آمنہ مفتی کا کالم اڑیں گے پرزے: اگر آج رام جی ہوتے!

30 برس قبل دیوارِ برلن ڈھائی گئی تو ہماری جرمن چچی نے مشرقی سرحد کی طرف اشارہ کر کے کچھ کہنے کی کوشش کی، سارا خاندان جو اس سرحد کے پار سب کچھ لٹا کے آیا تھا اس قدر خفا ہوا کہ چچی کو لینے کے دینے پڑ گئے۔

اس بات کے دو برس بعد بابری مسجد کو ڈھایا گیا تو ہمارے شہر کا اکلوتا کائی زدہ مندر بھی ڈھا دیا گیا۔

امّی نے اخبار میں چھپی بابری مسجد کی تصویر کاٹ کر دراز میں رکھ دی اور آنسو پونچھتے ہوئے کہا ’اب دوبارہ کہاں نظر آئے گی یہ مسجد؟ یہاں مندر ہی بنے گا، فیصلہ کر چکے ہیں یہ لوگ۔‘

عورتوں میں سمجھ بوجھ شاید زیادہ ہی ہوتی ہے۔ بابری مسجد کا واقعہ، انڈیا میں عدم برداشت کے نئے دور کا آغاز تھا اور شاید یہیں سے پاکستان میں رواداری کے عہد کا آغاز ہوا۔

آمنہ مفتی کے دیگر کالم پڑھیے

سے نو ٹو سموگ!

سیاست کا عہد کنٹینر!

مصلحت کی سرحد کے اس پار!

نوبل انعام برائے ادب تو ہمارا تھا!

خالی اجاڑ، کائی زدہ، گھاس کے سمندروں میں ڈوبے مندروں کو توڑنے کے بعد ان کی زمین پہ قابض لوگوں کو دیکھ کر خود بخود بہت کچھ سمجھ آ گیا۔ وہ مندر جیسے تھے، جہاں تھے کسی کو کچھ نہیں کہتے تھے مگر ان کی مسماری نے ایک اجتماعی احساسِ جرم جگا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ K K MUHAMMED
Image caption جب بابری مسجد ڈھائی گئی تو امی نے اخبار میں چھپی بابری مسجد کی تصویر کاٹ کر دراز میں رکھ دی اور آنسو پونچھتے ہوئے کہا 'اب دوبارہ کہاں نظر آئے گی یہ مسجد؟ یہاں مندر ہی بنے گا، فیصلہ کر چکے ہیں یہ لوگ۔'

شاید اسی اجتماعی احساسِ جرم نے آج کرتار پور راہداری کھولنے کی راہ ہموار کی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کی چال ہے، سکھ برادری کو اپنی طرف کر کے انڈیا میں پھر سے خالصتان تحریک کو ہوا دیں گے۔

بھیا، اگر پاکستان میں ایسے دماغ ہوتے تو 31 اکتوبر کو جب مولانا آزادی مارچ لے کر چلے تھے اور وزیرِ اعظم گلگت بلتستان کا یومِ آزادی منا رہے تھے تو کشمیر کے تین ٹکڑے نہ ہوتے۔

سکھوں کو ساتھ ملانے اور نئی تگڑم بنانے سے پہلے ہم کشمیریوں کے ساتھ تو کھڑے ہوتے۔ مغربی سرحد پہ جو کھیل شروع کیا تھا اسے تو سلیقے سے ختم کرتے۔ عقل کے بیری، سرحد میں ایک اور کھپا کھول کے نئی مصیبت کیوں مول لیتے؟

آج ایک عام پاکستانی مہنگائی، بے روزگاری اور آلودگی سے اس بری طرح متاثر ہے کہ سنہ 1992 کی طرح کوئی سڑکوں پہ نہیں نکلا۔ کشمیر کے لیے بھی ایک مرا مرا سا احتجاج کر کے سب اپنی اپنی روزی روٹی کی فکر میں لگ گئے۔

پاکستان کے سب مندر، ویران گرودوارے اور چرچ، وقت کی فصیلوں سے ٹیک لگائے دیکھ رہے ہیں۔ عبادت گاہوں میں جب خدا کے بندے نہیں آ سکتے تب بھی خدا ان گھروں کو چھوڑ کر تو کہیں نہیں جاتا، وہ تو وہیں، محرابوں، منبروں، مقدس استھانوں اور شہ رگوں سے قریب موجود رہتا ہے۔

زمانہ عجیب چالیں چلا کرتا ہے۔ دنیا بھر کی عبادت گاہوں کو دیکھ لیجیے، حملہ آور آئے تو کہیں گرجوں میں مسجدیں بنیں اور کہیں مسجدوں میں گرجے۔ سپین کی ویران مسجدیں اور ترکی کی آباد مسجدیں ایک ہی کہانی سناتی ہیں۔

عہد وسطی کے بعد دور جدید میں ایک ان لکھے معاہدے کے تحت تمام عبادت گاہوں میں جس مذہب کی عبادت جاری تھی وہی جاری رہی، ظاہر ہے وہ حملہ آوروں کا مذہب ہی تھا۔ بابری مسجد کا فیصلہ عجیب فیصلہ ہے۔ خیر عدالتوں کے فیصلے عجیب ہی ہوتے ہیں۔

حیرت اس بات پہ ہے کہ یہ فیصلہ عین اس روز کیوں کیا گیا جس دن کرتار پور راہداری کھولی گئی؟

کیا پاکستان کو یہ باور کرایا گیا کہ کرتار پور تمہارا ذاتی معاملہ تھا اور بابری مسجد ہمارا ذاتی مسئلہ؟ ہم تمہاری اس خیر سگالی کو غریب رشتے دار کے تحفے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے یا اس کے پیچھے اس جذبے کو ہوا دینے کی مصلحت کارفرما تھی کہ دائیں بازو کے لوگ کہیں کہ ہم تو ان کے لیے مذہبی زیارتوں کے راستے کھولیں اور وہ ہمارے مذہبی مقامات کو مسمار کریں؟

اگر ایسا کوئی ’ری باونڈ‘ مار کے کوئین پاکٹ کی جا رہی ہے تو یہ بہت بڑا رسک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کی چال ہے، سکھ برادری کو اپنی طرف کر کے انڈیا میں پھر سے خالصتان تحریک کو ہوا دیں گے‘

انڈیا کے مسلمان پہلے ہی روز بروز ایک پسی ہوئی اقلیت بنتے جا رہے ہیں۔ کشمیر میں اٹھائے گئے حالیہ اقدامات اور بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی اجازت پاکستان کے لیے جو مسئلے اٹھائے گی سو اٹھائے گی مگر انڈیا کے لیے یہ انتہا پسندی کے ایک افسوسناک دور کا آ غاز ہے۔

کچھ ایسا ہی فارمولا ہم فلسطین میں بھی دیکھتے ہیں۔ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے امریکہ نے واضح جانبداری کا ثبوت دیا۔ انسان پرانی جنگیں لڑ لڑ کے تھک چکا ہے۔ اپنی تین نسلیں ان مسائل کی نذر کرنے کے بعد آج وہ ان معاملوں سے کسی نہ کسی طرح چھٹکارا چاہتا ہے۔

یہ ایک طرح کی اجتماعی بے حسی ہے شاید یا پھر خطے کی سیاست نئی کروٹ لینے والی ہے۔ انڈیا کی تقسیم کے پیچھے ایک بہت بڑا خوف سپین میں مسلمانوں کا انجام بھی تھا۔ ہم نے جس دور میں آنکھ کھولی، اس میں یہ بات مذاق ہی لگتی تھی کہ بھلا انڈیا جیسی مضبوط اور سیکولر جمہوریت میں ایسا ممکن ہے؟ مگر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے انڈیا میں مودی کی صورت ملکہ ازابیل کا نیا جنم ہوا۔ کئی نسلوں کا خوف، تشخص کے مٹ جانے کی فکر آج پھر منھ پھاڑ ے کھڑی ہے۔

پاکستان کے دو لخت ہو جانے سے ہم نے تو کوئی سبق سیکھا یا نہ سیکھا مگر بی جے پی کی حکومت نے بالکل نہ سیکھا۔

Image caption ’ویران عبادت گاہوں سے خوف آتا ہے۔ چاہے کیرتن ہو، اذان ہو یا مجیرا بجے، آواز آنی چاہیے‘

جہاں کرتار پور راہداری کھلنے سے اجمیر اور دلی جانے کی امید نظر آنے لگی ہے وہیں کشمیر میں چار ماہ سے جاری کرفیو اور بابری مسجد کے فیصلے سے دل بھاری بھی ہے۔

جو ہونے والا ہے، وہ اچھا نہیں ہے۔ یوں ہی اک خیال سا آتا ہے کہ اگر رام جی آج موجود ہوتے تو شاید عدالت کا یہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیتے۔ رام چندر جی جیسا شخص کیسے فقط اس لیے کروڑوں انسانوں کی جان خطرے میں ڈالتا کہ ایک مسجد کے نیچے مبینہ طور پہ ان کا جنم استھان تھا؟ بھگوان کا اوتار ہونا اتنا آسان نہیں، انسان سے پیار کرنا پڑتا ہے اور اوتار کا بھگت ہونا بھی آسان نہیں، دشمن سے بھی پیار کرنا پڑتا ہے بغل میں چھری، منھ میں رام رام سے کام نہیں چلتا۔

اس زمین کے چپے چپے پہ آبادیاں تھیں، جانے کہاں کیا تھا اور کیا؟ کس کس گڑے مردے کو اکھیڑا جائے گا؟

کرتار پور راہداری کھولنا بہت دل گردے کا کام تھا۔ اگر اس کے پیچھے کوئی عسکری حکمتِ عملی بھی ہے تو بھلے سے ہوا کرے۔ ویران عبادت گاہوں سے خوف آتا ہے۔ چاہے کیرتن ہو، اذان ہو یا مجیرا بجے، آواز آنی چاہیے۔ سجدوں میں جھکے سر ہوں یا متھا ٹیکتے یاتری، عبادت گاہیں آباد ہی اچھی لگتی ہیں۔ مذہب کوئی بھی ہو محبت کا سبق دیتا ہے۔ مذہب کی بنیاد پہ نفرت کو پھیلانے والے تباہی کو دعوت دیتے ہیں۔

یوں تو ہم نے آج تک جو چال چلی وہ ایسی تھی کہ پلٹ کے اپنے ہی منھ پہ آئی لیکن اس بد قماری کے باوجود کرتار پور راہداری کھولنا حُکم کا اکا پھینکنے جیسا ہے۔

ممکن ہے کہ اوپر کہیں آسمانوں پہ بابا گرو نانک اور رام جی آمنے سامنے بیٹھے سوچ رہے ہوں، اج تے مسلمان بازی لے گئے۔

اسی بارے میں