#DuaMangi: دعا منگی کی بازیابی کے لیے کراچی میں احتجاجی مظاہرے کی تصاویر

دعا منگی کی بازیابی کے لیے مظاہرہ

کراچی میں کلفٹن کے علاقے میں تین تلوار پر بدھ کی شب دعا منگی کی بازیابی کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں دعا منگی کے اہل خانہ، یوتھ ایکشن کمیٹی، سندھ تھنکرز فورم کے ساتھ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے شرکت کی۔

دعا منگی کی بہن لیلیٰ منگی

دعا منگی کی بہن لیلیٰ منگی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ دمے کی مریض ہیں۔ ’ابھی تک بہن کا کوئی پتہ نہیں چلا ہے، میں دعا کے لیے دعا کرتی رہی ہوں کہ وہ جلد واپس آجائے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا ’تین روز گزر چکے ہیں ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو رہا، سی سی ٹی وی کیمرے سے بھی کچھ ٹریس نہیں ہو رہا، وہاں ہم جاتے رہے ہیں۔ یہ پہلی بار ہوا کہ میری بہن کو اغوا کیا گیا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیے:دعا منگی اغوا کیس: سوشل میڈیا سہارا ہے یا رکاوٹ؟

دعا منگی کی بازیابی کے لیے مظاہرہ

دعا منگی کی خالہ نائیلہ منگی کا کہنا تھا کہ دعا منگی صرف منگی خاندان کی بیٹی نہیں پورے سندھ کی بیٹی ہے۔

مظاہرین نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ خواتین، خصوصاً نوجوان تعلیم یافتہ لڑکیوں کو تحفط دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔

دعا منگی کی بازیابی کے لیے مظاہرہ

تحریک انصاف کے رکن اسمبلی شہزاد قریشی کا کہنا تھا کہ ’ڈیفینس میں دعا کا اغوا افسوسناک واقعہ ہے، ڈی ایچ اے میں سکیورٹی کے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن وہاں بچیاں محفوظ نہیں۔ شہر میں جلد سیف سٹی منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے تاکہ شہری تحفظ کا احساس محسوس کریں۔‘

مظاہرین

مظاہرین کا کہنا تھا کہ تین روز گزرنے کے بعد بھی پولیس دعا منگی کا کوئی سراغ نہیں لگا سکی ہے۔

دعا منگی کی بازیابی کے لیے مظاہرہ

مظاہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس طرح کے واقعات سے لڑکیوں کے تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

۔

اسی بارے میں