جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس:’مخبری یا نگرانی کے معاملے میں قانون سازی کی اشد ضرورت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپریم کورٹ کے مطابق یہ انتہائی اہم معاملہ ہے کہ کسی شخص کی ذاتی زندگی میں کیسے کوئی اور مداخلت کرسکتا ہے

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کی مخبری یا نگرانی کرنے کے معاملے میں قانون سازی کی اشد ضرورت ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے کہ کسی شخص کی ذاتی زندگی میں کیسے کوئی اور مداخلت کرسکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے بارے میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو روکنے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے 10 رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں کسی بھی شخص کی ذاتی زندگی کو تحفظ حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’کیا جج کی جائیداد سے متعلق شواہد نظر انداز کر دیں؟‘

’جج کی جاسوسی، ذاتی زندگی میں مداخلت بھی توہین ہے‘

فائز عیسیٰ کیس: ’مسٹر یہ کیک نہیں یہ کیس ہے‘

’سب کو معلوم ہے جسٹس فائز عیسیٰ چیف جسٹس ہوں گے‘

درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے اپنے دلائل کے دوران سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ ’کسی جج کی مخبری کرنا یا ان کے فون ٹیپ کرنا آزاد عدلیہ میں مداخلت کے مترادف ہے اور یہی اقدام قومی اسمبلی کے خاتمے کے لیے کافی ہے‘۔

بینچ میں موجود جسٹس منصور علی خان نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسا کوئی قانون موجود ہے کہ فوجداری مقدمات میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کسی بھی شخص کا فون ٹیپ کیا جاسکتا ہے یا اس کی مخبری کی جاسکتی ہے، جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ایسا قانون ہے تو وہ ان کے علم میں نہیں ہے۔ منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ ’قومی سلامتی کے معاملے پر کسی مشتبہ شخص کا فون ٹیپ کیا جاسکتا ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ SUPREME COURT OF PAKISTAN
Image caption سپریم کورٹ کے سنئیر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

منیر اے ملک نے کہا کہ نیب کے قانون میں بھی اگر کسی مشتبہ شخص کی مخبری کرنی ہے یا اس کے فون ٹیپ کرنے ہیں تو چئیرمین نیب بھی ہائی کورٹ کے اجازت کے بعد ہی ایسا کرسکتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ایسا مواد جو کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت کر کے حاصل کیا گیا ہو تو عدالت کو ایسے مواد کو مسترد کر دینا چاہیے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس میں ان کی ذاتی زندگی میں مداخلت کر کے شواہد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بیوی کا نام معلوم نہیں تھا لیکن خفیہ ادارے ان کے موکل کی مخبری کرنے کے بعد یہ معلومات پبلک میں لیکر آئے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ سروِلنس بہت بڑا لفظ ہے، ’کیا آپ اس کا مطلب بتا سکتے ہیں آیا کسی کا پیچھا کرنا یا کسی کے بیڈ روم میں کیمرے لگانا ہے‘، جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ کسی کے نجی معاملات میں مداخلت سروِلنس کے ذمرے میں آتا ہے۔

منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف دائر ہونے والے صدارتی ریفرنس میں جو دستاویزات لگائی گئی تھیں ان میں ججز کی ان کے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ تصاویر بھی شامل تھیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اس وقت کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے بھی ان تصاویر کے مستند ہونے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی۔

منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے 10 رکنی بینچ کی صلاحتیوں پر کوئی شک نہیں ہے لیکن ان کے خلاف دائر ہونے والے صدارتی ریفرنس سے لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کی ذاتی زندگی کو ملکی آئین میں تحفظ دیا گیا ہے اور اس کو کسی طور پر بھی مجروح نہیں کیا جاسکتا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل کا کہنا تھا کہ انکم ٹیکس قانون کے تحت کسی بھی سرکاری ملازم کے ٹیکس کی تفصیلات فراہم نہیں کی جاسکتیں اور اس کے علاوہ ایسے کسی بھی شخص کی معلومات کو عام نہیں کیا جاسکتا جو ٹیکس دہندہ ہو۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ ان کا موقف ہے کہ صدر نے جو ان کے موکل کے خلاف صدارتی ریفرنس بھیجا ہے اس میں اُنھوں نے اپنا ذہن استعمال نہیں کیا تو کیا اس کو واپس لے لیا جائے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل نے جواب دیا کہ صدر اور سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک دوسرے کی تائید نہیں کرنی چاہیے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل کو بھی کوئی مزید معلومات چاہیے ہوں گی تو اسے بھی قانون کے مطابق ہی چلنا ہوگا۔

ان درخواستوں کی سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں