ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور: ’کشمیر کی حمایت میں اظہار خیال پر پاکستانی ٹوئٹر صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے‘

آصف غفور تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستانی صارفین کو ٹوئٹر پر مشکلات کا سامنا ہے جس میں ایک بڑی وجہ کشمیر کی حمایت میں اظہار خیال ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے یہ بات منگل کی شب اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ کے ذریعے کہی۔

انھوں نے لکھا کہ ’پاکستانی صارفین کو ٹوئٹر پر کشمیر کی حمایت میں اظہار خیال کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کبھی ایک بہانے سے یا دوسرے بہانے سے ان کے اکاؤنٹس معطل کیا جا رہا ہیں۔ حکام اس سلسلے میں رابطے میں ہیں اور جلد یہ مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس میں ملوث افراد کو شکست دینے کے لیے ذمہ دار صارفین کی حیثیت سے ثابت قدم رہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ @peaceforchange
Image caption پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کے ذاتی ٹویٹر اکاونٹ سے کی جانے والی ٹویٹ

یہ بھی پڑھیے

ڈیم فنڈ کا چندہ اور جعلی اکاؤنٹس کی چاندی

پاکستانی ٹوئٹر پر ’سنتھیا‘ کا نام کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے؟

وہ رات جب ڈالر گوگل پر 76 روپے کا ہو گیا

میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے ٹویٹ کے فوراً بعد پاکستانی ٹوئٹر صارفین کی جانب سے بڑے پیمانے پر ردعمل سامنے آیا۔

آرش بنگش نامی ایک ٹوئٹر صارف نے میجر جنرل آصف غفور کی ٹویٹ کے جواب میں ٹوئٹر کے جانب سے معطل کیے جانے والے دو اکاؤنٹس کی تصاویر لگا کر لکھا کہ ’سر میرے دو اکاؤنٹس معطل ہو گئے۔ اور ٹوئٹر ویریفکیشن کوڈ بھی نہیں بھیج رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ @EngrThoughts10

جبکہ ثنا احمر نامی ٹوئٹر صارف نے تجویز دیتے ہوئے لکھا کہ ’اس حوالے سے قانون بنایا جائے جس کے تحت ٹوئٹر کو پابند کیا جائے کہ بنا تنبیہ کیے اور بات سنے وہ کسی پاکستانی صارف کے اکاؤنٹ کو معطل نہیں کر سکتے اور ایک معاہدہ کیا جائے کہ اگر ٹوئٹر بنا اطلاع دیے کوئی اکاؤنٹ معطل کرے تو جرمانہ عائد کیا جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ @SanaAhmer786

ٹوئٹر کی جانب سے پاکستان میں حالیہ دنوں میں ایسے کئی اکاؤنٹس کو معطل کیا گیا ہے جن کو مبینہ طور پر ٹوئٹر پر مختلف ہیش ٹیگ شروع کرنے یا مہم چلانے سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ اس کی تازہ مثال فرحان وِرک نامی ٹوئٹر صارف ہیں۔

یاد رہے کہ دو دسمبر کو پاکستان میں ٹوئٹر پر RestoreFarhanKVirk# ٹاپ ٹرینڈ کر رہا تھا۔

فرحان ورک پاکستان میں سوشل میڈیا پر کافی سرگرم رہتے ہیں اور اکثر تنازعوں کی زد میں بھی رہے ہیں۔

ہوا کچھ یوں تھا کہ ڈاکٹر فرحان ورک کا اکاؤنٹ دو دسمبر کو ٹوئٹر نے ’قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر‘ معطل کر دیا تھا۔

اس کی ممکنہ وجوہات کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرحان ورک نے بی بی سی کی سارہ عتیق کو بتایا کہ ’یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ میرا اکاؤنٹ ٹوئٹر کی جانب سے معطل کیا گیا ہو، اس سے پہلے بھی تین بار میرا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل کیا جا چکا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@FarhanKVirk
Image caption ڈاکٹر فرحان ورک کا اکاؤنٹ دو دسمبر کو ٹوئٹر نے 'قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر' معطل کر دیا تھا

فرحان ورک کا یہ بھی کہنا تھا ’میرے خیال میں ہر بار کی طرح اس بار بھی ٹوئٹر نے انڈین ٹوئٹر صارفین کی جانب سے زیادہ تعداد میں رپورٹ کیے جانے کی وجہ سے میرا اکاؤنٹ معطل کیا ہو گا۔‘

ٹوئٹر پر FarhanKVirk@ کے اکاؤنٹ کے تقریباً دو لاکھ سات ہزار کے قریب فالورز تھے۔ جب اس اکاؤنٹ کو کھولیں تو اس پر یہ پیغام آویزاں ہے کہ ’یہ اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا ہے اور ٹوئٹر اپنے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے اکاؤنٹس کو معطل کردیتا ہے۔‘

فرحان ورک کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر کی جانب سے انھیں پہلے خبردار نہیں کیا گیا لیکن اب انھیں ٹوئٹر کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی ہے جس میں ٹوئٹر کے قواعد کی مسلسل خلاف ورزی کرنے کی بنا پر ان کے اکاؤنٹ کو مستقلاً معطل کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔

فرحان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اکاؤنٹ معطلی کے خلاف ٹوئٹر پر اپیل کر دی ہے اور اگر ٹوئٹر ان کی ’اپیل کا نوٹس لے لیتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ وہ سوشل میڈیا سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Farhan Virk

فرحان ورک کا مزید کہنا تھا کہ انھیں نہیں لگتا کہ ان کے اکاؤنٹ کی معطلی کا تعلق دو دسمبر کو پاکستانی انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والی اس خبر سے ہے جس میں انھیں ’ہیش ٹیگ کا سوداگر‘ کا لقب دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’فرحان ورک اور ان کی ٹیم پاکستانی ٹوئٹر پر مصنوعی طور پر مختلف ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرواتے ہیں‘۔

انھوں نے اس الزام کی تردید نہیں کی اور کہا کہ ’ایک منظم مہم کے تحت کسی ہیش ٹیگ کو ٹرینڈ کروانا ٹوئٹر قواعد کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ اور یہ صرف پاکستان میں نہیں ہوتا بلکہ جنوبی کوریا کے میوزیکل بینڈ بی ٹی ایس کے مداح ہر روز ہی بینڈ سے متعلق ہیش ٹیگ دنیا بھر میں ٹرینڈ کرواتے ہیں۔‘

لیکن جب ان سے سوال کیا گیا کہ بی ٹی ایس کے مداحوں کے برعکس ان کے زیادہ تر ٹرینڈز صحافیوں یا میڈیا ہاؤسز کے خلاف اور انھیں ملک دشمن قرار دینے سے متعلق ہوتے ہیں یا شخصیات کی کردار کشی پر مبنی ہوتے ہیں تو فرحان ورک کا کہنا تھا کہ ’کسی پر تنقید کرنا بھی ٹوئٹر قواعد کی خلاف ورزی نہیں ہے‘ اور یہ کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کسی شخص یا گروپ کا بیانیہ ملک کے خلاف ہے تو یہ ان کی رائے ہے جس کے اظہار کا ان کو پورا حق ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ٹوئٹر کی جانب سے فرحان ورک کا اکاؤنٹ معطل کرنے کے کچھ دیر بعد ہی RestoreFarhanKVirk# کے ساتھ متعدد ٹویٹس سامنے آنا شروع ہوگئی تھیں اور یہ ہیش ٹیگ ٹوئٹر کے ٹاپ ٹرینڈز میں آ گیا تھا۔ اس ہیش ٹیگ کے ذریعے ٹوئٹر سے فرحان ورک کا اکاؤنٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں