عمران خان کے لیے ملائیشیا کی پروٹان گاڑی کا تحفہ: نئی کمپنیوں کی گاڑیاں پاکستانیوں کی پہلی پسند کیوں نہیں؟

پروٹان تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@PlanComPakistan

ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو تحفے میں دی گئی گاڑی پروٹان ایکس 70 (ایس یو وی) کی پیر کو پاکستان میں رونمائی کی گئی ہے۔

گاڑیاں بنانے والی ملائیشین کمپنی پروٹان نے پاکستان کے مقامی الحاج گروپ کے ساتھ اشتراک سے کراچی کے قریب ایک پلانٹ لگایا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2020 میں پاکستان میں گاڑیاں بنانا شروع کر دیں گے۔

تاہم پاکستانیوں میں تین جاپانی گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں ہنڈا، ٹویوٹا اور سوزوکی پہلے سے مقبول ہیں اور عام طور پر لوگ گاڑی خریدتے وقت ان میں سے کسی ایک نام کا انتخاب کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق نئی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں میں لوگ دلچسپی لے رہے ہیں لیکن ان پر اعتماد پیدا ہونے اور ملک بھر میں ان کے خریدار بننے میں ابھی وقت لگے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ قیمت اور معیار کے ساتھ پاکستان میں گاڑیاں خریدنے والے اس بات کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ یہ استعمال شدہ حالت میں کتنے کی فروخت ہو سکے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@MYHCIslamabad

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی آخر کاریں کیوں نہیں خرید رہے؟

کیا پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں چل پائیں گی؟

پاکستان میں آخر گاڑیاں مہنگی کیوں ہیں؟

پاکستان میں کار بنانے والے نئے نام

یہ پہلی بین الاقوامی گاڑیاں بنانے والی کمپنی نہیں ہے جس نے حالیہ عرصے میں پاکستان میں گاڑیاں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل جرمن کمپنی ووکس ویگن اور فرانس کی رینالٹ نے پاکستان میں گاڑیاں اسمبل کرنے کے اعلان کر رکھے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق 15 نئی کار ساز کمپنیوں نے گاڑیوں کی پالیسی اے ڈی پی (2016-2021) کے تحت پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں فوٹان،الفتائم، ہیونڈائی، ہنتنگ وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں کچھ پرانی کمپنیاں بھی شامل ہیں جو پاکستان میں ماضی میں کام کر چکی ہیں اور اب ایک نئے سرے سے سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Radio Pakistan

گذشتہ کچھ عرصے کے دوران ملک میں کیئا، یونائیٹڈ اور پرنس نے اپنی نئی گاڑیاں متعارف کرائی ہیں۔ ستمبر 2018 میں 800 سی سی کی گاڑی یونائیٹڈ براوہ متعارف کرائی گئی تھی اور اس کی قیمت ساڑھے آٹھ لاکھ رکھی گئی تھی۔

نئی آنے والی گاڑیوں میں 800 سی سی پرنس پرل بھی شامل ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ’مہران کا متبادل‘ ثابت ہو سکتی ہے۔

اسی طرح ملائیشیا کی کمپنی پروٹان اپنی تین کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ پاکستان میں گاڑیاں بنانے اور بیچنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

لیکن اس کے باوجود اگر پاکستان میں گاڑیوں کی خریداری کے رجحانات دیکھے جائیں تو فی الحال جاپانی گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں ہی آگے دکھائی دیتی ہیں۔

عام طور پر اگر کسی کو چھوٹی یا 1000 سی سی سے کم گاڑی لینی ہو تو وہ سوزوکی کا انتخاب کرتے ہیں اور اگر بڑی گاڑی لینی ہو تو ٹویوٹا یا ہنڈا میں سے کوئی ایک خرید لیتے ہیں۔ بعض لوگ تو اسے ہنڈا، ٹویوٹا اور سوزوکی کی اجارہ داری کا نام بھی دیتے ہیں۔

دوسری طرف گذشتہ کچھ عرصے کے دوران استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ ان کی درآمد میں سختیاں اور روپے کی قدر میں کمی سے ان کی قیمتیں زیادہ ہونا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نئی آنے والی کاروں میں کتنی دلچسپی؟

پاکستان میں نئی کمپنیوں کی گاڑیوں میں بظاہر تو کافی دلچسپی نظر آتی ہے لیکن اب بھی زیادہ تر لوگ انھی جاپانی کمپنیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔

نئی کاروں کی فروخت بتانے والی پاما رپورٹ میں صرف ہنڈا، سوزوکی اور ٹویوٹا کے نام نظر آتے ہیں جبکہ نئی کمپنیوں کے ماہانہ اعداد و شمار باقاعدگی سے موجود نہیں ہیں۔

اس سلسلے میں بی بی سی نے لاہور میں گاڑیوں کے ایک ڈیلر احمد علی سے بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ گاڑی خریدتے وقت اس کی کوالٹی (معیار)، قیمت، سروس اور ری سیل میں قدر کے ساتھ ساتھ کارساز کمپنی کا نام بھی دیکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ کچھ نئی گاڑیوں کا معیار اتنا اچھا نہیں ہے اور بعض کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ اس میں ان سے بہتر جاپانی گاڑی خریدی جا سکتی ہے۔

’مہران آنا بند ہوگئی ہے لیکن وہ اب بھی مارکیٹ میں یونائیٹڈ براوہ سے بہتر تصور کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ معیار اور قیمت ہے۔۔۔ پرانی (جاپانی) کمپنیاں پہلے سے مارکیٹ میں مضبوط ہیں۔ لوگ نئی کمپنیوں کی طرف اتنا جلدی نہیں آتے۔‘

احمد علی کے مطابق کئی لوگوں نے اپنی نئی گاڑی پانچ سے چھ کلو میٹر چلانے کے بعد اس لیے فروخت کر دی کیونکہ ان کی ’لانگ ڈرائیو پر مزہ نہیں آتا یا سیٹیس اتنی پر سکون نہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’کیئا کی 1000 سی سی کی نئی گاڑی پکانٹو 20 لاکھ کی ہے۔ یہ ایک بالکل سادہ گاڑی ہے اور اس قیمت میں بہتر پائیدار گاڑیاں خریدی جا سکتی ہیں جن کا پہلے سے نام ہے۔‘

وہ سمجھتے ہیں کہ لوگ پرنس یا براوہ جیسے مقامی ناموں سے زیادہ ووکس ویگن یا رینالٹ میں دلچسپی لیں گے۔ تاہم ان بڑی کمپنیوں کی گاڑیاں ابھی باقاعدہ طور پر پاکستان میں متعارف نہیں کروائی گئیں اور نہ ہی یہاں ان کے کوئی آفٹر سیل سینٹر موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیا پاکستانیوں کو پرانے ناموں پر زیادہ اعتماد ہے؟

پاکستان میں نئی کمپنیوں کا مقابلہ شاید ایسے ناموں سے فوری طور پر ممکن نہیں جو کئی دہائیوں سے یہاں قائم ہیں۔

جاپانی گاڑیوں کے ڈیلر امتیاز وڑائچ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب لوگوں کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ (نئی گاڑی کے) پارٹس ڈھونڈنا مشکل ہوگا یا بعض پارٹس مہنگے ملیں گے تو وہ انھیں ترجیح نہیں دیتے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ لوگ کچھ درآمد شدہ جاپانی گاڑیاں، جو مارکیٹ میں کم ہیں، بھی اس لیے پسند نہیں کرتے کیونکہ ان کے پرزے آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔

امتیاز وڑائچ کے مطابق لوگ گاڑی خریدتے وقت اس کی پائیداری اور آرام دہ ہونے کا جائزہ لیتے ہیں اور اس لیے مقامی سطح پر تیار کردہ ایسی گاڑیاں کم خریدتے ہیں جس کا نام اتنا مقبول نہ ہو۔

’پہلے سے موجود گاڑیوں کو آزمایا جا چکا ہے اور لوگ ان کے عادی ہو چکے ہیں۔ لوگ اتنی آسانی سے کوئی نئی چیز نہیں خریدتے۔‘

وہ سمجھتے ہیں کہ نئی گاڑیوں کی آمد کے باوجود لوگ ابتدائی کچھ عرصے کے دوران انھیں آزمانے سے ڈریں گے۔ انھوں نے نئی گاڑیوں کے پارٹس کی عدم دستیابی اور خریداری کے بعد اس کی دیکھ بھال کے لیے محدود سہولیات پر بھی بات کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ United Cars

’نئی کمپنیوں کو ابھی وقت لگے گا‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گاڑیوں کی خرید و فروخت کی ویب سائٹ پاک ویلز کے چیئرمین سنیل منج کا کہنا تھا کہ ملک میں ویسے ہی گاڑیوں کی مانگ میں کمی آئی ہے جس سے نئی پرانی سب کمپنیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ نئی کمنیوں کو ملک بھر میں اپنا نیٹ ورک بنانے اور لوگوں میں اعتماد پیدا کرنے میں ابھی وقت لگے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگ معیار اور قیمت کے ساتھ گاڑیوں کی ری سیل اور پارٹس کی دستیابی کا بھی خاص خیال رکھتے ہیں۔

’نئی کمپنیوں کے لیے یہ چیلنج ہے کہ ڈالر کی اس قیمت کے ساتھ یہاں ایک چھوٹی مارکیٹ میں کس طرح کامیاب ہو پائیں گے۔‘

سنیل منج نے بتایا کہ جاپانی کمپنیاں ہنڈا، ٹویوٹا اور سوزوکی گذشتہ کچھ برسوں کے دوران اپنے معیار میں بہتری نئی کمپنیوں کی آمد کی وجہ سے لائیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک میں زیادہ کمپنیاں ہونے سے لوگوں کو بہتر اور سستی گاڑیاں مل سکیں گی۔

اسی بارے میں