خوش پور: پنجاب کا وہ گاؤں جہاں چرچ کی گھنٹی اور مسجد کی اذان ساتھ سنائی دیتی ہیں

چرچ

’خوش پور میں اسی طرح امن اور بھائی چارے کی فضا قائم رہے، اس بستی کے نوجوان اسی طرح علم اور دانائی میں آگے بڑھیں۔ پاکستان بھی خوش پور بستی کی طرح امن کا گہوارہ بن جائے، اے خدا ہماری دعا سن۔‘

یہ وہ دعائیہ کلمات تھے جو اتوار کی صبح فیصل آباد کے قریب واقع گاؤں خوش پور کے ایک صدی پرانے چرچ میں بلند ہوئے۔

اس چرچ میں ایک طرف خواتین اور دوسری طرف مرد صف بندی کیے ہوئے ہیں، بچے بھی ان کے ساتھ ہیں۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے آج پورا گاؤں ہی چرچ میں ہو۔

یہ وہ وقت ہوتا ہے جب مسلمان بھی مسجد سے نماز فجر ادا کر کے ناشتے اور دیگر امور کی انجام دہی کے لیے اپنے گھروں کی راہ لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ میں ہندو، سکھ کیوں بن رہے ہیں؟

مسلم ہندو یاری بٹوارے پر بھاری

دوستی نے مندر اور مسجد کے طرزِ تعمیر کا فرق مٹا دیا

گھانا کے امام جنھوں نے 100ویں سالگرہ چرچ میں منائی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
خوش پور: جہاں ہم آہنگی میں مسجد اور گرجا کا کردار کلیدی ہے

اس کشادہ اور ہری بھری بستی کی ترقی، خوشحالی اور ہم آہنگی میں چرچ اور مسجد کا بھی کلیدی کردار ہے۔ گاؤں کے سکولز اور دیواروں پر جگہ جگہ آیات قرآنی اور بائبل کی آیات کی منفرد خطاطی نظر آتی ہے۔

اس کیتھولک اکثریتی گاؤں نے توہین رسالت کے قانون میں طویل جیل کاٹنے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

خوش پور

خوش پور کے تقریباً چار سو گھر پرانے طرز تعمیر کے عکاس ہیں۔ ان سادہ مگر ہوا دار گھروں کی کشادہ گلیاں اور ہرے بھرے کھلیان گاؤں کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق خوش پور سے رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد تقریباً پانچ ہزار تک بنتی ہے۔

نہری پانی سے سیراب ہونے والے اس گاؤں میں بسنے والوں کا بنیادی ذریعہ معاش زراعت ہے۔ پارک نما اس گاؤں میں کھیل کے میدان بھی موجود ہیں۔ کئی گھروں کے ساتھ ہی ڈیری فارم بھی بنائے گئے ہیں۔

خوش پورگاؤں

خوش پور: دو مذاہب کا حسین امتزاج

مسیحیت اور اسلام کا ایک صدی سے زائد عرصے کا مثالی تعلق دیکھنا ہو تو پھر خوش پور گاؤں سے بہتر مثال شاید ہی کوئی اور ہو۔

یہاں بسنے والے مذہبی اور سماجی فرق کے باوجود امن، محبت اور بھائی چارے سے زندگی بسر کرتے آ رہے ہیں۔

چرچ کے بعد جب یہاں مقیم تین درجن کے قریب مسلمان گھرانوں نے اپنے لیے مسجد کی تعمیر کی ٹھانی تو چرچ سے پادری خود چل کر سنگ بنیاد رکھنے آئے اور انھوں نے مسجد کی جگہ کھڑے ہو کر امن اور سلامتی کی دعا بھی مانگی۔

اس گاؤں کی رہائشی 86 برس کی سِلین ماریہ ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر ہیں۔

وہ زیادہ وقت اپنے ڈیری فارم پر ہی گزارتی ہیں اور اپنی زندگی کے یادگار لمحات کو یاد کرتی ہیں۔ سِلین ماریہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انگریز دور میں انھیں سیالکوٹ سے یہاں لا کر آباد کیا گیا تھا۔

سلین ماریہ
Image caption اس گاؤں کی رہائشی 86 برس کی سِلین ماریہ ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر ہیں

ان کا کہنا ہے کہ باہمی مذہبی ہم آہنگی اور احترام کا یہ جذبہ اس گاؤں میں شروع سے ہی موجود رہا ہے۔ وہ اپنے تعلیمی کیریئر کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ 45 سال بحیثیت ٹیچر کے کام کرتے ہوئے کبھی خیال نہیں آیا کہ ان کے طلبا کا مذہب کیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ میں نے ہمیشہ سب کو ایک نظر سے دیکھا اور سب کو اپنے بچوں کی طرح پایا۔

’زندہ بھی ساتھ تو مر کر بھی ایک ساتھ‘

خوش پور میں مسلم اور مسیحی ایک دوسرے کی خوشی غمی میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ کرسمس ہو یا عید یہاں کے مکین ایک دوسرے کے تہواروں میں بھی شانہ بشانہ ہوتے ہیں۔ یہاں کے قبرستان میں بھی کوئی تفریق نہیں ہے۔

غیر ملکی مشنری

خوش پور گاؤں میں انگریز مشنریوں کی بھی بڑی تعداد مدفون ہے، جو یہاں مسیحیت کا پرچار کرنے آئے تھے اور پھر خوش پور کے ہی ہو کر رہ گئے۔ خوش پور کے قبرستان میں ان کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔

خوش پور کے رہائشی یہاں کی مشہور تعلیمی شخصیت ماسٹر محمد رفیق کا خاص تذکرہ کرتے ہیں جن کی کچھ عرصے قبل وفات ہوئی تو ان کے گھر والوں کی اجازت سے ان کا جنازہ پہلے چرچ اور بعد میں مسجد میں ادا کیا گیا۔

اس کے بعد سب نے مل کر ان کے جنازے کو کندھا دیا اور انھیں اسی مشترکہ قبرستان میں دفنایا گیا۔

خوش پور کیسے آباد ہوا؟

خوش پور گاؤں انگریز دور میں سنہ 1900 میں آباد کیا گیا۔ یہاں کے باسی پنجاب کے شہر سیالکوٹ سے آئے تھے۔ فیصل آباد سے تقریباً 56 کلو میٹر دور خوش پور ان چند گاؤں میں سے ایک ہے جو مشنری جذبے کے تحت بسائے گئے۔

سلین ماریہ کے مطابق انگریز دور میں فیصل آباد کے علاوہ ایسے مشنری گاؤں اوکاڑہ اور شورکوٹ کے قریب بھی آباد کیے گئے تھے۔

اس گاؤں کے مسلمان اقلیتی برادری کہلاتے ہیں، جو یہاں بسنے والے مسیحوں کی خدمت کے لیے لائے گئے تھے۔ ان کے ساتھ مسیحی برادری کا اتنا اچھا سلوک رہا کہ پھر یہ یہیں کے ہو کر رہ گئے۔

خوش پور ہائی سکول

خوش پور کی مشہور تعلیمی، مذہبی اور سیاسی شخصیات

خوش پور نے ہر شعبے میں بڑے نام پیدا کیے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہاں کا ماحول تھا۔

ایک صدی سے زائد عرصے میں خوش پور نے سینکڑوں پادری، راہب، راہبائیں اور مذہبی پیشوا پیدا کیے، جو اسی مشنری جذبے کے ساتھ ملک بھر میں اپنی خدمات سر انجام دیتے آ رہے ہیں۔

خوش پور گاؤں کی مشہور مذہبی شخصیات میں علامہ پال ارنسٹ جو پاکستان میں بائبل کے پانچ مترجمین میں سے ایک ہیں، انسانی حقوق پر کام کرنے والے ڈاکٹر بشپ جان جوزف اور بشپ روفن انتھنی، پادری ڈاکٹر پرویز عمانوئیل، لسال برادرز اور پادری آفتاب جیمز پال شامل ہیں۔

نن

رضیہ چننڑ بھی، جو نن کے خاص لباس میں ملبوس ہیں اور مرتے دم تک اپنے مشن سے وفادار رہنے کی انگوٹھی پہن ہوئے ہیں، اس گاؤں میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت خوش پور میں دو سے ڈھائی سو تک نن یا سسٹرز موجود ہیں جو پاکستان میں کسی بھی علاقے سے سب سے زیادہ ہیں۔

رضیہ چننڑ کے مطابق ’سنہ 1949 میں خوش پور میں کانونٹ قائم ہوا، تب سے یہاں سسٹرز خدمت کر رہی ہیں۔ پہلے اٹالین سسٹرز تھیں اب ہم یہاں مقامی ہیں۔ شروع سے ہی ہمارے پاس سکول اور ڈسپنسریز ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ نن انسانیت کی زیادہ خدمت دیہاتوں میں کرتی ہیں۔

خوش پور کے چرچ میں ایک دہائی تک پادری کے فرائض سر انجام دینے والے انجم نذیر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہاں زیادہ تر مشنری لوگوں نے کام کیا ہے جنھیں دیکھ کر لوگوں میں ان جیسا بننے کا شوق بڑھا یہی وجہ ہے کہ پورے پاکستان میں یہاں سب سے زیادہ پادری ہیں۔

مسجد

مذہبی ہم آہنگی کے مینار: چرچ کی گھنٹی اور مسجد کی اذان

70 برس کے محمد اقبال کا تعلق مسلم برادری سے ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ خوش پور میں چرچ کے میناروں کی گھنٹی اور مسجد کے میناروں سے اذان کی آواز اتحاد کی علامت بن چکی ہے۔

ایک ہاتھ سے چرچ اور دوسرے سے مسجد کی طرف اشارہ کرتے ہوئِے ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اُدھر نماز پڑھتے ہیں، ہم اِدھر نماز پڑھتے ہیں۔‘

محمد اقبال کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں کہ اگر ہم ادھر رہتے ہیں تو ہمارا کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اگر کبھی کچھ ہو بھی جائے تو سماجی طور پر ہی حل نکالا جاتا ہے، ایسے اختلاف کو مذہبی رنگ نہیں دیا جاتا۔

خوش پور

مذہبی ہم آہنگی سے متعلق بات کرتے ہوئے پادری انجم نذیر کا کہنا ہے کہ وہ اور مقامی امام مسجد اکثر آپس میں ملتے ہیں اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

خوش پور کے امام مسجد حاجی محمد لطیف نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اتحاد کی بنیاد تو ان کے آباؤ اجداد نے رکھی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میرے دادا علم دین بتاتے تھے کہ جب انگریز دور میں مسیحی سیالکوٹ سے یہاں آرہے تھے وہ ہمیں بھی یہ کہہ کر ساتھ لے آئے کہ اگر ہم اِدھر اکھٹے رہ رہے تھے تو پھر اُدھر بھی ایک ساتھ ہی رہیں گے۔‘

محمد لطیف کہتے ہیں کہ چرچ کے پادری ان کے اچھے دوست ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب بھی کسی نے یہاں شرپسندی یا غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی تو اسے ناکامی ہی ہوئی۔

اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے محمد اقبال اپنی اہلیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بہت خوشی اور فخر سے یہ بات بتاتے ہیں کہ اس گاؤں کی وجہ سے ہم غریبوں کے بچے پڑھ لکھ گئے ہیں اور اب وہ ہمارا اچھا سہارا بن گئے ہیں۔

مذہبی آہنگی سے متعلق بات کرتے ہوئے انجم نذیر نے کہا چونکہ یہاں مشنری سکولز بھی ہیں جہاں کرسچن اور مسلم اکھٹے پڑھتے ہیں، جس سے وہ ایک دوسرے کا بہت احترام کرتے ہیں اور اسی وجہ سے یہاں ایک دوسرے کو قبول کرنے کا جذبہ بہت ہے۔

رول نمبر 9: کلیمنٹ شہباز (شہباز بھٹی)

یہ گورنمنٹ سینٹ تھامس ہائی سکول کا 1984 کا ’رجسٹر داخل خارج‘ ہے۔ اس میں دسویں جماعت میں پڑھنے والے مسیحی اور مسلمان طلبا کے نام درج ہیں۔ اس رجسٹر میں سیریل نمبر نو پر سابق وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کا نام کلیمنٹ شہباز یعنی عظیم شخصیت درج ہے۔

سینٹ تھامس ہائی سکول

شہباز بھٹی کا تعلق بھی خوش پور گاؤں سے تھا۔

شہباز بھٹی کے سکول کے حاضری رجسٹر کو دیکھ کراندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ یہاں ایک دوسرے کا احترام سکول کے وقت سے ہی سکھایا جاتا ہے اور انھیں اقلیتوں کا احترام اور اہمیت کا اندازہ بھی سکول کے وقت سے ہی تھا۔

رجسٹر میں مذہب کے خانے میں 11 مسیحی اور چھ مسلم طلبا کے نام درج ہیں۔

سکول رجسٹر

سنہ 1984 کی اس کلاس میں سیریل نمبر نو پر ’حاضر جناب‘ کہنے والے طالبعلم کا نام تو رجسٹر میں اب بھی درج ہے لیکن اب یہ آواز دب گئی ہے۔

توہین رسالت کے مقدمے میں قید ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی جسے اس برس سپریم کورٹ نے بری کر دیا، کی رہائی سے متعلق بیان دینے پر اس وقت وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو سنہ 2011 میں اسلام آباد میں قتل کر دیا گیا۔ یہاں کے بسنے والے اس نقصان پرآج بھی صدمے میں ہیں۔

شہباز بھٹی

اب اس گاؤں میں ان کی یاد میں ایک کمپلیکس تعمیر کیا جا رہا ہے جو اپنی تعمیل کے اختتامی مراحل میں ہے۔

شہباز بھٹی کے بڑے بھائی سکندر بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ شہباز بھٹی کو امانتاً قبرستان میں دفن کیا گیا تھا لیکن اب ان کے جسد خاکی کو بھی یہاں لا کر شہباز بھٹی کمپلیکس کے احاطے میں دفن کیا جائے گا۔

اگر ’گورنمنٹ سینٹ تھامس ہائی سکول 51 گ ب‘ کے ایک صدی پر محیط رجسٹرز میں درج طلبا کے بارے میں تحقیقات کی جائیں تو یہاں سے تعلیم اور تربیت حاصل کرنے والوں کی ایک طویل فہرست مرتب کی جا سکتی ہے جنھوں نے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوایا۔

اس سکول کے ہیڈ ماسٹر ذیشان یوسف نے 1911 اور 1917 کے رجسٹر دکھاتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ خوش پور میں تقریباً تمام ہی مذاہب کے ماننے والے بستے تھے، جو شاید انڈیا اور پاکستان کی تقسیم کے بعد بچھڑ گئے، جس کے ساتھ ہی ان کی یادوں کا سورج بھی غروب ہو گیا۔

خوش پور

اپنے سکول کے وقت کو یاد کرتے ہوئے شہباز بھٹی کے دو کلاس فیلوز نے بی بی سی کو اپنے سکول میں بیتے یاد گار لمحات کے بارے میں بتایا۔

شہباز بھٹی کے کلاس رجسٹر کے مطابق انجم جیمز کا رول نمبر ایک تھا۔ اب وہ گاؤں کے قریب واقع سمندری کے ایک سرکاری سکول میں پڑھاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کو مذہبی ہم آہنگی سکول کے دور سے ہی سکھائی گئی تھی اب یہ ہمارے لیے ورثے کی حیثیت رکھتی ہے جو نئی نسل کو منتقل ہو جاتی ہے۔

حاجی محمد لطیف کا بھی کہنا ہے کہ ‘شہباز بھٹی نے سکول دور سے ہی یہاں بسنے والی مسلمان اقلیتی برادری کا دل جیتا۔ بطور وزیر انھیں قومی سطح پر تمام اقلیتوں کے لیے ایسا ہی ماحول بنانے کا ٹاسک ملا تھا جس کی تربیت انھیں خوش پور میں حاصل ہوئی تھی۔‘

شہباز بھٹی کے ہم جماعت پروفیسر انجم جیمز کا کہنا ہے کہ ’ان کے کلاس فیلوز میں سے کچھ اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن وہ اپنی قیمتی یادیں ہمارے پاس امانت چھوڑ کر چلے گئے کہ حالات جیسے بھی ہوں لیکن ہمارے بعد بھی اس امن، محبت اور بھائی چارے کی فضا کو خراب نہ ہونے دینا۔‘

اسی بارے میں