بلوچستان کے لورالائی ہسپتال سے لاپتہ بچی حقیقی والدین کو دوبارہ مل گئی

بچی تصویر کے کاپی رائٹ FAMILY HANDOUT

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع لورالائی سے تعلق رکھنے والی جمیلہ بی بی اس لحاظ سے انتہائی خوش قسمت ہیں کہ ہسپتال سے لاپتہ ہونے والی ان کی نومولود بچی دو روز بعد انھیں واپس مل گئی ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق جمیلہ بی بی کے ہاں جڑواں بچیوں کی پیدائش لورالائی کے سول ہسپتال میں ہوئی تھی لیکن ہسپتال سے ڈسچارج ہوتے وقت متعلقہ عملے نے ان کے رشتہ داروں کو صرف ایک بچی کو حوالے کیا تھا۔

جڑواں بہنوں میں سے ایک کو ’غائب‘ کرنے کے الزام میں لورالائی پولیس نے ہسپتال کی تین نرسوں سمیت چار خواتین کو گرفتار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’28 سرکاری ہسپتال، پانچ ماہر ڈاکٹر‘

سیب جتنی بچی زندگی کی جنگ جیتنے میں کامیاب

’جس نے بھی ننھی پایل کو اس حال میں دیکھا وہ رو پڑا‘

بچی کو کس نے اغوا کیا؟

لورالائی پولیس کے ایڈیشنل ایس ایچ او جہانگیر شاہ نے فون پر رابطہ کرنے پر بتایا کہ جمیلہ بی بی کو ان کے رشتہ دار سول ہسپتال لورالائی کے گائنی وارڈ میں ڈیلیوری کے لیے لائے تھے۔

پولیس کے مطابق چونکہ خاتون کی حالت اس قت ایسی نہیں تھی کہ وہ یہ بتا سکتیں کہ ان کی دو جڑواں بچیاں تھیں اس لیے ان کے ساتھ ہسپتال آنے والے رشتہ دار ایک بچی کو لے کر گھر چلے گئے جو کہ بعد میں انتقال کر گئی تھی۔

خاتون کی حالت ٹھیک ہونے پر اس نے بچیوں کے بارے میں پوچھا تو ان کو رشتہ داروں نے بتایا کہ بچی ایک تھی جو کہ انتقال کر گئی ہے جس پر خاتون نے رشتہ داروں کو بتایا کہ اس نے تو جڑواں بچیوں کو جنم دیا تھا۔

پولیس افسر کے مطابق اس پر خاتون کے رشتہ دار تھانے آئے اور بچی کی بازیابی کی درخواست کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Amir Afghan

پولیس نے کیا کارروائی کی؟

خاتون کے شوہر کے بھائی عبدالحمید نے پولیس کی مدعیت میں ہسپتال کی ایک نرس کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

پولیس افسر کے مطابق اغوا کا مقدمہ درج کرنے کے بعد ایک نرس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ دوران تفتیش نرس نے پولیس کو بتایا کہ بچی کو والدین سے دور رکھنے میں مبینہ طور پر انھیں دیگر دو نرس ساتھیوں کی بھی معاونت حاصل تھی۔

گرفتار نرس کا کہنا تھا کہ انھوں نے بچی کو ایک اور خاتون کے حوالے کیا تھا جوکہ ان نرسوں میں سے ایک کی قریبی رشتہ دار تھی۔

جس پر معاونت کرنے والی دونوں نرسوں کو گرفتار کرنے کے علاوہ اس خاتون کوبھی گرفتار کیا گیا۔

نومولود بچی کو غیر متعلقہ خاتون کے حوالے کیوں کیا گیا؟

ایڈیشنل ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ بچی کو غیر متعلقہ خاتون کے حوالے کرنے کا محرک مالی فائدہ حاصل کرنا بالکل نہیں تھا اور نہ ہی اس کے پیچھے کوئی مجرمانہ سوچ کار فرما تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ بچی کو جس خاتون کے حوالے کیا گیا وہ گرفتار نرسوں میں سے ایک کی ممانی تھی جس کی شادی سولہ سترہ سال پہلے ہوئی تھی لیکن اس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ خاتون کسی اور کے بچے کو گود لینا چاہتی تھی جس کے باعث انھوں نے اپنی رشتہ دار نرس سے درخواست کی تھی کہ اگر کوئی لاوارث بچہ ہو یا کوئی اپنا بچہ غربت یا کسی اور وجہ سے بخوشی دینا چاہے تو وہ اسے دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بنیاد پر بچی کو اس کے حقیقی والدین کے بجائے غیر متعلقہ خاتون کے حوالے کیا گیا لیکن اس میں بچی کے والدین یا ان کے رشتہ داروں کی مرضی شامل نہیں تھی۔

پولیس افسر نے بتایا کہ بچی کو بازیاب کرکے اسے اس کے حقیقی والدین کے حوالے کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Loralai Police

ایسے واقعات کو کیسے روکا جاسکتا ہے ؟

بولان میڈیکل کمپلیکس کوئٹہ کی ایک سینئیر گائنا گالوجسٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بی ایم سی ہسپتال میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو کسی اذیت ناک صورتحال سے بچانے کے لیے بلوچستان سمیت ملک بھر کے ہسپتالوں میں ایک ایسا میکنزم ہونا چائیے جس کے ذریعے ایسے واقعات کو ناممکن بنایا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ سویلین حکومتوں کے زیر انتظام زیادہ تر ہسپتالوں میں ایسا کوئی میکینزم نہیں ہے تاہم بعض بڑے نجی ہسپتالوں یا سی ایم ایچ وغیرہ میں ایسا میکینزم ہے۔

سینئیر گائناکالوجسٹ نے کراچی کے ایک معروف نجی ہسپتال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں نومولود بچے اور اس کی والدہ کو ایک مخصوص ٹیگ لگادیا جاتا ہے جن کے بغیر سکیورٹی گارڈ کسی بچے کو ہسپتال سے باہر نہیں لینے جانے دیتے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح بعض دیگر ہسپتالوں میں نومولود بچوں کا فٹ پرنٹ یا فنگر پرنٹ بھی لیاجاتا ہے۔

’اس طرح کا میکینزم تمام سرکاری ہسپتالوں میں متعارف کیا جاسکتا ہے۔‘

اسی بارے میں