبال قیصر کے مطابق بابا نانک کی پیدائش 1469 میں ہندو مذہب کے ماننے والے والدین کے گھر میں ہوئی تھی۔ سکھ روایات کے مطابق، گرو نانک کی پیدائش کے وقت اور زندگی کے ابتدائی برسوں سے کئی حیرت انگیز واقعات منسوب ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بابا گرو نانک نے ننکانہ صاحب ہی سے سکھ مذہب اوراس کی تعلمیات کا آغاز کیا تھا اور اسی وجہ سے اس شہر کو سکھ مذہب میں انتہائی مقدس سمجھا جاتا ہے

پروفسیر محمد خالد کے مطابق 24 ستمبر، سنہ 1487 کو گرو نانک نے ماتا سلکھانی سے بٹالا میں شادی کرلی۔

اقبال قیصر کے مطابق گرو بابا نانک کی تعلیمات نے لوگوں کو بہت زیادہ متاثر کیا تھا۔ جس مقام پر ان کی پیدائش ہوئی اور انھوں نے اپنا بچپن گزارا وہاں پر اب دربار صاحب ننکانہ قائم ہے۔

بابا گرو نانک نے ننکانہ صاحب ہی سے سکھ مذہب اوراس کی تعلمیات کا آغاز کیا تھا اور اسی وجہ سے اس شہر کو سکھ مذہب میں انتہائی مقدس سمجھا جاتا ہے۔

دربار صاحب کرتار پور

دربار صاحب کرتا پور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع ناروال کا سرحدی علاقہ ہے۔ اقبال قیصر کے مطابق سکھ مذہب کے بانی گرو بابا نانک نے اپنی زندگی کے آخری ایام اسی مقام پر تبلیغ میں گزارے تھے اور اسی مقام پر وفات پائی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روایات کے مطابق بابا گرو نانک کو سکھ مذہب کے لوگ اپنا گرو اور مسلمان اپنا بزرگ پیر مانتے تھے

گرو نانک 1521 کو اس مقام پر تشریف لائے اور کرتارپور کے نام سے ایک گاؤں کو آباد کیا۔

اقبال قیصر کے مطابق یہ مقام جہاں سکھوں کے لیے انتہائی مقدس ہے وہیں اس مقام پر دیگر مذاہب کے لوگ، جن میں مسلمان بھی شامل ہیں، حاضری دیتے ہیں۔

روایات کے مطابق بابا گرو نانک کو سکھ مذہب کے لوگ اپنا گرو اور مسلمان اپنا بزرگ پیر مانتے تھے۔

22 ستمبر 1539 کو جب گرو نانک کا انتقال ہوا تو سکھوں اور مسلمانوں میں تنازع پیدا ہوا کہ گرو نانک کی آخری رسومات اپنے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق ادا کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کہا جاتا ہے کہ اس جھگڑے کے فیصلے کے لیے کسی درویش کے کہنے پر گرو نانک کے جسم سے چادر اٹھائی گئی تو ان کے جسم کے بجائے وہاں پر پھول موجود تھے۔

فیصلے کے مطابق چادر اور پھولوں کو برابر دو حصوں میں بانٹ کر اپنی اپنی مذہبی رسومات کے مطابق مسلمانوں نے چادر اور پھولوں کو دفن کیا جبکہ سکھوں نے اسے جلا کر سمادھ استھان بنا لیا اور آج بھی یہ دونوں نشانیاں قائم ہیں۔

بوبی سنگھ ہنسل کہتے ہیں کہ کرتارپور میں گرودوارہ صاحب کی تعمیر پٹیالہ کے مہاراجہ بھوپندر سنگھ بہادر نے سنہ 1921 تا 1929 کے درمیان کروائی۔

تقیسم ہندوستان کے بعد حکومت پاکستان کے زیر اہتمام اس کی تزئین و آرائش ہوتی رہی ہے۔

اسی بارے میں