سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے دور میں کیے گئے اہم فیصلوں پر ایک نظر

جسٹس آصف سعید کھوسہ تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan

جسٹس آصف سعید کھوسہ پاکستان کے 26ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے آج اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ بحیثیت چیف جسٹس اور بطور جج سپریم کورٹ اُنھوں نے بہت سے اہم فیصلے کیے جو شاید ان کے پیش رو بھی نہیں کر سکے تھے۔ اپنے فیصلوں میں اُنھوں نے ان طبقوں کے بارے میں بات کی ہے جو پاکستانی معاشرے میں بااثر اور طاقتور سمجھے جاتے ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کے فیصلوں میں توہینِ مذہب کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی کا فیصلہ بھی شامل ہے۔

اپنی ریٹائرمنٹ سے تین ہفتے قبل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت اور پھر اس میں توسیع سے متعلق دائر درخواست کو از خود نوٹس میں تبدیل کرتے ہوئے کچھ ایسی ہدایات دے دی ہیں جو قانونی ماہرین کے بقول مستقبل میں اس عہدے پر تعیناتی اور توسیع کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیے

’ایک دانشور جج‘ نے چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا

کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آئین سے فٹبال کھیلیں: چیف جسٹس

جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع

اس عدالتی فیصلے پر بھی وکلا کی رائے منقسم ہے اور مخالف دھڑے کا کہنا ہے کہ جب کوئی قانون موجود ہی نہیں تو حکومت کو قانون سازی کے لیے اتنا وقت دینا اور آرمی چیف کو چھ ماہ کی مشروط توسیع دینا خلافِ قانون ہے۔

اس سے پہلے پاکستانیوں کی اکثریت کو اس بارے میں معلومات تک نہیں تھیں کہ کسی بھی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق ملک میں سرے سے کوئی قانون موجود ہی نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اگر ایک اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی بات کریں تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اگرچہ سنہ 1999 میں اس وقت کے فوجی آمر پرویز مشرف کے پہلے عبوری حکمنامے کے تحت حلف لیا تھا، لیکن تین نومبر سنہ 2007 میں لگنے والی ایمرجنسی کے بعد وہ اعلیٰ عدلیہ کے ان ججوں میں شامل تھے جنھوں نے پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف لینے سے انکار کیا اور اس پاداش میں اُنھیں گھر میں نظربند بھی کر دیا گیا۔

پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں دو مختلف بینچز نے ریٹائرڈ آرمی چیف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کے حوالے سے خصوصی عدالت کو غیر ضروری تاخیر نہ کرنے کا بھی حکم دیا۔

اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے جسٹس کھوسہ نے ایک تقریب کے دوران وزیر اعظم کو اس تقریر کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا جس میں عمران خان نے عدلیہ کو طاقتور اور کمزور آدمی میں فرق کرنے کا طعنہ دیا تھا۔

اسی تقریب میں اُنھوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا نام لیے بغیر ان کے انداز میں اپنی بازوؤں کے مسلز دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ ان (مشرف) کے خلاف بھی جلد فیصلہ آنے والا ہے اور پھر ایسا ہی ہوا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ ہو یا پرویز مشرف کو آئین شکنی کے مقدمے میں خصوصی عدالت کی طرف سے سنائی گئی موت کی سزا، ان دونوں معاملوں میں سوشل میڈیا پر اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو اگرچہ سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں ان کی سفارشات کی روشنی میں ہی اس وقت کے صدر رفیق تارڑ نے لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا تھا لیکن وہ لاہور ہائی کورٹ کے مستقل جج اسی وقت بنے جب اُنھوں نے اس وقت کے فوجی آمر پرویز مشرف کے پہلے عبوری حکم نامے کے تحت حلف اُٹھایا تھا۔

ان کے پیش رو میاں ثاقب نثار کو بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دوسرے دور میں ہی لاہور ہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ ان بینچوں کا حصہ تھے جنھوں نے دو سابق وزرائے اعظم کو نااہل قرار دیتے ہوئے اُنھیں گھر بھیجا۔ ان وزرائے اعظم میں پاکستان پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی اور پاکستان مسلم لیگ نون کے میاں نواز شریف شامل ہیں۔

بینچ نے میاں نواز شریف کو نہ صرف وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹایا بلکہ ان کے اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب عدالت میں تین ریفرنس دائر کرنے کا بھی حکم دیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دہشت گردی کی از سر نو تعریف کرنے کے بارے میں حکومت کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سنہ1997 میں بہت سے ایسے واقعات کو شامل کیا گیا ہے جو دہشت گردی کی تعریف پر پورا نہیں اترتے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پولیس اصلاحات اور استغاثہ کو بہتر بنانے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے جھوٹے گواہوں کے خلاف بھی کارروائی کی جو اس سے پہلے سپریم کورٹ کی سطح پر نہیں کی گئی تھی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ چیف جسٹس آف پاکستان کی حیثیت سے اپنے ساتھیوں اور ماتحت عدلیہ کے کچھ ججز میں متنازع رہے ہیں۔

اس کی وجہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کارروائی کے لیے منظور کرنا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف ریفرنس میں ان کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan/IHC
Image caption اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی اور سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ

جس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت صدیقی کو ان کے عہدے سے فارغ کیا گیا اس وقت اگرچہ آصف سعید کھوسہ چیف جسٹس تو نہیں تھے لیکن جسٹس صدیقی کی برطرفی کا فیصلہ اُنھوں نے ہی تحریر کیا تھا۔

واضح رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر عدالتی معاملات میں مداخلت کا الزام لگانے پر عہدے سے فارغ کیا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس بیرون ممالک اپنے اثاثے ظاہر نہ کرنے کے بارے میں ہے۔ تاہم ان کے وکیل منیر اے ملک کا دعویٰ ہے کہ ان کے مؤکل کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی اصل وجہ ایک مذہبی جماعت کے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم میں واقع فیض آباد پر دھرنے کے بارے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے لکھا گیا فیصلہ ہے۔

پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور وکلا کے ایک دھڑے کی طرف سے اس صدارتی ریفرنس پر احتجاج اور اس کے سپریم کورٹ میں چیلنج ہونے کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ بطور چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل اس ریفرنس کا فیصلہ نہ کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SUPREME COURT OF PAKISTAN

جسٹس آصف سعید کھوسہ 21 دسمبر سنہ 1954 کو صوبہ پنجاب سے شہر ڈیرہ خازی خان میں پیدا ہوئے۔ اُنھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگلش لٹریچر کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے لندن سے کوئین کالج یونیورسٹی آف کیمرج سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی۔

سنہ 1979 میں لاہور ہائی کورٹ اور 1985 میں سپریم کورٹ کے وکیل کی حیثیت سے آصف سعید کھوسہ کا اندراج ہوا۔

آصف سعید کھوسہ چار کتابوں کے مصنف بھی ہیں، اس کے علاوہ اُنھوں نے 1973 کے آئین میں ہونے والی مختلف ترمیموں کو ایڈٹ کر کے دوبارہ ترتیب دیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کو سنہ 1998 میں لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا جبکہ سنہ 2010 میں اُنھیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔

جسٹس نسیم حسن شاہ، جسٹس آصف سعید کھوسہ کے سسر تھے۔ پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ سسر اور داماد پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے ہوں۔

جسٹس نسیم حسن شاہ اس بینچ کا حصہ تھے جس نے سابق فوجی صدر ضیا الحق کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک مقدمے میں موت کی سزا سنائی تھی۔

پاکستان کی عدالتی تاریخ کے اس متنازع فیصلے کو آج تک مختلف مقدمات کی سماعتوں کے دوران عدالتی نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں