بلوچستان میں عسکریت پسندی: ’وہ خواتین دہشت گردوں کی سہولت کار بن چکی تھیں‘

آواران تصویر کے کاپی رائٹ Awaran Press Club
Image caption یہ پہلی بار ہے کہ گرفتار خواتین کی اسلحہ سمیت تصاویر جاری کی گئی ہیں

پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں چار بلوچ خواتین کو گرفتار کرنے کے معاملے پر بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو کا کہنا ہے کہ ملک کی پانچ خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ کی روشنی میں آواران سے ان خواتین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’وہ خواتین دہشت گردوں کی سہولت کار بن چکی تھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان خواتین کو عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے اب عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی صوبائی حکومت کو قبول ہوگا۔ انھوں نے واضح کیا کہ خواتین پر تشدد یا حبس بے جا میں رکھنے کے الزام من گھڑت ہیں۔

یاد رہے کہ تین دسمبر کو بلوچستان کے ضلع خضدار میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے گرفتار چار بلوچ خواتین کو جیل بھیج دیا تھا۔ اور ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق آواران کے مقامی افراد کی شکایات اور نشاندہی پر پولیس اور لیویز نے مشترکہ کارروائی کر کے ان خواتین کو گرفتار کیا تھا۔ گرفتار خواتین سے دستی بم، تین پستول اور گولیاں برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

پولیس نے ان خواتین پر مبینہ طور پر کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ اور بلوچ لبریشن آرمی کی سہولت کاری کا الزام عائد کیا تھا اور ان کا تعلق بلوچ لبریشن فرنٹ سے ظاہر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچ مزاحمت کار آخر چین کے مخالف کیوں؟

بلوچ عسکریت پسندوں کو ہنر مند بنانے کا فیصلہ

افغانستان میں پناہ گزین بلوچ مہاجرین کا کیا بنے گا؟

دوسری جانب منگل کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن آغا حسن بلوچ نے آواران سے چار خواتین کو گرفتار کرنے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو ماورائے عدالت اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی ان باعزت خواتین پر جھوٹے مقدمات بنانے کے بعد لاپتہ کرنا انسانی حقوق اور بلوچ روایات کی پامالی ہے۔'

انھوں نے قومی اسمبلی میں احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے اپنی نشستوں سے اٹھ کر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے ڈائس کے سامنے زمین پر بیٹھنے کا اعلان بھی کیا۔

انھوں نے بلوچستان میں حالیہ شورش کا ذمہ دار سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے صوبے میں طاقت کے استعمال کا سہارا لیکر حالات کو اس نہج تک پہنچایا ہے۔

اس سے قبل یکم دسمبر کو بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزنشن نے دعویٰ کیا تھا کہ ان خواتین کو ان کے گھروں سے حراست میں لیا گیا اور 24 گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد انھیں لیویز کے حوالے کیا گیا۔

تنظیم کی چیئرپرسن بی بی گل نے یکم دسمبر کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بلوچستان کے پسماندہ ترین علاقے آواران کے علاقے ماشی سے سکیورٹی فورسز نے 'چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ایک خاتون کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کر دیا، اسی طرح ایک بزرگ خاتون کو بھی حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا جبکہ اس سے قبل ان کے بیٹوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔'

بی بی گل کا کہنا تھا کہ یکم دسمبر کی صبح سکیورٹی فورسز نے پیر اندر کے مقام سے دو خواتین کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا۔ ان میں سے ایک خاتون کو اس سے قبل بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم تفتیش کے بعد چھوڑ دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق آواران کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی نے تین دسمبر کو ان خواتین کو مقامی عدالت میں پیش کیا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے پاس خواتین کے لیے مختص تھانہ یا لاک اپ نہیں، اس لیے خواتین کو جیل میں ہی رکھا جائے تاکہ پولیس ان سے تفتیش مکمل کر سکے۔

عدالت نے یہ درخواست قبول کرتے ہوئے خواتین کو خضدار جیل بھیج دیا ہے۔

اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر اور فیس بک پر ان خواتین کی مبینہ گمشدگی پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ تنقید کرنے والوں میں رکن قومی اسمبلی علی وزیر بھی شامل تھے۔

یاد رہے کہ پسماندہ علاقے آوران میں سکیورٹی فورسز کا گذشتہ ایک دہائی سے آپریشن جاری ہے، یہ علاقہ کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر کا آبائی علاقہ ہے۔

اس سے قبل ان کی بیگم کو حراست میں لینے کی خبر آئی تھی تاہم سابق وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری نے بلوچ روایت کے تحت رہائی کا حکم دیا تھا۔

بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے رکن ثنا اللہ بلوچ نے بھی ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان خواتین کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ گرفتار خواتین کی اسلحہ سمیت تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔

اسی بارے میں