وسعت اللہ خان کا تجزیہ: کیا سرفروشی کی تمنا کا نعرہ لگانے والی لڑکیاں ہی تبدیلی لائیں گی؟

عروج اورنگزیب تصویر کے کاپی رائٹ AROOJ AURANGZEB/FACEBOOK

فیض احمد فیض کی یاد میں لاہور میں ہر سال میلہ لگتا ہے اور اس میلے میں سب سے زیادہ اقبال بانو کی آواز میں وہ نظم ہی سنائی دیتی ہے: 'لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے، وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے۔'

لیکن اس بار فیض میلے میں جس نظم کو سب سے زیادہ ٹی آر پی حاصل ہوئی وہ تھی رام پرساد بسمل عظیم آبادی کی 98 سالہ پرانی نظم 'سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے ، دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے'۔

سب جانتے ہیں کہ شہیدِ اعظم بھگت سنگھ پر جو بھی فلمی کھیل بنتا ہے اس میں یہ نظم ضرور ڈالی جاتی ہے۔ لیکن رواں سال پاکستان کی نوجوان نسل نے نسل در نسل چلی آنے والی اس نظم کو ایک نئی زندگی دی۔

کچھ سرپھرے نوجوانوں نے اس نظم کو فیض میلے میں نعرے کے طور پر گایا۔

یہ بھی پڑھیے

’شکل اور حلیے پر نہ جائیں، ہمارا کوئی مقصد بھی ہے‘

مزاحمت کی علامت بن جانے والی خاتون

اس مجمع میں سب سے پرجوش اور بلند آواز عروج اورنگزیب کی تھی۔ اس وقت سے عروج اورنگزیب کم از کم سوشل میڈیا کی حد تک نئی نسل کے لیے جوش و خروش کی علامت بن گئی ہیں۔

کوئی بھی ملک میں جو ایک طویل عرصے سے حقیقی تبدیلی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے وہاں اگر کوئی خاتون سٹار بن کر ابھرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تبدیلی کی بھوک کتنی گہری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@ShirazHassan

جیسے یمن میں جب سنہ 2011 میں بہار عرب کی لہر آئی تو علی عبداللہ صالح کی آمریت کو چیلنج کرنے والوں توکل کرمان پیش پیش تھیں۔

توکل کرمان کو رواں سال نوبل انعام سے بھی نوازا گیا ہے۔

انڈیا کی معروف یونیورسٹی جے این یو میں جب تین سال قبل حکومت کی مداخلت کے خلاف مظاہرے ہوئے اس وقت پاکستانی طلبا میں دو مقبول نام کنہیا کمار اور شہلا رشید کے تھے۔

دسمبر سنہ 2017 میں حجاب پر حکومتی جبر کے خلاف مظاہروں میں وداع موحد کی تصویر سب سے زیادہ وائرل ہوئی۔

Image caption وداع موحد نے اپنے سکارف کو اس طرح پرچم کے طور پر لہرایا تھا

وداع نے تہران میں ایک اونچی جگہ چڑھ کر اور اپنے سفید سکارف کو پرچم کی طرح لہرایا۔ وہ گرفتار بھی ہوئیں لیکن ان کی تصویر نے باقی ایرانی خواتین کو متاثر کیا۔

گذشتہ اپریل میں سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں فوج کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے کئی دنوں تک جس نوجوان بھیڑ نے مظاہرہ کیا اس دھرنے کو سفید لباس میں ملبوس ایک 22 سالہ لڑکی آلاء صلاح لیڈ کر رہی تھی۔

بیروت میں بدعنوان حکومت اور سیاست کے خلاف گذشتہ دو ماہ سے جو تحریک جاری ہے اس میں بھی خواتین سب سے آگے ہیں۔

Image caption سوڈان میں طلبہ کے دھرنے کی قیادت ایک 22 سالہ لڑکی نے کی

ان میں سے ایک خاتون جنھوں نے وزیر کے باڈی گارڈ کو کک ماری اس کا ذکر تو آج تک ہو رہا ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی وکیل عاصمہ جہانگیر کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ 'پاکستان کا سب سے زیادہ دلیر مرد' تھیں۔

دو سال قبل ان کی موت کے بعد کچھ عرصے سےایک کمی محسوس ہو رہی تھی۔ لیکن اب عروج اورنگزیب، جلیلہ حیدر گریٹا تھنبرگ جیسی لڑکیوں کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ جو تبدیلی ہماری نسل نہ لا سکی شاید اکیسویں صدی میں یہ لڑکے لڑکیاں لے آئيں اور ہم انھیں کامیاب دیکھ کر تھوڑا سا خوش ہو لیں اور اپنی ناکامی بھول سکیں، تھوڑی ہی دیر کے لیے سہی!

اسی بارے میں