پاکستان فوج کے زیر انتظام چلنے والے حراستی مراکز: ’کسی شخص کی غیر قانونی حراست کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا‘

خیبر پختونخوا میں لاپتہ افراد کے لواحقین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خیبر پختونخوا میں لاپتہ افراد کے لواحقین (فائل فوٹو)

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو صوبہ خیبر پختونخوا میں فوج کے زیر انتظام حراستی مراکز میں موجود افراد کے ریویو بورڈ سے متعلق تفصیلات جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ہر زیر حراست شخص کو ہائی کورٹ کے ججز پر مشتمل ریویو بورڈ کے سامنے کب اور کتنی بار پیش کیا گیا اس بارے میں بھی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ کسی ایک شخص کی بھی غیر قانونی حراست کو کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی شہری آزادی کو کسی طور نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ صوبہ خیبر پختونخوا میں فوج کے زیر انتظام چلنے والے حراستی مراکز کے بارے میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق کی طرف سے دائر نظرثانی کی اپیل کی سماعت کر رہا ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا ہے کہ وہ ان علاقوں میں فوج کے زیر انتظام چلنے والے 7 حراستی مراکز میں زیر حراست افراد کے بارے میں معلومات حاصل کر کے چیف جسٹس آفس کو آگاہ کریں۔

اس بارے میں

’حراست کو جائز یا ناجائز قرار دینا ججز کا کام ہے، حکومت کا نہیں‘

کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آئین سے فٹبال کھیلیں: چیف جسٹس

’سوال فوج کے زیر انتظام حراستی مراکز کی آئینی حیثیت کا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خیبر پختونخوا میں لاپتہ افراد کے لواحقین احتجاج کرتے رہے ہیں

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اس رپورٹ میں ہر زیر حراست شخص کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں رہنے والے افراد 25 ویں آئینی ترمیم سے پہلے غیر ملکی تھے کیونکہ ان کی جغرافیائی حیثیت کچھ اور تھی جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ ان حراستی مراکز میں رکھے گئے افراد پاکستانی ہیں تو پھر وہ غیر ملکی کیسے ہوگئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’ایلیئن‘ سے مراد وہ غیر ملکی ہیں جن کے پاس پاکستانی شہریت نہ ہو تو وہ شخص جو پاکستان میں پیدا ہوا اس کو کیسے غیر ملکی قرار دیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ ایلیئن کو دشمن کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غیر ریاستی عناصر کی تعریف واضح طور پر کی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ نائن الیون کے واقعے کے بعد پاکستان تنہائی کا شکار نہیں ہوا اور اس کے بعد دنیا بھر میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں اور متعدد قوانین بنائے گئے ہیں۔

چیف جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا کو سرکاری طور پر دشمن قرار دیا گیا ہے لیکن جب اسے تجارت کے لیے سب سے پسندیدہ ملک قرار دیا گیا تو پھر اس معاملے پر بحث چل پڑی تھی کہ سرکاری طور پر دشمن قرار دیے گئے ملک کو سب سے پسندیدہ ملک کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ ایلیئن اور دشمن کی تعریف کے بارے میں عدالت کو آگاہ کریں جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وہ اس بارے میں عدالت میں رپورٹ جمع کرائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بینچ میں شامل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس معاملے پر بھی عدالت ان سے کوئی سوال پوچھتی ہے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ وہ اس بارے میں عدالت کو آگاہ کریں گے یا رپورٹ جمع کروائیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ کیا رپورٹ اس وقت جمع کروائیں گے جب نظرثانی کی اپیل پر فیصلہ آجائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت پھر نظرثانی کی اپیل کو کیوں سن رہی ہے۔

ان ریمارکس پر انور منصور خان غصے میں آگئے اور اُنھوں نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں شروع سے ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اس بینچ میں بیٹھنے پر اعتراض تھا۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال اس لیے خراب ہو رہی ہے کہ عدالت کو اس کے سوالوں کا جواب نہیں مل رہا۔ اُنھوں نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خرابی ان کی طرف سے ہے کیونکہ صحیح قانون سازی نہیں کی گئی، اور یہ کہ اس خرابی کو دور کرنا بھی ان کا ہی کام ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر عدالت کو سوالوں کے جواب نہ ملے تو پھر وہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے۔

عدالت نے اپیل کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

اسی بارے میں