صدارتی ریفرنس: ’جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ایک وقت میں عمران خان سے زیادہ ٹیکس جمع کرایا‘

اسلام آباد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کالعدم قرار دینے سے متعلق دائر درخواستوں پر وکیل بابر ستار نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل جسٹس فائز عیسیٰ قانون کی رو سے اپنی اہلیہ اور بچوں کے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند نہیں ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ٹیکس گوشوارے جمع کروانا ایک ذاتی فعل ہے۔

بابر ستار نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ایک وقت میں موجودہ وزیر اعظم عمران خان سے بھی زیادہ ٹیکس جمع کروایا ہے۔ بابر ستار نے کہا کہ یہ عرصہ 2009 سے 2011 تک کا بنتا ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت عمران خان پارلیمنٹ کا حصہ نہیں تھے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت اگر پانچ سال تک کسی ٹیکس دہندہ کی طرف سے گوشواروں پر متعقلہ ادارے کے حکام کوئی اعتراض نہ اُٹھائیں تو اثاثوں کے بارے میں دوبارہ چھان بین نہیں کی جاسکتی۔

دس رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت عظمیٰ کے سامنے معاملہ انکم ٹیکس آرڈیننس کا نہیں بلکہ اثاثے ظاہر نہ کرنے کا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ مخالف قرارداد مسترد

’سب کو معلوم ہے جسٹس فائز عیسیٰ چیف جسٹس ہوں گے‘

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کون اور ان کے فیصلوں پر تنازعے کیا؟

جسٹس بندیال نے کہا کہ آپ کے موکل پر جو الزام ہے اس کا جواب دیں باریک بینیوں میں نہ پڑیں، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل کا کہنا تھا کہ سارا معاملہ ہی ان کے موکل کی ’ویلتھ سٹیٹمنٹ‘ سے متعلق ہے۔

ججوں نے بابر ستار کو کہا کہ وہ اس بات پر عدالت کو مطمئن کریں کہ ان کے موکل (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) پر لگائے گئے الزامات محض مفروضوں پر مبنی ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ کیا کسی خود کفیل شخص کو اپنی خود کفیل بیوی اور بچوں کو بھی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ظاہر کرنا ہوتا ہے؟ جس پر بابر ستار کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی تاریخ میں ایسا واقعہ نہیں ملتا۔

جسٹس اختر نے ریمارکس دیے کہ اگر تاریخ میں ایسا نہیں تو بھی معلومات دینی چاہئیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر ایف بی آر پوچھے تو بتا دے کہ وہ خود کفیل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ ان کے موکل کو انکم ٹیکس کی جانب سے کوئی نوٹس موصول ہوا ہے، جس پر وکیل کا جواب نفی میں تھا۔

جسٹس شاہ نے ریمارکس دیے کہ ان کے خیال میں خود کفیل بیوی بچوں کی معلومات دینا ضروری ہوتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر انکم ٹیکس کمشنر ضرورت محسوس کرے تو معلومات طلب کر سکتا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنی اہلیہ اور بچوں کے بیرون ممالک اثاثوں کو ظاہر کرتے تو یہ ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ تاہم وکیل نے یہ بھی وضاحت کی کہ غیر ملکی اثاثے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی آمدن سے نہیں لیے گئے۔

بابر ستار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر اثاثے آمدن سے مطابقت نہ رکھتے ہوں تو ٹیکس فارم ہی جمع نہیں ہوسکتے۔

وکیل نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر الزام ہے کہ ان جائیدادوں کی خریداری کے لیے رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک بھجوائی ہے۔

جسٹس بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اسی سوال کا جواب ڈھونڈ رہی ہے کہ اس جائیداد کے خریدنے کے ذرائع کیا ہیں۔

بابر ستار نے کہا کہ انکم ٹیکس کے حکام پانچ سال تک کے عرصے میں ہی کسی جائیداد کے بارے میں چھان بین کر سکتے ہیں اور اگر اس دوران ان کے نوٹس میں چھپائی گئی جائیداد آئے تو پھر وہ ٹیکس دہندہ کو ایک لاکھ روپے تک جرمانہ بھی کر سکتے ہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے طنزیہ طور پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو بڑا اچھا قانون ہے کہ پانچ سال تک اثاثے چھپاؤ اور پھر ایک لاکھ روپے بطور جرمانہ ادا کرکے وہ اثاثے ظاہر کردو۔

ان درخواستوں پر سماعت اب منگل کی دوپہر کو ہو گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں