الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے معاملے پر اپوزیشن سپریم کورٹ میں

الیکشن کمیشن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چیف الیکشن کمشنر ریٹائرڈ جسٹس سردار محمد رضا نے پاکستان کے صدر عارف علوی کی جانب سے تعینات کیے گئے الیکشن کمیشن کے دو ارکان کو ان کی تقرری غیر آئینی قرار دیتے ہوئے عہدہ سنبھالنے کی اجازت نہیں دی ہے

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی تقرری کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے جبکہ پارلیمانی کمیٹی بدھ کو بھی الیکشن کمیشن کے دو ارکان کے ناموں پر متفق نہیں ہو سکی ہے۔

متحدہ اپوزیشن کی جانب سے رہبر کمیٹی کے کنوینر اور جمیعت علمائے اسلام کے رہنما اکرم درانی نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں ایک درخواست جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی میں الیکشن کمیشن کے سربراہ اور ارکان کے ناموں پر اگر اتفاقِ رائے نہ ہو سکے تو اس کے آگے کی صورتحال پر آئین کا آرٹیکل 213 خاموش ہے۔

درخواست میں سپریم کورٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ پانچ دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر کی ریٹائرمنٹ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ممکنہ آئینی بحران سے نمٹنے کے لیے مناسب فیصلہ کرے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا محمد خان پانچ سال کی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد جمعرات کو ریٹائر ہو رہے ہیں اور تحریکِ انصاف کی حکومت جنوری میں ریٹائر ہونے والے سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے ارکان کو بھی تاحال مقرر نہیں کر سکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Screenshot

چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ الیکشن کمشن کے کل ممبران کی تعداد چار ہوتی ہے جو ہر صوبے کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں اور انتخابی عمل سے متعلق اہم فیصلے کرتے ہیں۔ پہلے بھی ان ممبران کا تقرر پانچ سال کے لیے ہوتا تھا لیکن ان سب کی مدت ایک ساتھ پوری ہو جاتی تھی، جس سے الیکشن کمیشن خالی ہوجاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی پر تنازع کیوں؟

چیف الیکشن کمشنر: شہباز شریف نے تین نام تجویز کر دیے

نئے ارکان کی تعیناتی میں آئینی تقاضے پورے نہیں ہوئے: الیکشن کمیشن

22ویں ترمیم کے بعد ان ارکان کا انتخاب سینیٹ کی مانند پانچ سال کے لیے اس طرز پر ہوتا ہے کہ ڈھائی سال بعد دو ارکان کی مدت پوری ہوتی ہے اور ایک ہی وقت میں چاروں ارکان ریٹائر نہیں ہوتے۔

اب چیف الیکشن کمشنر کی ریٹائرمنٹ تک ان ارکان کی تقرری نہ ہونے کی صورت میں الیکشن کمیشن غیرفعال ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ بدھ کی صبح وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ اپوزیشن کا الیکشن کمیشن کی تشکیل کے معاملے میں سپریم کورٹ کو رجوع کرنا صریحاً بد قسمتی ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاستدان اتنے ناپختہ ہیں کہ الیکشن کمیشن کے لیے ایک شخص پر اتفاق نہیں کر سکتے تو وہ ملک کے بڑے مسائل پر کیا اتفاق رائے پیدا کریں گے۔ انھوں نے تجویز دی تھی کہ ’فریقین اپنی پوزیشن میں نرمی لائیں اور فیصلہ کریں۔‘

تحریک انصاف کے سینیٹر اور سینیٹ میں قائدِ ایوان شبلی فراز نے بھی کہا ہے کہ اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا معاملہ سپریم کورٹ لے جانا غیرضروری ہے۔ 'ہر معاملے کو عدالتوں میں لے جانا پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔'

سینیٹر فراز کے مطابق آئینی معاملات عدالتوں میں لے جانے سے پارلیمٹ اور سیاسی نظام کمزور ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے چار ارکان میں سے سینیئر ترین رکن ہی قائم مقام چیف الیکشن کمشنر ہو گا۔

پارلیمانی کمیٹی کے رکن اور مسلم لیگ نون کے سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے اراکین کا معاملہ اتنی جلدی حل نہیں ہوسکتا، جو حکومت آرمی چیف کی توسیع کا نوٹیفکیشن صحیح نہ کرسکی وہ یہ کیسے حل کرے گی۔

مشاہد اللہ خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن اراکان کے معاملہ پر ابھی کچھ فائنل نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'سیاست میں کچھ لو اور دو کے تحت ہی معاملات آگے بڑھتے ہیں۔'

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کے دو صوبائی ارکان کے انتخاب پر بھی حکومت اور اپوزیشن میں تاحال اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔

منگل کے بعد بدھ کو بھی سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرریوں پر غور کرنے کے لیے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی صدارت میں پارلیمانی کمیٹی کا طویل اِن کیمرہ اجلاس ہوا جو بے نتیجہ رہا۔

اجلاس کے بعد شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ اب کمیٹی صوبائی ارکان اور الیکشن کمشنر تینوں کے نام ایک ساتھ اتفاقِ رائے کے لیے پیش کرے گی۔

انھوں نے پارلیمانی کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ’آج اتفاق رائے سے فیصلہ کیا ہے کہ تینوں ناموں پر اتفاق رائے سے فیصلہ کریں گے۔‘

شیریں مزاری نے امید ظاہر کی تھی کہ 'انشااللہ اگلے ہفتے اجلاس بلا کر تینوں ناموں پر اتفاق رائے کر لیں گے۔' ڈیڈلاک سے متعلق سوال پر شیریں مزاری نے کہا کہ ’بڑی اچھی میٹنگ اور تبادلہ خیال ہوا ہے۔‘

فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک دور کرنے کے لیے تحریک انصاف کی حکومت نے ایم این اے فخر امام کی جگہ پارلیمانی کمیٹی میں وزیر دفاع پرویز خٹک کو شامل کر لیا ہے۔

اس سے قبل بھی ڈیڈلاک جیسی صورتحال میں مذاکرات کے لیے پرویز خٹک کا نام تجویز کیا جاتا رہا ہے۔ فخر امام نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیصلہ باہمی اتفاق رائے سے کیا گیا ہے جس پر انھیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی پر وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف میں مشاورت نہ ہونے کی وجہ سے معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی ریٹائرمنٹ کے بعد وزیر اعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے درمیان نئے ارکان کی تعیناتی کے لیے خط و کتابت ضرور ہوتی رہی لیکن اس سے متعلق بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی۔

کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی

بدھ کے اجلاس میں اپوزیشن نے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کا راستہ روکنے کے لیے حکومت سے چیف الیکشن کمشنر کا نام بھی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پارلیمانی کمیٹی کے ایک رکن سینیٹر نصیب اللہ بازائی نے بی بی سی کو بتایا کہ اپوزیشن کی طرف سے ڈیڈلاک برقرار ہے۔ ابھی صرف سندھ اور بلوچستان کے ارکان سے متعلق مشاورت ہورہی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر پر غور اس اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں تھا، جس کی وجہ سے اب آئندہ اجلاس میں اس پر غور ممکن ہو سکے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر سکندر ماندرو نے بی بی سی کو بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں دونوں نشستوں کے لیے اپوزیشن اور حکومت کی طرف سے دیے گئے کل 12 ناموں پر غور کیا گیا۔ ان کے مطابق گذشتہ روز کمیٹی اجلاس کے دوران تمام ممبران میں ان امیدواران کی تفصیلات شیئر کی گئی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے نام پر ابھی سرے سے غور ہی نہیں کیا گیا ہے۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر کا نام بھی فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ارکان اور چیف الیکشن کمشنر کا تقرر ایک ساتھ کیا جائے۔

پارلیمانی کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق کمیٹی کے دوران حکومت چاہتی تھی کہ الیکشن کمشن کے دو ارکان کا تقرر کر دیا جائے اور چار کا عدد پورا ہونے کے بعد ان میں سے سینیئر کو چیف الیکشن کمشنر بنادیا جائے۔

اپوزیشن نے اجلاس میں کہا کہ بہتر ہوگا کہ سب کا تقرر ایک ساتھ ہو تاکہ اس معاملے پر مزید کوئی تنازع نہ پیدا ہو، جس سے حکومت نے اتفاق کرلیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صحافی ایم بی سومرو کہتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات عام انتخابات سے ’ایک ہزار گنا بڑا‘ مرحلہ ہوتے ہیں جن کی شفافیت کمیشن پورا نہ ہونے کی سبب کھٹائی میں پڑ سکتی ہے

تنازع کیا ہے؟

وفاقی حکومت کی جانب سے چند ہفتے قبل ماہرِ قانون خالد محمود صدیقی کو سندھ جبکہ محمد منیر کاکٹر کو بلوچستان سے الیکشن کمیشن کا رکن مقرر کیا گیا تھا تاہم یہ معاملہ اس وقت تنازع کا شکار ہو گیا تھا جب چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان نے ان دونوں ارکان سے حلف لینے سے معذوری ظاہر کر دی تھی اور یہ موقف اپنایا تھا کہ ان ارکان کی تعیناتی کے لیے آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

وفاقی حکومت کی طرف سے اس پیشرفت پر ناراضی کا اظہار کیا گیا اور اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جانے کی بات کی گئی ہے۔

وزارت قانون کے حکام کا کہنا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اگر قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف میں کسی نام پر اتفاق نہ ہو اور کافی عرصے سے یہ آئینی عہدے خالی ہوں تو ایسے حالات میں تعیناتی کا طریقہ کار کیا ہوگا۔

بلوچستان اور سندھ سے الیکشن کمیشن کے ارکان کی نشستیں رواں برس جنوری سے خالی ہیں۔ آئین کے مطابق نئے ارکان کی تعیناتی 45 دن کے اندر ہونی تھی مگر یہ معاملہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک کے باعث اگست تک آن پہنچا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تشکیل پاکستان کے آئین کی شق 213 سے 221 تک کے تحت ہوتی ہے۔

شق 218 (2) کے تحت الیکشن کمیشن پانچ افراد یعنی ایک چیف الیکشن کمشنر اور چاروں صوبوں سے ایک ایک رکن پر مشتمل ہونا ہے۔ شق 218 (2) (ب) کے تحت ارکان کی تعیناتی کا طریقۂ کار بھی وہی ہے جو آئین کی شق 213 (2 اے) اور (2 بی) کے تحت الیکشن کمشنر کی تعیناتی کا ہے۔

الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور اس کے کُل ارکان کی تعداد پانچ ہے جن کا کام انتخابی عذرداریاں، الیکشن سے متعلق شکایتیں نمٹانا، الیکشنز کی تیاری کی نگرانی کرنا، حلقہ بندیاں اور ان پر اعتراضات وغیرہ کے مسائل، نااہلی کی درخواستوں اور ان فریقوں کے دلائل سن کر ان پر فیصلہ دینا، اور ان جیسے دیگر کئی کام ہوتے ہیں۔

شق 213 (2 اے) کے تحت وزیرِ اعظم کو الیکشن کمشنر (یا ارکان) کی تعیناتی کے لیے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سے مشاورت کرنی ہوتی ہے۔

اس کے بعد تین ناموں پر مبنی ایک فہرست ایک پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیجی جاتی ہے جو کہ ان تین ناموں میں سے کسی ایک پر اتفاق کرنے کے بعد انھیں منتخب کر سکتی ہے جس کے بعد صدر ان کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد سے صدر کو اس تعیناتی کا اختیار نہیں ہے چنانچہ وہ صرف پارلیمانی کمیٹی کے فائنل کردہ نام کو ہی تعینات کر سکتے ہیں۔

حتمی فیصلہ کرنے والی 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل شق 213 (2 بی) کے تحت قومی اسمبلی کے سپیکر کو کرنی ہوتی ہے جس میں سے نصف ارکان حکومتی بینچز سے جبکہ باقی نصف ارکان اپوزیشن جماعتوں سے ہونے چاہییں۔

اسی بارے میں