لاہور کی مسجد سے چور ’ایک لاکھ‘ روپے مالیت کا جوتا لے اڑا، مقدمہ درج

جوتے تصویر کے کاپی رائٹ SHERAZ BASHIR
Image caption ایف آئی آر کے مطابق جوتا مشہور اور مہنگے برانڈ ’پراڈا‘ کا ہے

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں ایک شہری نے پولیس کو درخواست دی ہے کہ ایک نامعلوم چور مقامی مسجد سے ان کا مہنگا جوتا لے اڑا جس کی مالیت ایک لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔

شہری شیراز بشیر کی درخواست پر پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق شیراز بشیر 17 نومبر کو سرگنگا رام ہسپتال کے عقب میں واقع ایک مسجد میں نمازِ مغرب ادا کرنے گئے۔ ایف آئی آر کے مطابق شیراز نے جوتا چوری کی اطلاع مقامی پولیس کو تین دسمبر کو کی اور شکایت کی تصدیق کے بعد پولیس نے چار دسمبر کو اس چوری کی رپورٹ درج کی۔

یہ بھی پڑھیے

جدید گاڑیاں صرف 10 سیکنڈ میں چوری کرنا ممکن

’میں نے بحریہ سے بھاگنے کے لیے طیارہ چوری کیا‘

سعودی نیلے ہیرے کی وہ چوری جس نے کئی لوگوں کی جان لی

رپورٹ کے مطابق جوتا مہنگے برانڈ ’پراڈا‘ کا ہے۔

بی بی سی کے دانش حسین سے بات کرتے ہوئے شیراز بشیر کا کہنا تھا کہ جب وہ نماز ادا کرنے کے لیے مسجد کے گیٹ پر پہنچے تو انھیں گمان ہوا کہ کوئی چور ان کا پیچھا کر رہا تھا۔

’چونکہ میرے جوتے مہنگے تھے اور مجھے شک گزرا کہ کوئی دیکھ رہا ہے اس لیے میں اپنا ایک جوتا مسجد کے ایک کونے جبکہ دوسرا دوسرے کونے میں اتارا۔ مگر واپسی پر دونوں جوتے غائب تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ قیمتی جوتا ان کے ایک دوست نے انھیں ہانگ گانگ سے خرید کر بطور تحفہ بھیجا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PUNJAB POLICE

شیراز کے مطابق انھیں ایف آئی آر کے اندارج میں کوئی مشکل درپیش نہیں آئی کیونکہ انھوں نے خود وکالت کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے جبکہ ایف آئی آر کے اندراج کے وقت ان کے دو، تین دوست وکلا ان کے ساتھ تھے۔

انھوں نے کہا کہ جب وہ تھانے پہنچے تو پولیس والے پیزا کھا رہے تھے مگر وہاں موجود ایک اہلکار نے ان کے کہنے پر نا صرف درخواست لکھی بلکہ ایف آئی آر کے اندراج میں مدد بھی کی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ بطور وکیل پریکٹس نہیں کرتے بلکہ اپنا کاروبار کرتے ہیں۔

پولیس نے نامعلوم چور کے خلاف ایف آئی آر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 379 کے تحت درج کی ہے۔

شیراز بشیر نے اپنے جوتے کی چند تصاویر بی بی سی کو ارسال کی ہیں۔ ویب سائٹ ایمزون پر ’پراڈا‘ برانڈ کے اس سے ملتے جلتے جوتے کی قیمتیں 350 ڈالر سے 500 ڈالر تک لکھی گئی ہیں جو پاکستانی روپوں میں 50 ہزار سے 75 ہزار کے درمیان بنتی ہے۔

اسی بارے میں