اسلام آباد میں ڈان اخبار کے خلاف ایک بار پھر احتجاج، اخبار کی کاپیاں نذرِ آتش

ڈان اخبار
Image caption یہ رواں ہفتے کے دوران دوسرا موقع ہے کہ ڈان اخبار کے خلاف کوئی مظاہرہ کیا گیا ہے

اسلام آباد میں پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان کے دفتر کے باہر درجنوں افراد نے جمعے کو ایک مرتبہ پھر مظاہرہ کیا ہے۔

اخبار کے عملے کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ افراد اخبار اور اس کی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔

ان مظاہرین نے بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر ڈان اخبار کے خلاف نعرے درج تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشتعل افراد نے نہ صرف اخبار کی کاپیاں نذرِ آتش کیں بلکہ علامتی پتلے بھی جلائے۔

یہ رواں ہفتے کے دوران دوسرا موقع ہے کہ ڈان اخبار کے خلاف کوئی مظاہرہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لندن برج حملہ: ’عثمان انگلینڈ چھوڑ کر واپس آنا چاہتا تھا‘

لندن برج حملہ: جیک میرٹ میں ’زندگی جینے کی تمنا‘ تھی

اخبار کے مدیر ظفر عباس نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا ’ڈان اخبار کے اسلام آباد دفتر کے باہر منصوبہ بندی سے کیا گیا ایک اور مظاہرہ جاری ہے۔ وہی لوگ، دھمکی دینے والا انداز،تعداد میں زیادہ لوگ اور داخلی راستے کو بلاک کر دیا۔ ہم نے پولیس کو اطلاع دے دی ہے اور انھیں بتا دیا ہے کہ ہمارے سٹاف اور پراپرٹی کی حفاظت کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ امید کرتے ہیں کہ حکومت میں سے کوئی اس میں مداخلت کرے گا۔‘

انھوں نے مزید لکھا ’ وہ ڈان اخبار کی کچھ کاپیاں نذر آتش کرنے کے بعد غائب ہو گئے۔ ہر کسی کو احتجاج کا حق ہے اس وقت تک جب تک وہ پرتشدد نہ ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@abbasz55

اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل قرار نے اس بارے میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ’گذشہ دنوں بھی جب ڈان کے سامنے اس نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا تو اس کی مذمت کی گئی تھی اور حالیہ واقعے کی بھی صحافی برادری مذمت کرتی ہے۔‘

'آج ہم پھر وہی مطالبہ دہرائیں گے کہ حکومت میڈیا اور اس کے دفاتر کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ جب گذشتہ ہفتے اس طرح کا واقعہ ہوا تھا تو مقامی پولیس کی چند اہلکار بھیج دیے گئے تھے اور اس مرتبہ بھی حکومتی اقدامات صرف چند پولیس اہلکاروں کو بھیجنے تک ہی محدود ہیں۔‘

پریس کلب کے صدر کا کہنا تھا ’گذشتہ مظاہرے کی نسبت اس دفعہ مظاہرین کی تعداد زیادہ تھی جس کی وجہ سے ڈان میں کام کرنے والے ملازمین عدم تحفظ کا شکار ہوئے ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ مظاہرین کی شناخت کے حوالے سے کچھ جانتے ہیں تو شکیل قرار کا کہنا تھا ’وہ نامعلوم افراد تھے۔‘

Image caption جمعرات کو اسلام آباد میں ڈان اخبار سے یکجہتی کے لیے بھی مظاہرہ کیا گیا

’یہ نہ تو یہ کسی تنظیم کے ہیں، نہ کسی این جی او کے اور نہ ہی ان کی شناخت سے متعلق ان کے بینرز اور پلے کارڈز پر کچھ لکھا ہے۔ نامعلوم افراد ہیں جس کا مطلب نامعلوم ہی ہے۔‘

خیال رہے کہ ڈان اخبار کو برطانوی دارالحکومت لندن میں حال ہی میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعے کے مجرم عثمان خان کو اپنی سرخی میں پاکستانی نژاد لکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عثمان خان کے والدین کا تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے کوٹلی سے ہے اور عثمان کی لاش برطانیہ سے پاکستان لانے کے بعد انھیں جمعے کو کوٹلی میں ہی سپردِ خاک بھی کیا گیا ہے۔

ڈان کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ دو دسمبر کو شروع ہوا تھا جب اسلام آباد میں ہی دسیوں افراد ڈان کے دفتر کے باہر جمع ہوئے تھے جہاں انھوں نے املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔

یہ لوگ اخبار کی انتظامیہ اور اخبار کے خلاف اور پاکستانی فوج اور اس کے خفیہ ادارے کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔

اس کے بعد کراچی میں بھی اخبار کے خلاف ریلی نکالی گئی جس میں شامل افراد نے اخبار کے انتظامیہ کے خلاف بینر اٹھا رکھے تھے۔

ڈان کے دفتر کے گھیراؤ کے خلاف جمعرات کو پاکستان میں ڈان کے دفاتر کے باہر صحافی برادری کی جانب سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا گیا تھا جس میں مختلف صحافتی تنظیموں کے نمائندوں اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی تھی۔

بحث جو وزرا سے شروع ہوئی

برطانیہ میں لندن برج حملے میں ملوث شخص عثمان خان کی شہریت بطور پاکستانی نژاد برطانوی سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی تھی۔

یہ بحث اس وقت چِھڑی جب پاکستان کے وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے ڈان کی اس خبر سے متعلق ہیڈ لائن کو ٹوئٹر پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

فواد چوہدری کا اپنی ٹویٹ میں کہنا تھا کہ ’ڈان برائے مہربانی اس قوم پر کچھ ترس کھائیں۔ ۔‘

’میں برطانوی دہشتگردوں کو پاکستان سے جوڑنے کی آپ (ڈان) کی گھٹیا کوششوں پر حیران ہوں۔ انور العولاقی اور انجم چودھری دونوں برطانوی شہری ہیں اور ان کا کشمیر یا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ برطانیہ کو اپنے اندرونی مسائل سے خود نمٹنا چاہیے۔ یہ غیرذمہ دارانہ اور گھٹیا رویہ ہے

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی اپنے ساتھی وزیر سے اتفاق کرتے ہوئے ٹویٹ کیا اور کہا کہ ’ڈان کا اپنا ایجنڈا‘ ہے۔

اپنی ٹویٹ میں فواد چوہدری نے ایک اور پاکستانی انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ کی لندن برج حملے سے متعلق خبر کی طرف دھیان دلاتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں مقیم رپورٹر مرتضیٰ علی شاہ نے اس شخص (عثمان خان) کی زندگی کی تفصیلات فراہم کی ہیں جس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ برطانیہ میں پیدا ہوا۔

ماضی میں ڈان اخبار پر آنے والے دباؤ

ڈان اخبار پاکستان کے قیام سے قبل نئی دہلی سے شائع ہونا شروع ہوا تھا مگر پاکستان بننے کے بعد سے اس کا صدر دفتر کراچی منتقل ہو گیا۔

پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے ہاتھ سے قائم ہونے والا اخبار پاکستان میں اپنی نڈر صحافت اور ترقی پسند خیالات کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ کئی دہائیوں سے حکومتی اور سیاسی دباؤ کے باوجود ڈان اخبار نے اپنی صحافتی اقدار کو برقرار رکھا جس کے نتیجے میں انھیں کافی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

تین سال قبل ڈان اخبار سے منسلک سابق کالم نویس سرل المیڈا نے ایک خبر لکھی جو ’ڈان لیکس‘ کے نام سے مشہور ہوئی اور اس کے بعد سے اخبار پر مسلسل دباؤ کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ اس دوران بھی ڈان اخبار کی ترسیل متاثر ہوئی اور خبروں کے مطابق مختلف شہروں میں لوگوں نے شکایات کیں کہ انھیں اخبار ترسیل نہیں ہو رہا۔

چند روز قبل ڈان اخبار کے اسلام آباد کے دفتر کے باہر ہونے والے مظاہرے اور کراچی میں پریس کلب کے باہر اخبار مخالف مظاہروں کے بعد سوشل میڈیا پر چند خبریں گردش میں ہیں کہ کراچی میں فوج کے زیر انتظام ہاؤسنگ سوسائٹی میں اخبار کی ترسیل پر پابندی لگ گئی ہے۔

واضح رہے کہ ڈان اخبار کے سابق اسسٹنٹ ایڈیٹر سرل المیڈا کو اس سال جون میں انٹرنیشنل پریس انسٹٹیوٹ کی جانب سے ورلڈ پریس فریڈم ہیرو ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ اخبار کے مدیر ظفر عباس کو نومبر میں صحافیوں کے حقوق کی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے ان کی خدمات کے عوض سال 2019 کے گوئن آئیفل پریس فریڈم ایوارڈ سے نوازا۔

ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ظفر عباس نے کہا کہ انھوں نے اپنے کرئیر کے 40 برس صرف اور صرف حقائق بتانے کے خاطر صرف کیے ہیں۔ انھوں نے کہا ’جھک جانا صحافت نہیں ہے، سچ بتانا ہے۔‘

اسی بارے میں