#DuaMangi: کراچی سے دعا منگی کے اغوا کے معاملے میں سوشل میڈیا سہارا ہے یا دشمن؟

دعا منگی تصویر کے کاپی رائٹ Laila Mangi
Image caption دعا منگی کو 30 نومبر کی شام اغوا کیا گیا

اغوا کے معاملات سے نمٹنے والے حکام کے مطابق کسی بھی فرد کے اغوا کے بعد اس کی بازیابی کے لیے ابتدائی 24 سے 48 گھنٹوں کا وقت انتہائی اہم ہوتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر اس سلسلے میں کی جانے والی اپیلوں پر موضوع بحث مغوی کا حلیہ یا شکل بن جائے تو بازیابی کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔ کراچی کے متمول علاقے ڈیفینس سے 30 نومبر کو اغوا کی جانے والی دعا منگی کے معاملے میں بھی ایسا کچھ ہی ہوا۔

ان کی بازیابی کی کوششوں کے سلسلے میں ان کے بہن نے دعا کی تصویر کے ساتھ ان کے بارے میں اطلاع دینے کی اپیل کیا کی، پاکستان کے سوشل میڈیا پر عجیب بحث چھڑ گئی۔

دعا منگی کا اغوا کیسے ہوا؟

پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ ساحل سمندر کے قریب درخشاں تھانے کی حدود میں پیش آیا جہاں متعدد چائے خانے اور ریستوران ہیں اور شام کو شہر بھر سے نوجوان یہاں جمع ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اغوا ہونے والی لڑکی 18 سال بعد مل گئی

عراق: بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والی خاتون صحافی اغوا

درخشاں پولیس کے مطابق سنیچر کی شب آٹھ بجے کے قریب خیابان بخاری میں چائے کے ڈھابے کے قریب دعا منگی اپنے دوست حارث سومرو کے ساتھ واک کر رہی تھیں جب چار سے پانچ افراد نے انھیں زبردستی پکڑ کر گرے رنگ کی گاڑی میں بٹھایا اور مزاحمت کرنے پر حارث کو گولی مار کر زخمی کر دیا۔

پولیس نے زخمی حارث کے والد عبدالفتح سومرو کے مدعیت میں اقدام قتل اور اغوا کے الزامات میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

دعا کے اغوا کو 40 گھنٹوں سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے تاہم ابھی تک ان کے بارے میں کوئی خبر سامنے نہیں آ سکی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے۔

ذاتی رنجش یا اغوا برائے تاوان

کلفٹن پولیس نے جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے۔ ایس ایس پی شیراز مہر کے مطابق دعا اور ان کے دوست حارث سومرو کے ٹیلیفون کی جیو فینسنگ بھی کی جا رہی ہے۔

دعا منگی سندھ کے نامور کالم نگار اور شاعر اعجاز منگی کی بھانجی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’خیابان بخاری پر شہر کے اے لیول کے بچے جمع ہوتے ہیں جہاں چائے اور پراٹھے پر گپ شپ کی جاتی ہے۔ دعا اپنی بڑی بہن کے ساتھ وہاں جاتی رہی ہیں، واقعے والے روز بھی وہ بہن کے ساتھ گئی تھیں لیکن بڑی بہن جلدی آ گئی۔ دعا نے کہا کہ وہ بعد میں آئے گی، ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد، پھر دعا کی دوست کا ٹیلیفون آیا کہ اس کو اغوا کر لیا گیا ہے‘۔

ان کے مطابق 'اس وقت جس قسم کے شواہد مل رہے ہیں اس سے ہمیں یہی لگتا ہے کہ یہ اغوا برائے تاوان کا واقعہ ہے، پہلے ہمیں شبہ تھا کہ یہ ذاتی رنجش کا نتیجہ ہے لیکن ابھی ہم حتمی طور پر نہیں کہہ سکتے۔'

’دعا کے ساتھ انسانی اقدار بھی لاپتہ‘

دعا منگی کے اغوا کے بعد یہ معاملہ ٹوئٹر پر ٹرینڈ بن گیا جبکہ ان کی بہن لیلیٰ منگی نے فیس بُک کا سہارا لیا اور بتایا کہ ان کی بہن کو اغوا کیا گیا ہے۔

یہی نہیں بلکہ خود کو دعا کا کزن بتانے والے راہول منگی نامی شخص نے بھی اس بارے میں ٹوئٹس کیں اور دعا کے بارے میں اطلاع دینے کے لیے اپیل کی۔

جبران ناصر سمیت متعدد سماجی کارکنان کی جانب سے اس بارے میں ٹویٹس شیئر کیے جانے کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا کے کچھ صارفین بھی اس پر تبصرے اور بیان بازی کرنے لگے لیکن ان تبصروں کا مقصد دعا کی بازیابی کی کوششوں میں مدد کرنا نہیں بلکہ ان کی شخصیت کو نشانہ بنانا تھا۔

ان میں سے بعض نے دعا منگی کے لباس پر اعتراض کیا تو کسی نے رات کے وقت دوست کے ساتھ جانے پر تنقید کی اور کہا کہ ایسا تو ہونا ہی تھا۔

ایک ٹوئٹر صارف تابندہ حنیف نے کہا کہ ان کے خیال میں ڈرامہ سیریلز کا لوگوں کے رویوں پر بڑا اثر ہے اور ’رسوائی ڈرامہ دعا کے اغوا کی عکاسی کرتا ہے‘۔

تاہم ٹوئٹر پر ایسے افراد بھی اس بحث میں شامل ہوئے جنھوں نے دعا کے اغوا کے بعد خود دعا کو نشانہ بنانے والے افراد کو آڑے ہاتھوں لیا۔

ٹوئٹر صارف عریشہ بابر کا کہنا تھا کہ ’۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکی نے کیا پہنا ہوا تھا؟ رات کے چار بجے اگر میرے گھر میں کوئی مرد نہیں اور میں ایمرجنسی میں باہر نکلتی ہوں تو کیا مجھ بھی اغوا کیا جائے گا۔ ہمیں عورتوں کو تحفظ دینا چاہیے۔ گھات لگائے بیٹھے لوگوں کی صفائی پیش نہیں کرنی چاہیے‘۔

ایس ایس پی جنوبی شیراز احمد مہر کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا پر جب اس قسم کی بحث ہوتی ہے تو اس کا فائدہ ملزمان کو پہنچتا ہے اور وہ فرار ہوجاتے ہیں، جب بھی کوئی ہائی پروفائل کیس بنتا ہے تو اس پر سوشل میڈیا پر بحث کی جاتی ہے جس سے اجتناب برتنا چاہیے‘۔

اعجاز منگی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کیا، کمیونٹی میں بھی بعض لوگ ایسے ہیں۔ ’سوشل میڈیا پر بھی پرانے خیالات کے لوگ بیٹھے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ نام نہاد عزت اور نام نہاد سکیورٹی انسان کی آزادی اور شعور سے زیادہ ہے۔ آج کی نسل اس کو نہیں مانتی اور وہ اپنی زندگی خود جینا چاہتی ہے۔'

دعا کے بارے میں اعجاز منگی کا کہنا تھا کہ وہ وکالت کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور وہ ’پروگریسیو، فیمنسٹ اور انسانی حقوق کے پرچار کے خیالات رکھنے والی لڑکی ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سوشل میڈیا پر منفی ردِعمل کے خاندان اور تفتیش پر اثرات

اعصابی صحت کے حق میں آواز بلند کرنے والی ’دا کلر بلیو‘ نامی آرگنائزیشن کی سی ای او دانیکا کمال کا کہنا ہے کہ ’ایک خاندان جو اپنی گمشدہ بیٹی تلاش کر رہا ہے اور مسلسل اس قسم کے تبصرے پڑھ رہا ہے کہ اُن کی بیٹی کے ساتھ جو ہوا، وہ اسی کی مستحق تھی۔ یہ سب ذہنی اذیت کا باعث تو بنے گا ہی ساتھ ہی ساتھ معاشرہ انھیں قصوروار ٹھہرا رہا ہے جبکہ ان کی کوئی غلطی نہیں ہے‘۔

بی بی سی کی کومل فاروق سے بات کرتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ تبصرے تفتیش کا رخ بدل رہے ہیں۔ بات 'اغوا کس نے کیا ہے' سے ہٹ کر 'اغوا کیوں کیا گیا ہے' پر چلی گئی ہے اور اب اس واقعے کے لیے جواز ڈھونڈے جا رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں خاندانوں نے کیس واپس لے لیے کیونکہ اغوا کار کے بارے میں تفتیش کم اور 'غیر اسلامی' اور عورت کے کردار سے متعلق چیزوں پر زیادہ دھیان دیا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں