جنرل پرویز مشرف کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے، پاکستانی فوج کا ردعمل

آصف غفور تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستانی فوج کے سابق سربراہ کو آئین شکنی کے جرم میں سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے اور یہ کہ خصوصی عدالت کے فیصلے پر افواجِ پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے۔

منگل کو عدالت کے فیصلے کے چند گھنٹوں بعد فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے تحریری بیان جاری کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’جنرل پرویز مشرف نے 40 سال سے زیادہ پاکستان کی خدمت کی ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے ملک کے دفاع کے لیے جنگیں لڑی ہیں۔ وہ کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے‘۔

فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’کیس میں آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور انھیں اپنے دفاع کا بنیادی حق نہیں دیا گیا‘۔

مزید پڑھیے

سابق فوجی آمر پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کا حکم

غداری کیا ہے اور غدار کون ہے؟

مشرف غداری کیس: ملکی تاریخ کا اہم ترین مقدمہ؟

ان کا کہنا ہے ’عدالتی کارروائی شخصی بنیاد پر کی گئی۔ کیس کو عجلت میں نمٹایا گیا ہے۔ افواجِ پاکستان توقع کرتی ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کو آئین پاکستان کے تحت انصاف دیا جائے گا۔‘

سیاسی جماعتوں کا ردعمل

دوسری جانب جہاں اپوزیشن کی جانب سے اس فیصلے خیرمقدم کیا گیا ہے وہیں وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد ہی موقف دیا جائے گا۔

تحریکِ انصاف کی رہنما اور وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے فیصلہ آنے کے بعد کہا ہے کہ 'حکومت اور اس کی قانونی ٹیم اس فیصلے کو دیکھے گی، اس کا جائزہ لے گی۔

’ہم اس فیصلے کے سیاسی، قانونی اور قومی مفاد پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیں گے اور اس کے بعد حکومتی اس حوالے سے اپنا بیانیہ میڈیا کے سامنے رکھے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کل وطن واپس لوٹ رہے ہیں اور وہ خود زمینی حقائق اور متعلقہ قوانین دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔

تاہم پاکستان تحریک انصاف کے ہی رہنما اور وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’وقت کے تقاضے ہوتے ہیں۔ ملک کو جوڑنے کی ضرورت ہے ایسے فیصلے جس سے فاصلے بڑھیں، تقسیم بڑھے قوم اور ادارےتقسیم ہوں ان کا فائدہ۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مسلسل کہہ رہے ہیں کہ گفتگو کی ضرورت ہے۔ ’نیو ڈیل کی طرف جائیں ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا کسی کے مفاد میں نہیں، ملک پر رحم کریں۔‘

خیال رہے کہ فواد چوہدری ماضی میں پرویز مشرف کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما اور ترجمان رہ چکے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی جماعت عوامی مسلم لیگ کے رہنما شیخ رشید کے نجی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پرحکومتی ردِ عمل وزیر اعظم کی واپسی پر دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ 'پورے ملک میں کوئی ایک شخص ایسا نہیں جو یہ کہے کہ مشرف کرپٹ تھا جبکہ یہ سیاستدان کرپٹ ہیں۔ جو بھی مناظرہ کرنا چاہتا ہے آئے میں پرویز کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہوں۔'

پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے پریس ریلیز جاری کیا گیا ہے جس میں فیصلے کی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ایپل کی جائے گی اور جماعت قانونی ماہرین سے رابطے میں ہے اور مستقبل کے لائحہ عمل کو طے کیا جائے گا۔

پارٹی بیان میں کہا گیا ہے کہ متعدد بار پرویز مشرف کی استدعا کے باوجود کہ ان کی غیر موجودگی میں فیصلہ نہ دیا جائے عدالت نے انھیں دفاع کا حق نہیں دیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم خصوصی عدالت کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں خاص طور پر ایسے وقت میں جب پرویز مشرف جان لیوا مرض سے لڑ رہے ہیں۔‘

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنی جماعت کا یہ نعرہ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ جیے بھٹو۔‘

پارٹی کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز نے اس فیصلے پر کہا ہے کہ ’مشرف کا دور بہت متنازعہ رہا: بےنظیر کی شہادت ہو یا اکبر بگٹی کا قتل، اب عوام ان تمام معاملات کی بھی وضاحت چاہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس فیصلے کو جمہوریت کے لیے خوش آئند سمجھتے ہیں۔ اب کوئی طالع آزما اور آمر ملک کے آئین کو توڑنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ یہ فیصلہ ملک میں جمہوریت اور انصاف کو فروغ دے گا۔‘

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد ملک میں آئین توڑنے کی روایت ختم ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر یہی فیصلہ آج سے50 برس قبل عدالتیں دے دیتیں تو ملک پر کبھی بھی مارشل لا کی نحوست نہ پڑتی اور کبھی مشرقی پاکستان ہم سے جدا نہ ہوتا۔‘

جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ ’خصوصی عدالت نے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کو غداری مقدمہ میں آرٹیکل چھ کے تحت سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا،یہ آئینی اور جمہوری پاکستانی تاریخ کا تاریخ ساز فیصلہ ہے۔ ریاست کا نظام آئین کے مطابق چلے، سب آئینی حدود کی پابندی کریں، کوئی بھی ایڈونچر کے لیے آئین سے انحراف نہ کرے۔‘

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ثنا بلوچ نے کہا ہے کہ پروریز مشرف کو یہ سزا ملنا ایک علامت ہے۔

انھوں نے دنیا میں مختلف سربراہوں کو ملنے والی سزاؤں کا حوالہ ریتے ہوئے کہا کہ ’اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ ایک شخص کو سزا دیتے ہیں۔ یہ علامت ہوتی ہے یہ آئین اور کی بالادستی کے لیے ہوتا ہے اور لوگوں کو یہ بارآور کروانے کے لیے کہ آئین سب سے بالا تر ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پرویز مشرف کے سابق وکیل اختر شاہ نے فیصلے کے بعد عدالت کے باہر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’ہم کسی کو نہیں چھوڑیں گے ہم، اس کے خلاف قانونی ایکشن لیں گے۔ ملک میں ریفرنڈم ہونا چاہیے کہ تین نومبر کو مشرف نے جو ایکشن لیا تھا کیا وہ ٹھیک تھا یا نہیں تھا۔۔۔‘

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما انجینئیر زمرک خان اچکزئی نے کہا ہے کہ عدالت نے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے اور ہم اس کے ساتھ ہیں۔

’اس فیصلے کے بعد کل کوئی اور بھی ڈکٹیٹر نھیں اٹھک گا جو آئین کو توڑنے کی بات کرے۔ عدالت کے فیصلے کو پوری دنیا اور پاکستان میں اچھی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ اس نے انصاف کے تقاضے پورے کیے ہیں۔

دفاعی تجزیہ نگار ایئر مارشل ریٹائرڈ شاہد لطیف نے اس فیصلے کو پاکستان کی تاریخ کے افسوس ناک دن سے تعبیر کیا ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ مدعا علیہ کو سنے بغیر فیصلہ دیا گیا۔ اس کیس میں مشرف کو الگ رکھا جانا نواز شریف اور چوہدری افتخار کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی بارے میں