خصوصی عدالت کے تفصیلی فیصلے پر سوشل میڈیا ردِعمل: ’ڈی چوک پر مشرف کی لاش لٹکانے والا جملہ پورے فیصلے پر بھاری پڑے گا‘

نوس

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو آئین شکنی پر سزائے موت سنانے والی خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس سیٹھ وقار نے تفصیلی فیصلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو گرفتار کرنے اور سزا پر عملدرآمد کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اگر وہ مردہ حالت میں ملیں تو ان کی لاش اسلام آباد کے ڈی چوک لائی جائے جہاں اسے تین دن تک لٹکایا جائے۔

تفصیلی فیصلے کے دیگر نکات سے زیادہ یہی بات پاکستان کے سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔

سوشل میڈیا پر ’ڈی چوک‘ صفِ اول کے ٹرینڈز میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ #MusharafVerdict اور #پیرا نمبر66 بھی ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں صارفین فیصلے پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پرویز مشرف غدار یا ہیرو، سوشل میڈیا پر بحث

’لفظ غدار کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے آج پتا تو چل گیا ہو گا‘

مشرف کو سزائے موت: ’افواج پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے‘

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ ’افتخار چوہدری کی بحالی کے نتیجے میں ایسے لوگ بھی جج بن گئے جن کی اہلیت اور علم پر سنجیدہ سوالات ہیں، آگ سے کھیلنے کے شوقین حضرات کو علم ہی نہیں کہ جل بھی سکتے ہیں، نہ لفظ چننے کی اہلیت نہ بیان کا سلیقہ۔۔ یہ ریت نئی نہیں لیکن تاریخ کا سبق ہے کہ کوئی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتا۔‘

فواد چوہدری کے برعکس صحافی زیب النسا برکی کا کہنا تھا کہ فیصلے میں جو بھی ’پاگل پن‘ ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ مشرف کو غداری کی سزا نہ دی جائے۔ جو چیز ناقابلِ معافی ہے وہ یہ کہ کس طرح ان چند سطروں نے اصل معاملے سے توجہ ہٹا دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@zburki

ڈاکٹر کرم مغل کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے 72 سال کے مسائل کا حل صرف ایک پیراگراف میں...` تاہم صحافی سرل المیڈا نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ججز، آپ بہت آگے نکل گئے۔۔۔ چوکوں میں لاشیں لٹکانا طالبان کا وطیرہ رہا ہے۔‘

مبشر خان کہتے ہیں ’کسی انسان کی لاش کی بےحرمتی کرنا آئین اور قانون سے ماورا تو ہے ہی، ہمارا مذہب بھی ہمیں کسی لاش کی بے حرمتی سے واضح طور پر منع کرتا ہے۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے فیصلے کے دور رس اور بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔‘

احمد نورانی کی رائے میں ’سیٹھ وقار اگر غدار مشرف کی لاش کو گھسیٹ کر ڈی چوک لانے اور تین دن تک لٹکائے رکھنے والی بات نہ بھی لکھتے تو بھی فیصلے پر عملدرآمد ہو جانا تھا، پاکستان کا آگے بڑھنا آمرانہ قوتوں کو پیچھے دھکیلنےاورانہیں نشانِ عبرت بنانےمیں ہی ہے، اگرایسا نہ ہوسکا تو پاکستان آگے چل ہی نہیں سکتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ @Ahmad_Noorani

زرتاج چوہدری چاہتی ہیں جس جج نے یہ فیصلہ دیا ہے ’ان کے بارے میں انکوائری ہونی چاہیے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سینیٹر شیری رحمان نے لکھا کہ ’کوئی بھی عوامی سطح پر بربریت کی یا لاش کی بے حرمتی کی حمایت نہیں کر سکتا۔ لیکن وہ عملی طور پر نہیں ہو سکتا کیونکہ دوسرے جج نے اس کی مخالفت کی ہے۔ پیرا نمبر 66 مضمون کو مکمل طور پر تبدیل کرتا ہے، سخت زبان میں بحث کو الجھایا گیا ہے۔ اب کوئی بھی آئین کے تقدس اور قانون کی حکمرانی کی بات نہیں کر رہا‘۔

اعظم آفریدی کے مطابق ’اس سے یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ اس فیصلے سے ادارے کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ پورا فیصلہ بغض اور عناد سے بھرا ہوا ہے جو ردی کی ٹوکری میں جائے گا۔‘

صحافی محمل سرفراز کا کہنا ہے ’ جسٹس وقار سیٹھ کے حکم یا الفاظ پر بحث کرتے ہوئے یہ مت بھولیے کہ مشرف قانون کے مجرم ہیں۔ وہ آئین کو پامال کرنے کے مجرم ہیں۔‘

عفت حسن رضوی کہتی ہیں ’لگتا ہے ڈی چوک پر مشرف کی لاش لٹکانے والا جملہ پورے فیصلے پر بھاری پڑے گا. اب بات صرف آئین شکنی کی سزا سنانے تک نہیں رہی۔ ردِ عمل کا انتظار کیجیے!‘

تصویر کے کاپی رائٹ @IffatHasanRizvi

عمالقہ حیدر کہتی ہیں ’تین دن تک لاش کا ڈی چوک پے لٹکانے کا کہنا صاف ظاہر کرتا کہ جج کو کوئی ذاتی رنجش یا بغض ہے مشرف سے۔‘

زیب النسا برکی کہتی ہیں ’اس فیصلے سے مجھے اس وقت کی یاد آتی ہے جب سیریل کلر جاوید اقبال کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔ مجھے پوری طرح تو یاد نہیں ہے لیکن میرے خیال میں وہاں کی ذیلی عدالت نے اس شخص کو کیسے مارا جائے اس بارے میں کچھ انتہائی نوعیت کی ہدایات جاری کی تھیں۔‘

اسی بارے میں