پرویز مشرف کا سزائے موت کے فیصلے پر ردعمل: ’مجھے اور نہ ہی میرے وکیل کو دفاع کی اجازت ملی‘

تصویر کے کاپی رائٹ APML

پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کی جانب سے موت کی سزا سنائے جانے کے بعد اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اس طرح کے فیصلے کی مثال نہیں ملتی جہاں مدعی اور نہ اس کے وکیل کو دفاع میں بات کرنے کی اجازت ملی ہو۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی اور سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے منگل کو اپنے فیصلے میں انھیں سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔

پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت نے آئین شکنی اور سنگین غداری کے مقدمے میں جو فیصلہ سنایا ہے وہ پہلی بار انھوں نے ٹی وی پر سنا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے فیصلے کی مثال نہیں ملتی کہ مدعی اور نہ اس کے وکیل کو اجازت ملی ہو کہ وہ دفاع میں بات کر سکیں۔

اس بارے میں

مشرف کو سزا دینے سے مارشل لا کا راستہ رک جائے گا؟

مشرف کو سزائے موت: ’افواج پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے‘

’پارلیمان پرویز مشرف کی سزا پر عمل درآمد رکوا سکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی فوج اور عوام کے شکر گزار ہیں جنھوں نے ان کی خدمات کو یاد رکھا

پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ 'میں نے یہاں تک کہا تھا کہ سپیشل کمیشن یہاں آ کر میرا بیان لے جائے، میں تیار ہوں لیکن اس کو بھی نظر انداز کیا گیا'۔

یاد رہے دسمبر کے اوائل میں دبئی کے ایک ہسپتال سے جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ آئین شکنی اور سنگین غداری کے مقدمے میں ان کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے کمیشن ان کے پاس آئے اور یہ بھی دیکھ لے کہ ان کی طبیعت کیسی ہے۔

فیصلے کے بعد اس تازہ ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ 'میں اس فیصلے کو مشکوک اس لیے کہتا ہوں کیوں کہ اس میں شروع سے لے کر آخر تک قانونی کی بالادستی کا خیال نہیں رکھا گیا'۔

پرویز مشرف نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ 'کچھ لوگوں کی میرے خلاف ذاتی عداوت کی وجہ سے یہ کیس سنا گیا اور ایک فرد واحد کو ٹارگٹ کیا گیا، اور ان لوگوں نے ٹارگٹ کیا جو اونچے عہدوں پر فائز ہیں اور اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہیں'۔

انھوں نے کہا کہ وہ پاکستانی عدلیہ کا بہت احترام کرتے ہیں اور ’چیف جسٹس کھوسہ نے خود کہا کہ وہ قانونی کی بالادستی میں یقین رکھتے ہیں اور اس پر میں بھی یقین رکھتا ہوں'۔

لیکن ساتھ ہی پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سے متعلق میڈیا پر چلنے والے ایک ایسے بیان کو دہرایا جس کی سپریم کورٹ بدھ کو تردید کر چکی ہے۔

سپریم کورٹ کے ترجمان کی طرف سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کو کوئی احکامات جاری نہیں کیے تھے۔

فوج اور عوام کا شکریہ

پرویز مشرف کا مزید کہنا تھا کہ وہ پاکستانی فوج اور عوام کے شکر گزار ہیں جنھوں نے ان کی خدمات کو یاد رکھا۔

انھوں نے کہا کہ 'یہ میرے لیے سب سے بڑا تمغہ ہے اور میں اسے اپنی قبر میں اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا'۔

پاکستانی فوج کے سابق سربراہ کو آئین شکنی کے جرم میں سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے اور یہ کہ خصوصی عدالت کے فیصلے پر افواجِ پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ 'جنرل پرویز مشرف نے 40 سال سے زیادہ پاکستان کی خدمت کی ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے ملک کے دفاع کے لیے جنگیں لڑی ہیں۔ وہ کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے'۔

پرویز مشرف نے کہا کہ وہ اپنا اگلا لائحہ عمل قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد طے کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں پاکستان کی عدلیہ پر اعتماد ہے کہ وہ انصاف دیں گے اور قانون کی بالادستی کو مدنظر رکھیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں