مشرف غداری کیس اور پاکستان کی عدالتی تاریخ: پاکستان کا اہم ترین مقدمہ کونسا ہے؟

پرویز مشرف(فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت اٹھائیس نومبر کو اس مقدمے کا فیصلہ سنائے گی یا نہیں، اس بارے میں آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیصلہ متوقع ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ بدھ کے روز حکومت پاکستان کی اس درخواست کی سماعت کرے گی جس میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماتحت چلنے والی خصوصی عدالت کو پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے میں فیصلہ دینے سے روک دے۔

سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ اس مقدمے کا فیصلہ اٹھائیس نومبر کو سنائے گی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے منگل کے روز اس درخواست کی سماعت شروع کی اور بدھ کے روز حکومت اور اس مقدمے کے ریکارڈ کے ساتھ پیش ہونے کا حکم جاری کیا۔

پاکستانی آئین کی شق چھ 'ہائی ٹریزن' یعنی سنگین غداری کے مطابق کوئی بھی شخص جس نے آئین کو معطل کیا ہو یا اسے منسوخ کا ہو، غداری کا مرتکب قرار دیا جائے گا اور اس قدم کی سزا موت یا عمر قید ہے۔

مزید پڑھیے:

مشرف کی نااہلی معطل، انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت

’مشرف اشتہاری ہیں، انھیں متاثرہ فریق نہیں سمجھتے‘

سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے خلاف پانچ سال جاری رہنے والا یہ مقدمہ وہ پہلا موقع ہے جب پاکستان کے کسی فوجی حکمران پر آئین شکنی کے الزام میں غداری کا مقدمہ چلا ہو۔ اس موقع پر کئی ذہنوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ میں یہ اہم ترین مقدمہ ہے اور اس کے پاکستان کے سیاسی مستقبل پر کیا اثرات ہوں گے۔

جب بی بی سی نے اس کے بارے میں پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک سے بات کی تو انھوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین کیس ہے۔

'میرا نہیں خیال کہ اس مقدمے سے ملک کے سیاسی نظام پر کوئی واضح فرق آئے گا یا ملک میں جمہوی نظام کی بالادستی ہوگی اور غیر منتخب اداروں کی طاقت میں کوئی کمی ہوگی۔‘

معروف قانون دان اور پاکستان کی عدالتی اور آئینی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے وکیل حامد خان نے بھی کہا کہ شاید مشرف غداری مقدمے کو ملک کا اہم ترین کیس نہیں کہہ سکتے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ آتا ہے تو یہ ضرور ہے کہ ایک سابق فوجی حکمران کو ’اس طرح غداری کا مرتکب قرار دینا ایک نئی مثال قائم کرے گا۔

دوسری جانب قانونی ماہر اور انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس سے منسلک وکیل ریما عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بات میں قطعی طور پر دو رائے نہیں کہ مشرف غداری مقدمہ عدالتی تاریخ کے اہم ترین مقدمات میں سے ایک ہے۔

'ایک سابق فوجی سربراہ پر غداری اور آئین شکنی کا مقدمہ چلانا ہی کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ لیکن اس کی اہمیت شاید اس لیے ماند پڑ جائے کہ یہ مشرف کی جانب سے 1999 میں کی گئی فوجی بغاوت کے خلاف نہیں ہے بلکہ نومبر 2007 میں لگائی گئی ایمرجنسی کے خلاف ہے، اور وہ تو کئی سالوں سے ملک میں موجود ہی نہیں ہیں۔'

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستان کی تاریخ میں کس کس پر غداری کے مقدمے چلے؟

پاکستان کا اہم ترین مقدمہ کونسا ہے؟

جب بی بی سی نے قانونی ماہرین سے سوال کیا کہ ان کے نزدیک پاکستانی تاریخ کا وہ کونسا مقدمہ ہے جس نے ملکی سیاست پر سب سے زیادہ دوررس اثرات مرتب کیے ہیں، تو دو مقدمات پر بیشتر کا اتفاق رائے نظر آیا۔

حامد خان نے مولوی تمیز الدین کیس کا حوالہ دیا جس میں اس وقت کے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے جسٹس منیر کی سربراہی میں نظریہ ضرورت کے تحت گورنر جنرل غلام محمد کی جانب سے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے فیصلے کی توثیق کی تھی۔ حامد خان کے مطابق یہی وہ فیصلہ تھا جس کی وجہ سے 'پاکستانی جمہوریت اپنے راستے سے ہٹ گئی۔'

حامد خان نے تمیز الدین کیس کے علاوہ دوسو کیس کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1958 میں دیے گئے اس فیصلے نے بھی کافی مضر اثرات چھوڑے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 1958 کے اس کیس کا فیصلہ بھی جسٹس منیر کے ہاتھوں آیا جس میں انھوں نے سکندر مرزا اور ایوب خان کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے اقدام کو دوبارہ 'نظریہ ضرورت' کے تحت درست قرار دیا۔

خیال رہے کہ بعد ازاں جسٹس منیر نے اپنی سوانح عمری 'ہائے ویز اینڈ بائی ویز آف لائف' میں اعتراف کیا کہ 'ان کے فیصلے ملک کی بدقسمتی کے آغاز کا سبب بنے۔'

تجزیہ نگار رضا رومی نے بھی تمیز الدین کیس اور ڈوسو کیس کو اہم ترین مقدمات قرار دیا لیکن ساتھ ساتھ انھوں نے عاصمہ جیلانی کی جانب سے یحییٰ خان پر دائر کیے گئے کیس کا ذکر کیا، جس کے فیصلے میں عدالت نے سابق فوجی سربراہ کو 'غاصب' قرار دیا تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کہا جاتا ہے کہ مشرف کیس پہلا موقع ہے جب کسی فوجی آمر پر کیس چل رہا ہے لیکن حقیقت میں یحییٰ خان کے ساتھ عدالت فیصلہ کر چکی تھی۔ البتہ وہ فیصلہ اس وقت آیا جب سابق فوجی حکمراں طاقت میں نہیں تھے۔

دیگرمقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے رضا رومی نے کہا کہ ان فیصلوں نے پاکستانی تاریخ کا راہ متعین کر دی۔

'یہ جو تمام مقدمات تھے، اور ان کے جو فیصلے تھے، انھوں نے پاکستان کی عدالتی اور سیاسی تاریخ کی سمت متعین کر دی۔ آج کا پاکستان ابھی تک انہھی مقدمات اور فیصلوں سے منسلک ہے اور انہی کے چنگل میں جکڑا ہوا ہے۔'

ادھر منیر ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے نزدیک، پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور ملک کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پر قتل کے الزام میں چلنے والا مقدمہ پاکستان کا اہم ترین کیس تھا جس کے اثرات پاکستانی سیاست پر ابھی تک حاوی ہیں۔

'ذوالفقار علی بھٹو کی اپنی سزائے موت پر کی گئی اپیل، جس کا فیصلہ چار، تین سے ان کے خلاف آیا تھا، میرے خیال میں پاکستان کا سب سے اہم کیس ہے۔ تاریخ میں اس کو ابھی بھی عدالتی قتل کے نام سے جانا جاتا ہے اور پاکستان میں عدلیہ کی خود مختاری کے بارے میں جب جب بات ہوتی ہے تو اس مقدمے کا ذکر لازماً ہوتا ہے۔'

لیکن منیر ملک کے مطابق عدالتوں نے ماضی میں ایسے کئی معروف فیصلے بھی دیے ہیں جن کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

انھوں نے سنہ 2009 کے اس فیصلے کی مثال دی جس کے تحت صدر مشرف کی جانب سے سنہ 2007 مارچ میں عدلیہ کے ججوں کی معزولی کے فیصلے کو خارج کرنا تھا جس کے بعد افتخار چوہدری ایک بار پھر پاکستان کے چیف جسٹس بن گئے۔

'ایک اور اہم کیس اصغر خان کیس ہے جس میں عدالت نے ریاستی معاملات میں ایک مخصوص قومی ادارے کی مداخلت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور بالخصوص انتخابات کے معاملے پر ان کے مینڈیٹ پر سوال اٹھایا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک انتہائی اہم کیس سنہ 1988 میں بینظیر بھٹو بمقابلہ ریاست، کیس نمبر PLD 1988 SC 561 ہے

وکیل اسد رحیم نے مولوی تمیز الدین کیس اور ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس کو اہم ترین کیس قرار دیا لیکن ساتھ میں مزید کہا کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک انتہائی اہم کیس سنہ 1988 میں بینظیر بھٹو بمقابلہ ریاست، کیس نمبر PLD 1988 SC 561 ہے۔

'یہ وہ مقدمہ ہے جس میں عدالت عظمی نے آئین کی شق 184(3) کی جو تشریح کی ہے اس نے مستقبل میں سو موٹو مقدمات اور عوامی فلاح کے لیے اٹھائے گئے عدالتی اقدامات کے لیے راستہ ہموار کیا جس کے اثرات دہائیوں بعد سامنے آئے۔'

پاکستانی عدلیہ کی تاریخ پر نظر رکھنے والے ماہرین اور ناقدین کہتے ہیں کہ 1955 اور 1958 میں دیے جانے والے فیصلوں نے پاکستانی آئین کو زبردست نقصان پہنچایا اور جس کی وجہ سے ملک میں جمہوریت کبھی بھی صحیح معنوں میں پنپ نہیں سکی۔

اسی بارے میں