’گل سما کی موت سر پر بھاری چیز لگنے سے ہوئی‘

گل سما کی قبر تصویر کے کاپی رائٹ Asif jamali
Image caption گل سما کی قبر

پاکستان کے صوبہ سندھ میں ڈاکٹروں نے گل سما کی موت کی وجہ بھاری چیز لگنے کو قرار دیا ہے۔ اس سے قبل پولیس نے گل سما کے قتل کا مقدمہ دائر کر کے والدین سمیت چار افراد کو حراست میں لیا تھا۔

دادو کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج کے احکامات پر بدھ کو میڈیکل بورڈ نے گل سما کی قبر کشائی کر کے پوسٹ مارٹم کیا، اس ٹیم میں ایک لیڈی ڈاکٹر اور تین مرد ڈاکٹر شامل تھے جو حیدرآباد سے روانہ کیے گئے تھے۔ اس موقعے پر جوڈیشل مجسٹریٹ بھی موجود تھے۔

یاد رہے کہ سندھ کے علاقے واہی پاندھی کے تھانے میں سرکار کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ ’22 نومبر کو علی بخش رند نے اپنے رشتے دار علی نواز سمیت چار افراد کے ہمراہ منصوبہ بندی کر کے نو سے دس سالہ بیٹی گل سما کو پتھر مار کر بے دردی سے قتل کر دیا‘۔

اسی بارے میں

سندھ: کمسن بچی مبینہ طور پر غیرت کے نام پر سنگسار

’غیرت‘ کے نام پر قتل اور میڈیا

’غیرت‘ کے نام پر قتل ثقافت کا نہیں سماج کا حصہ

’غیرت‘ کے نام پر قتل: شرح بلحاظِ صوبہ

سندھ کے علاقے واہی پاندھی کے صحافی آصف جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے شہر سے قبرستان کا فاصلہ تقریباً ڈھائی گھنٹے میں فور بائی فور گاڑیوں میں طے کیا گیا، راستے میں صرف گیس اور تیل نکالنے والی کمپنیوں کی تنصیبات تھیں باقی کوئی آبادی نہیں تھی، قبرستان کھیر تھر کے پہاڑی سلسلے کے پہاڑوں کے درمیان واقع تھا جہاں پندرہ سے بیس قبریں موجود تھیں۔

میڈیکل بورڈ کے مطابق ’سر میں فریکچر کے ساتھ پسلیاں، ناک، جبڑا ٹوٹا ہوا تھا چہرے پر زخم کے نشانات ہیں‘۔

ڈاکٹر وحید ناہیوں نے میڈیا کو بتایا کہ سر پر کوئی بھاری چیز لگنے یا گرنے سے موت واقع ہوئی ہے تاہم مذکورہ زخموں کے علاوہ جسم پر بیرونی سطح پر زخم کے نشانات نہیں ہیں۔

’یہ زخم سنگسار کی وجہ سے ہیں یا کسی اور وجہ سے، ہم ابھی یہ نہیں کہہ سکتے۔ جسم پر بیرونی سطح پر اور کوئی زخم نہیں ہے لہذا سنگسار نہ ہی کہیں تو بہتر ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Asif Jamali
Image caption گل سما کے والدین بھی حراست میں ہیں

پوسٹ مارٹم کے دوران لاش کے مختلف حصوں سے اجزا لیے گئے اور ڈی این اے کے لیے بھی نمونے حاصل کیے گئے، ڈاکٹر وحید کے مطابق ’ڈی این اے سے یہ تصدیق کی جائے گی کہ جو لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ان کے حوالے کی گئی وہ اسی بچی کی ہے جبکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کوئی جنسی عمل تو نہیں ہوا‘۔

ڈاکٹروں کے بورڈ نے بچی کی عمر کا تعین دس سے بارہ سال کے درمیان کیا اور صحافیوں کو بتایا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ تین چار روز میں جاری کردی جائے گی جبکہ ڈی این اے میں دس سے پندرہ روز لگ سکتے ہیں۔

اس سے قبل واہی پاندھی تھانے میں سرکار کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ ’22 نومبر کو علی بخش رند نے اپنے رشتے دار علی نواز سمیت چار افراد کے ہمراہ منصوبہ بندی کر کے نو سے دس سالہ بیٹی گل سما کو پتھر مار کر بے دردی سے قتل کر دیا‘۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ ’لڑکی کی نماز جنازہ مولوی مشتاق نے پڑھائی جبکہ سامان تاج محمد رستمانی سے خریدا گیا، انھیں بھی شریک جرم قرار دیا گیا ہے‘۔

مقامی اطلاعات پر پولیس نے پہلے مولوی مشتاق لغاری کو حراست میں لیا جن کی نشاندہی پر قبر برآمد کی گئی جس کے بعد لڑکی کے والد اور والدہ کو بھی تھانے لے جایا گیا۔

دوسری جانب لڑکی کے والد علی بخش کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کی موت حادثاتی طور پر ہوئی ہے، بقول ان کے پہاڑی تودے کے نیچے دب کر اس کی موت واقع ہوئی اور یہ کہ انھوں نے قتل نہیں کیا۔

مولوی مشتاق کا کہنا ہے کہ چند دن قبل رات آٹھ بجے تاج محمد کے ساتھ لڑکی کے رشتہ دار ان کے پاس آئے اور کہا کہ تاج محمد کو پتہ معلوم نہیں تھا اس لیے وہ ساتھ آیے ہیں اور پھر مولوی مشتاق سے کہا کہ ان کے ساتھ جا کر جنازہ پڑھائیں۔ ’اس کے بعد میں ان کے ہمراہ روانہ ہوا اور بازار سے کفن دفن کا سامان بھی خریدا۔

مولوی مشتاق کے مطابق وہ ساری رات انتظار کرتے رہے اور صبح آٹھ بجے جنازہ لایا گیا، انھوں نے پوچھا کہ بالغ ہے یا نابالغ تو بتایا گیا کہ ’آٹھ سے دس سال کی عمر ہوگی‘ کس کے بعد انھوں نے نماز جنازہ پڑھائی اور واپس آگئے۔

پولیس نے لڑکی کے والدین مولوی، اور دکاندار کو حراست میں لے لیا ہے۔

اسی بارے میں