جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کا دعویٰ: ’میرے موکل کے خلاف مواد ریاستی جاسوسی کے ذریعے اکٹھا کیا گیا‘

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، سپریم کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan
Image caption جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیلا منیر ے ملک نے مزید کہا کہ اعلیٰ عدالتوں کی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں غیر قانونی طریقے سے اکٹھا کیے گئے مواد کو مقدمے سے الگ کیا گیا ہے

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے پیر کو سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے موکل کے خلاف ریاستی جاسوسی کے ذریعے مواد اکٹھا کیا گیا۔

انھوں نے یہ دعویٰ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کیے گئے صدارتی ریفرنس پر کارروائی روکنے سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران کیا۔

صدر عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ان کے بیرون ملک خاندانی اثاثے ظاہر نہ کرنے سے متعلق ریفرنس دائر کر رکھا ہے۔

سپریم کورٹ کا 10 رکنی بینچ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں اس ریفرنس پر کارروائی روکنے کے لیے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’جج کی جاسوسی، ذاتی زندگی میں مداخلت بھی توہین ہے‘

فائز عیسیٰ کیس: ’مسٹر یہ کیک نہیں یہ کیس ہے‘

’ایسٹ ریکوری یونٹ پی ایم سیکرٹریٹ میں کیوں‘

سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل نے کہا کہ [جاسوسی کے ذریعے مواد اکٹھا کرنے جیسے ] غیر قانونی اقدام کی اجازت دینے سے ایگزیکٹیو کو یہ لائسنس مل جائے گا کہ وہ جب چاہے عدلیہ کو بلیک میل کرے۔

منیر اے ملک نے مزید کہا کہ اعلیٰ عدالتوں کی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں غیر قانونی طریقے سے اکٹھا کیے گئے مواد کو مقدمے سے الگ کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ہم ایک طرف یہ چاہتے ہیں کہ تمام ادارے قانون کے مطابق کام کریں اور دوسری طرف یہ بھی چاہتے ہیں کہ غیر قانونی کام کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سپریم کورٹ کا 10 رکنی بینچ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں اس ریفرینس پر کارروائی روکنے کے لیے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے

ان کا کہنا تھا کہ قانون کی خلاف ورزی کر کے مواد جمع کرنے اور احتساب میں فرق ہونا چاہیے۔

منیر اے ملک نے کہا کہ جج پر عائد الزام کو پوری دنیا کے سمندر بھی نہیں دھو سکتے جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ان سے استفسار کیا کہ جج کے خلاف ریفرنس خارج کر دینے سے کیا الزام ختم ہو جائے گا؟

اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل نے کہا کہ الزام نہ بھی ختم ہو، لیکن داغ مٹ جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ الزام ختم کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ جج کو بالوں سے پکڑ کر کھینچا جائے۔

بینچ کے سربراہ نے اس پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کیس میں اس وقت ایک فوجی آمر کی حکومت تھی اور اس کیس میں ججوں کو گھروں میں نظر بند کیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ افتخار چوہدری اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے کیس الگ الگ ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل نے کہا کہ کیا اعلیٰ عدالت کے جج کی جاسوسی کرنا کوئی معمولی بات ہے؟

جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے بہت کچھ کہہ دیا ہے، ہمیں سوچنا پڑے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ HRW.org
Image caption منیر اے ملک نے کہا کہ اعلیٰ عدالتوں کی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں غیر قانونی طریقے سے اکٹھا کیے گئے مواد کو مقدمے سے الگ کیا گیا ہے۔

منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل انور منصور خان کی طرف سے اپنے جواب الجواب میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ذاتی تعریف اور سستی شہرت پر یقین رکھتے ہیں اور ایسے الزامات سپریم کورٹ کے جج کے بارے میں بدنیتی کا اظہار ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں اٹارنی جنرل کی ذمہ داریوں کو بڑے اچھے طریقے سے بیان کیا گیا ہے اور آئین کے تحت اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کرتا ہے، حکومت کی معاونت نہیں۔

منیر اے ملک نے مزید کہا کہ اٹارنی جنرل کے جواب الجواب میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اپنی بیوی اور بچوں کی شناخت کے پیچھے چھپنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل کا یہ جواب خفیہ قوانین کی خلاف ورزی اور جج کی جاسوسی سے متعلق اُن (منیر اے ملک) کے دلائل کی تصدیق ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ فیض آباد پر ایک مذہبی جماعت کے دھرنے کے بارے میں ان کے موکل نے جو فیصلہ لکھا ہے، اس کے خلاف حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی دائر کردہ نظرثانی کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ جج کی برطرفی کے لیے واضح جواز ہے۔

منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی نظر ثانی کی اپیل ان کی ذہنی سوچ کی عکاس ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف صدارتی ریفرنس کے بارے میں ٹویٹ اس روز شام چار بجے جاری ہوئی اور اس ریفرنس کے بارے میں صدر، وزیرِ اعظم، اٹارنی جنرل، وزیر قانون اور چیف جسٹس کے سیکریٹری کو علم تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 2017 میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان فیض آباد کے مقام پر مذہبی جماعت تحریکِ لبیک کی جانب سے دھرنا دیا گیا تھا

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل نے کہا کہ چیف جسٹس کے سیکریٹری نے یہ خبر لیک نہیں کی، البتہ اس کی ذمہ داری باقی چاروں افراد پر ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس ریفرنس کی خبر لیک ہونے کے بارے میں صدر مملکت نے صرف اتنا کہا ہے کہ خبر ان کے دفتر سے لیک نہیں ہوئی۔

اُنھوں نے کہا کہ ایک حکومتی رکن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ عدلیہ نے کریز سے نکل کر شاٹ کھیلی اور اب وہ احتساب کے شکنجے میں ہے۔

منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ کریز سے باہر شاٹ کھیلنے کا مطلب فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر بیرون ملک جائیدادوں کی بے نامی ملکیت، بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کا الزام نہیں لگایا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسیٹ ریکوری یونٹ کے چیئرمین اور وزیر قانون کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اعلیٰ عدالتوں کے جج کے خلاف تحقیقات کرے۔

بعد ازاں منیر اے ملک نے عدالت سے استدعا کی کہ اُنھیں طبی بنیادوں پر بدھ 18 دسمبر کی رخصت چاہیے، جس پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ اس روز دیگر درخواست گزاروں کو سن لیں گے۔

ان درخواستوں کی سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں