پی ٹی آئی کے رہنما حامد خان کا شوکاز نوٹس کا جواب: ’تحریک انصاف کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گا‘

حامد خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حامد خان

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور جماعت کے بانی رکن حامد خان نے پارٹی کی جانب سے ان کی رکنیت معطل کیے جانے کے شوکاز نوٹس کے جواب میں کہا ہے کہ وہ اس جماعت کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے کیونکہ اس جماعت کے لیے اُنھوں نے دن رات کام کیا ہے۔

واضح رہے کہ تین روز قبل حکمراں جماعت کے سیکرٹری جنرل نے اس بنیاد پر حامد خان کی پارٹی کی رکنیت معطل کر دی تھی کہ اُنھوں نے مبینہ طور پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بیانات کے ذریعے پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ اس شوکاز نوٹس میں حامد خان کو سات روز میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کے بارے میں کہا گیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق حامد خان نے اس شوکاز نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اُنھوں نے جماعت کے ان نظریاتی کارکنوں کے لیے آواز اُٹھائی ہے جنہیں مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔

9 صفحات پر مشتمل اپنے جواب میں حامد خان نے کہا ہے کہ ’مفاد پرست، زمینوں پر قبضے کرنے والے شوگر مافیا اور دیگر کرپٹ مافیا مجھے پارٹی سے زبردستی باہر نہیں نکال سکتے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ اپنی پارٹی کی رکنیت بچانے کے لیے قانون کے دائر ے میں رہتے ہوئے جو کچھ بھی ہوسکا وہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

’جمہوری نظام چلانا ہے تو یہ کڑوی گولی نگلنی پڑے گی‘

کیا نواز شریف کی روانگی سے پی ٹی آئی کا ووٹر مایوس ہے؟

پارلیمنٹ کا این آر او!

حامد خان کی پی ٹی آئی کی نمائندگی سے معذرت

حامد خان کا کہنا تھا کہ ان پر ’ناقابل فہم اور غیر واضح الزامات‘ عائد کیے گئے ہیں اور اس کی تفصیلات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ انھیں بھی پارٹی کی رکنیت معطل کرنے کے بارے میں معلومات میڈیا کے ذریعے ہی موصول ہوئی ہیں۔

پی ٹی آئی کے معطل شدہ رکن نے جماعت کے سیکرٹری جنرل عامر محمود کیانی کو 'نام نہاد سیکرٹری جنرل' قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ارشد داد کو جنرل سیکرٹری کے عہدے سے ہٹا کر اُنھیں سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا۔ تاہم اُنھوں نے کہا کہ پارٹی کے سینیئر رکن ہونے کے ناطے ’آپ کو (عامر کیانی) سیکرٹری جنرل بنائے جانے پر کوئی اعتراض نہیں‘۔

حامد خان نے شو کاز نوٹس کا جواب دیتے ہوئے سیکرٹری جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یہ جان کر افسوس ہوا کہ عامر کیانی پر بدعنوانی کے الزامات اس وقت لگائے گئے جب وہ وزیر صحت تھے۔

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل حامد خان نے عامر کیانی کو مشورہ دیا کہ وہ پہلے وزیر کی حیثیت سے لگنے والے بدعنوانی کے الزامات کو غلط ثابت کریں لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ایسی صورت میں وہ پارٹی کے اس اہم عہدے پر رہنے کے اہل نہیں رہیں گے۔

حامد خان نے اپنے شوکاز نوٹس میں حکومت کے حالیہ اقدامات کا تمسخر اڑاتے ہوئے اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کا قانونی عملہ آرمی چیف کی تقرری کا صحیح ڈرافٹ تیار نہ کر سکے جس کی نشاندہی سپریم کورٹ نے بھی کی، تو پھر ایسے حالات میں اُنھیں شوکاز نوٹس صحیح طریقے سے جاری نہ کرنے پر وہ عامر کیانی کو بالکل بھی ذمے دار قرار نہیں دیتے۔

فیصلہ عمران خان کی جانب سے کیا گیا

حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما اور سپریم کورٹ کے وکیل حامد خان کی اتوار کے روز پارٹی کی بنیادی رکنیت معطل کر دی گئی تھی۔

نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ رویہ دستخط کنندہ اور پارٹی چیئرمین عمران خان نے نوٹ کیا ہے۔

بی بی سی کو دستیاب نوٹیفیکیشن کی کاپی میں حامد خان سے کہا گیا تھا کہ وہ سات روز کے اندر تحریری طور پر جواب داخل کروائیں کہ پارٹی آئین کے تحت ان کی رکنیت کیوں ختم نہیں کی جانی چاہیے، جبکہ اس دوران ان کی بنیادی رکنیت معطل رہے گی۔

نوٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ بار بار اپنے پوشیدہ مقاصد کی خاطر پارٹی کے معاملات کو میڈیا میں لے کر آئے جو کہ پارٹی مفاد کے خلاف ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ مندرجہ بالا کام پارٹی ڈسپلن اور پارٹی آئین کی خلاف ورزی ہیں اور ان کے اس رویے سے پارٹی کے ارکان اور کارکنان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ پیر 18 نومبر کو حامد خان نے پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل سما ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی میں شامل ہونے والی کئی سیاسی شخصیات اور اس میں پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مبینہ کردار کے حوالے سے سخت مؤقف اپنایا تھا۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کے اس بیان کی تائید کی تھی کہ انٹرسروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے کئی رہنماؤں کو پی ٹی آئی میں شامل کروایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

اس بیان پر پروگرام کے دوران تبصرہ کرتے ہوئے حامد خان کا کہنا تھا کہ ’چوہدری پرویز الٰہی وہ حقیقت منظرِ عام پر لائے ہیں جس کا لوگوں کو پہلے ہی کافی حد تک ادراک تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن میں پی ٹی آئی کا بانی رکن ہوتے ہوئے یہ کہوں گا کہ اس وجہ سے پارٹی کو بہت نقصان پہنچا، جس قسم کے لوگ وہاں سے لے کر ہماری پارٹی میں بھیجے گئے، ان لوگوں نے اس پارٹی کی بنیادی روح کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔‘

حامد خان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج جس شکل میں پارٹی (پی ٹی آئی) ہے وہ اس شکل میں نہیں ہے جس کا ہم نے تصور دیکھا تھا، جس میں ہمارے بہت اچھے مقاصد تھے، جس میں انتخابی اصلاحات، زرعی اصلاحات شامل ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انھوں نے کسی کا نام لیے بغیر چند سیاسی شخصیات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ان لوگوں نے جو ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کے لوگ تھے، ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری میں جاتے رہتے تھے، پی ٹی آئی میں اس قسم کے موقع پرست لوگ شامل کر کے اس کا چہرہ مسخ کیا۔‘

انھوں نے کہا مزید کہا تھا کہ ’یہ فوجی اسٹیبلشمنٹ یا آئی ایس آئی کے کسی اہلکار کا یہ کام نہیں کہ وہ پارٹیوں کے معاملات میں مداخلت کریں، کسی پارٹی سے نکال کر دوسری پارٹی میں شامل کریں، یا پارٹیوں میں لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کریں۔‘

حامد خان کون ہیں؟

صحافی عباد الحق کے مطابق حامد خان ہمیشہ سے ہی جمہوریت پسند خیالات کے مالک تھے اور زمانہ طالب علمی سے ہی صدر ایوب خان کے خلاف احتجاج میں بھی شامل رہے۔حامد خان نے وکالت میں آنے کے بعد وکلا کی سیاست میں بھی قدم رکھا اور 1978 میں ضیا الحق دور میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری منتخب ہوئے۔بعد میں وہ پنجاب بار کونسل کے رکن اور پھر اسی تنظیم کے وائس چیئرمین بھی بنے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

سنہ 1992 میں حامد خان لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے اور 2001 میں مشرف کے دور میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے طور پر چنے گئے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے حامد خان ایل ایف او کے خلاف تحریک میں پیش پیش رہے اور اسی پاداش میں ان سے سپریم کورٹ کے سینیئر ایڈووکیٹ کا عہدہ واپس لیا گیا۔ حامد خان پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔2007 کی وکلا تحریک میں بھی حامد خان کا اہم کردار رہا اور وکلا سیاست کے بعد حامد خان ملکی سیاست میں بھی سرگرم ہوئے۔ وہ تحریک انصاف کے ابتدائی دنوں میں ہی جماعت میں شامل ہوگئے تھے اور انھوں نے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین کے طور پر فائض بھی سر انجام دیے۔2013 میں حامد خان نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے سے انتخاب لڑا لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ حامد خان کے انتخابی حلقہ ان چار حلقوں میں شامل تھا جن کے نتائج کو ’ری اوپن‘ کرنے کا مطالبہ عمران خان کی جانب سے سامنے آیا تھا۔

اسی بارے میں