پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ: ’ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے‘

پرویز مشرف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مشرف کو خصوصی عدالت نے موت کی سزا سنائی ہے

پاکستان بار کونسل نے پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کی نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ اس کو مسترد کرتے ہیں۔

جمعرات کی شام پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی شیر محمد خان اور نائب چیئرمین سید امجد شاہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بار کونسل ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے اس بیان کو رد کرتی ہے، جس میں انھوں نے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر سنگین غداری کے مقدمے میں اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف سے متعلق 17 دسمبر کو جو مختصر فیصلہ آیا تھا اس کے ردعمل میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا تھا، آج کے تفصیلی فیصلے سے وہ خدشات صحیح ثابت ہو رہے ہیں۔

مختصر فیصلے کے بعد پاکستانی پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے اور یہ کہ خصوصی عدالت کے فیصلے پر افواجِ پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے۔

پاکستان بار کونسل کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ہماری یہ پختہ رائے ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان آئین اور قانون کی واضح خلاف ورزی ہے اور یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’جج ان فٹ ہیں، حکومت جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرے گی‘

مشرف مردہ حالت میں ملیں تو لاش ڈی چوک پر لٹکائی جائے: جسٹس وقار

مشرف کو سزائے موت: ’افواج پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اگر ڈی جی آئی ایس پی آر کی رائے میں مشرف کے خلاف فیصلے میں کوئی خامی تھی تو قانون طریقہ کار اور راستہ فراہم کرتا ہے جس کو اختیار کر کے ان خامیوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے جس میں اعلیٰ عدلیہ میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے اور آئینی درخواست بھی دی جا سکتی ہے لیکن جس انداز میں فوج کے ایک اہلکار نے عدلیہ کے فیصلے پر تنقید کی ہے اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ملک کے تمام ادارے فوج کے زیرِنگیں ہوں، اس کے احکامات پر چلتے ہوں اور عدلیہ سمیت کسی ادارے کی کوئی عزت نہ ہو‘۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وفاقی حکومت، اس کے وزرا، اٹارنی جنرل اور قانونی مشیران کی طرف سے جو رویہ اختیار کیا گیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران جماعت کو فوج نے اقتدار پر بٹھایا ہو اور یہ ادارہ ہی ملک چلا رہا ہو اور اسی وجہ سے وہ ایک ہی لب و لہجے میں عدلیہ کے فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں۔‘

بیان کے آخری حصے میں ایک مرتبہ پھر فوج کے افسر اور حکومتی اہلکاروں کے رویے پر تنقید اور اس کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’عدلیہ اور انصاف کی فراہمی کے آئینی طریقہ کار کی تضحیک قرار دیا گیا ہے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کی تفصیل

اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویر مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے تفصیلی فیصلہ سنائے جانے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر وزیر اعظم عمران خان اور فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان مشاورت ہوئی ہے اور چند اہم فیصلے کیے گئے ہیں جن کا اعلان حکومت کرے گی۔

جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب میں پاکستانی فوج کے ترجمان جنرل آصف غفور نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ملک اور ادارے کی عزت اور وقار کا ہر قمیت پر تحفظ کیا جائے گا۔

آصف غفور نے کہا کہ فیصلے میں استعمال کیے گئے الفاظ انسانیت، مذہب، تہذیب اور تمام اقدار کے خلاف ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف سے متعلق 17 دسمبر کو جو مختصر فیصلہ آیا تھا اس کے ردعمل میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا تھا، آج کے تفصیلی فیصلے سے وہ خدشات صحیح ثابت ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ آج کے فیصلے بالخصوص اس میں استعمال کیے گئے الفاظ انسانیت مذہب، تہذیب اور کسی بھی اقدار کے خلاف ہیں۔

’افواج پاکستان ایک منظم ادارہ ہے۔ ہم ملکی سلامتی کو قائم رکھنے اور اس کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے حلف بردار ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’ایسا ہم نے پچھلے بیس سال میں عملی طور پر کر کے دکھایا ہے۔ وہ کام جو دنیا کا کوئی ملک کوئی فوج نہیں کر سکی وہ صرف پاکستان نے، افواج پاکستان نے اپنی عوام کی سپورٹ کے ساتھ حاصل کیا۔

انھوں نے کہا کہ ہم آج ہائبرڈ وار کا سامنا کر رہے ہیں۔

’ہمیں اس بدلتی ہوئی نیچر اینڈ کریکٹر آف وار کا بھرپور احساس ہے، اس میں دشمن اس کے سہولت کار، آلہ کار ان کا کیا ڈیزائن ہو سکتا وہ کیا چاہتے ہیں ان سب کی بھی ہمیں سمجھ ہے۔ جہاں دشمن ہمیں داخلی طور پر کمزور کرتے رہے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب جو بیرونی خطرات ہیں ان کی جانب سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

’آپ نے کل دیکھا ہو گا کہ انڈین آرمی چیف نے کیا بیان دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں چند لوگ اندرونی اور بیرونی حملوں سے ہمیں اشتعال دلاتے ہوئے آپس میں بھی لڑانا چاہتے ہیں۔

’اس طریقے سے پاکستان کو شکست دینے کے خواب بھی دیکھ رہے ہیں ایسا انشااللہ نہیں ہو گا۔ اگر ہمیں خطرے کا پتہ ہے تو ہمارا ردعمل بھی اِن پلیس ہے۔‘

' جو موجودہ ڈیزائزن دشمن قوتوں کا چل رہا ہے اس کو بھی سمجھتے ہوئے اس کا مقابلہ کریں گے۔'

ڈی جی آئی ایس پی آر نے آرمی چیف کے گذشتہ روز ایس ایس جی ہیڈ کوارٹر کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک خاندان ہے، ہم عوام کی افواج ہیں۔

'ہم ملک کا دفاع بھی جانتے ہیں اور ادارے کی عزت اور وقار کا دفاع بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ لیکن ہمارے لیے ملک پہلے ہے ادارہ بعد میں ہے۔ آج اگر ملک کو ادارے کی قربانیوں، پرفارمنس اور ہماری یکجہتی کی ضرورت ہے تو ہم دشمن کے ڈیزائن میں آ کر ان چیزوں کو خراب نہیں ہونے دیں گے۔۔۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں